دوسرے شہر میں موجود آدمی کے باپ نے رابطہ کرنا چھوڑ دیا، 6 ماہ گزرنے پر بھی ماں نے اس کے بارے میں کچھ نہ بتایا تو ایک دن کھڑکی سے گھر میں داخل ہوگیا، اندر اس کا باپ کس حالت میں تھا؟ یہ تو کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتا تھا کہ۔۔۔

دوسرے شہر میں موجود آدمی کے باپ نے رابطہ کرنا چھوڑ دیا، 6 ماہ گزرنے پر بھی ماں ...
دوسرے شہر میں موجود آدمی کے باپ نے رابطہ کرنا چھوڑ دیا، 6 ماہ گزرنے پر بھی ماں نے اس کے بارے میں کچھ نہ بتایا تو ایک دن کھڑکی سے گھر میں داخل ہوگیا، اندر اس کا باپ کس حالت میں تھا؟ یہ تو کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتا تھا کہ۔۔۔

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انسان قدرت کی حساس ترین مخلوقات میں سے ایک ہے، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کبھی کبