’’یوریا کھاد کا مصنوعی بحران،کمپنیاں ملک میں کھاد کی ڈیمانڈپوری کرنے کی بجائے ایکسپورٹ کررہی ہیں‘‘ معروف کاشتکار میاں شاہد محمود

’’یوریا کھاد کا مصنوعی بحران،کمپنیاں ملک میں کھاد کی ڈیمانڈپوری کرنے کی ...
’’یوریا کھاد کا مصنوعی بحران،کمپنیاں ملک میں کھاد کی ڈیمانڈپوری کرنے کی بجائے ایکسپورٹ کررہی ہیں‘‘ معروف کاشتکار میاں شاہد محمود

  

لاہور(زرعی رپورٹر)’’ملک بھر میں کاشتکاروں کو بلیک میں مہنگی یوریا کھاد خرید کرفصلوں کی حفاظت کرنا پڑتی ہے جبکہ کھاد کمپنیاں ملک میں یوریا کھادکی مطلوبہ مقدار مہیا کرنے کی بجائے بیرون ملک ایکسپورٹ کرکے مصنوعی بحران پیدا کررہی ہیں‘‘کاہنہ نو کے ممتاز کاشتکارو بزنس مین میاں شاہد محمود نے ڈیلی پاکستان آن لائن کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا ہے کہ یہ کہاں کا اصول ہے کہ اپنے کاشتکاروں کو بھوکا مار کر دوسروں کا پیٹ بھرا جائے۔انہوں نے بتایا کہ یوریا کھاد کے ایک پیکٹ کی کنٹرول ریٹ قیمت ساڑھے تیرہ سو روپے ہے لیکن کاشتکاروں کو یہ پندرہ سو روپے میں ملتا ہے جبکہ کھاد ڈیلرزکی جانب سے ایک مہینہ پیشگی کمپنیوں کوآرڈر لکھوانے کے باوجود سپلائی نہیں دی جارہی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ابھی تک سپلائی نہ ہونے سے پنجاب بھر میں وئیر ہاوسز خالی پڑے ہیں اور کاشتکار کھاد کا انتظار کررہے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کمپنیوں کو مجبور کرے کہ سب سے پہلے لوکل ڈیمانڈ پوری کرنے کے بعد ہی وہ یوریا کھاد ایکسپورٹ کرسکتے ہیں ۔

مزید : کسان پاکستان