A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 56

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 56

Dec 14, 2017 | 15:09:PM

اس وقت تک ہاتھی نے چنگھاڑنا بند کر دیا تھا۔ شاید وہ بے چارے بائرا کو چیر نے پھاڑنے میں مصروف تھا۔ کیا وہ ہماری پارٹی پر بھی حملہ کر دے گا؟اگر ایسا ہوا تو صورت حال پہلے سے خوفناک تر ہو جائے گی۔ہر شخص خونخوار ہاتھی کے رحم و کرم پر ہو گا۔

اگلے ہی لمحے ہم نے اسے تلاش کر لیا۔ وہ چوکنا ہو کر پگڈنڈی پر کھڑا تھا۔ اس کے کان تیزی سے ہل رہے تھے اور وہ غصے سے گردن ادھرادھر موڑ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔

ہماری پارٹی جس قدر ممکن تھا، شور مچا رہی تھی۔ ہاتھی فیصلہ نہ کر سکا کہ کیا کرے۔وہ ہچکچاہٹ میں کھڑا رہا۔ آخر اس کے اعصاب جواب دے گئے اور بھاگ نکلا۔ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھ لیتا۔ راستہ چھوڑ کر بائیں طرف کی پہاڑی میں غائب ہو گیا۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 55  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم احتیاط سے آگے بڑھتے رہے۔ہمیں غریب بائرا کی ہڈیوں کی تلاش تھی تاکہ اس کی آخری رسوم ادا کی جا سکیں۔آہ!اس سادہ مزاج شخص نے ہمارے لیے اپنی زندگی قربان کر دی تھی۔ میرے سامنے اس کی موٹی اور ہر دم مسکراتی آنکھیں گھوم گئیں۔ہم ایک بڑے دائرے میں پھیل گئے۔پھر ہمیں ایک ہلکی سی آہ سنائی دی لیکن خود بائرا کہیں نظر نہ آیا۔ میرے تمام ساتھی تو ہم پرست تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بائرا کی روح آہیں بلند کر رہی ہے۔اس خیال سے وہ سہم گئے اور اگر مجھے ایک بار پھر بائرا کی چیخ سنائی نہ دیتی تو شاید توہم پرست پجاری واپسی کی راہ لیتے۔

میں اس آواز کی سمت بڑھا۔ ناگہاں ایک پتھر سے ٹھوکر لگی اور میں پیچھے کی طرف گر پڑا۔ اس طرح میری نظر چٹان کے اوپر پڑی۔ چوٹی پر بائرا کا ایک ہاتھ لٹک رہا تھا۔وہ وہاں کیسے پہنچا!کیا ہاتھی نے اسے اوپر پھینک دیا تھا؟

میں نے اپنے ساتھیوں کو خوش خبری سنائی کہ بائرا زندہ ہے۔اوپر چڑھے تو وہ زخمی پڑا تھا۔ ہاتھی نے اسے اٹھا کر جھٹکا تو وہ چٹان کی چوٹی پر جا گرا اور ہاتھی کی دسترس سے نکل گیا۔اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے باوجود اس کے ہونٹوں پر حسب معمول مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ ہم نے درختوں کی شاخوں سے اسٹریچر تیار کیا اور اس پر بائرا کو ڈال کر عیور بنگلے لے آئے۔ بنگلور کے ہسپتال میں داخل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے مجھے اس کے ساتھ خاصا دماغ کھپانا پڑا۔دو چار ماہ تک ہسپتال میں رہا اور پھر میں اسے واپس چھوڑ آیا۔

۔۔

انابدھالیہ کی بدروح

انا بدھالیہ کے لفظی معنی ہیں’’وہ گڑھا جس میں ہاتھی گر پڑا۔‘‘

تامل ناڈو کے ضلع سالم میں پناگرام کے قصبے کے شمالی جناب پہاڑی میں کمپیکا رائے کی بستی کے قریب سے ایک ندی نکلتی ہے۔یہ ندی آگے چل کر اچانک ایک مقام پر دو و سو فٹ کی بلندی سے نیچے گرتی ہے۔یہاں گرینا ئٹ کی چٹانیں ہیں۔ہزاروں سال سے پانی گرتے رہنے سے یہاں ایک گڑھا سا بن گیا ہے۔موسم برسات میں یہ گڑھا لبالب بھرا رہتا ہے مگر گرمیوں میں جب ندی خشک ہو جاتی ہے تو یہ تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔کسی شخص کو اس کی گہرائی کا علم نہیں۔شاید یہ تیس فٹ فٹ سے زیادہ گہرا ہوگا۔اس کے چاروں طرف سیدھی پتھریلی دیوارویں ہیں جن پر گھاس پھوس اور کائی جم گئی ہے۔اگر کوئی چیز گڑھے میں گر پڑے تو پھر باہر نہیں نکل سکتی۔

اس جگہ کا مخصوص نام پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں ایک ہاتھی پانی کی تلاش میں یہاں پہنچا۔ اس نے پانی پینے کے لیے تاباب میں سونڈ ڈالی مگر وہ پانی کی سطح تک نہ پہنچ سکی۔ پھر اس نے تھوڑے سے قدم بڑھاے اور یہی غلطی خوفناک ثابت ہوئی۔ زبردست شور بلند ہوا اور عظیم الجثہ جانور گڑھے کے اندر گر پڑا۔ ہاتھی بہترین تیراک ہوتے ہیں لیکن سوائے مچھلی کے اور کوئی مخلوق ہمیشہ کے لیے پانی میں نہیں تیر سکتی۔ بعض گاڑی بان قصبے کو جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے۔ ہاتھی کی چیخ پکار سن کر گاڑیاں روک دیں۔ جائے حادثہ پر پہنچے اور چٹان کے اوپر بیٹھ کر ہاتھی کی بے بسی کا تماشا کرنے لگے۔ یہ منظر اس قدر دلچسپ تھا کہ انہوں نے رات کے لیے وہیں ڈیرہ ڈال لیا اور آگ جلا کر بیٹھ گئے تاکہ جنگلی جانور دور رہیں۔

ہاتھی نے باہر نکلنے کی ہر چند کوشش کی مگر بے سود۔ گاڑی بانوں نے یہ ستم ڈھایا کہ بڑے بڑے پتھر لڑھکا کر اسے پانی میں ڈبودیا۔ چودہ دن بعد وہ پانی کی سطح پر نمودار ہوا تو پھول کر کپا سا بن گیا تھا اور بدبو کے بھبکے اٹھ رہے تھے۔ ایک طویل عرصے تک کوئی جانور اس گڑھے کے قریب نہ پھٹکا۔ پورے تیس سال کے بعد ایک شیر انسانی شکار کی تلاش میں گھومتا پھرتا پھر اس گڑھے میں آگرا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔اصل قصہ یہ ہے کہ اس علاقے میں شیروں نے بہت کم رہائش اختیار کی۔ یہ علاقہ انگریزی حرف یو سے مشابہت رکھتا ہے۔نچلا مقام دریائے چنار کی گزر گاہ ہے۔آگے چل کر یہ دریائے کاویری میں جا گرتا ہے۔ایک طرف سے وہ ندی آتی ہے جس کے راستے میں انابدھالیہ کا گڑھا واقع ہے اور وہ سات میل کے فاصلے پر دریائے چنار میں شامل ہو جاتی ہے۔

شیروں کا معمول تھا کہ وہ دریائے کاویری تیر کر عبور کرتے اور دریائے چنار تک ہرن، سانبھر اور سور کا شکار کرت بڑھتے چلے جاتے۔راستے میں پاناپتی اور فتور کے اکا دکا مویشی بھی اٹھا لے جاتے۔پھروہ شمال کی طرف مڑتے اور انابدھالیہ ندی کے کنارے ہو لیتے۔سات میل کے سفر کے بعد وہ ایک اور ندی تلوا دی کے کنارے پہنچے۔

آوارہ گرد شیر ہمیشہ یہی راستہ اختیار کرتے۔کبھی کوئی شیر مخالف سمت سفر کرتا نظر نہ آیا۔ میں کئی سال تک اس علاقے میں گھومتا پھرتا رہا اور ہمیشہ یہی دیکھا۔ اس علاقے میں صدیوں بودوباش رکھنے والے پجاریوں کا مشاہدہ بھی یہی تھا۔ یہ جنگل ایک ایسا اسرار ہے جس کی کوئی تشریح نہیں کی جاسکتی۔بہرحال یہ درندے کبھی نقصان دہ ثابت نہ ہوئے۔کبھی کبھار وہ مویشیوں کے گلے پر حملہ کرتے اور وہ بھی صرف اس صورت میں جب جنگلی جانوروں کا شکار انہیں میسر نہ آتا۔

انابدھالیہ کی روح اس اصول سے مستثنیٰ نہ تھی۔ یہ ایک شیرنی تھی جو ہر چار پانچ ماہ کے بعد شکار پر نکلتی۔کاویری کے کنارے بسنے والے لوگوں نے مجھے بتایا کہ شیرنی ڈیڑھ ماہ میں اپنا سفر مکمل کرتی۔اس کا مسکن دریائے کاویری کے کنارے تھا جہاں بلند و بالا پہاڑ اوپر اٹھتے چلے گئے ہیں۔(جاری ہے )

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 57 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں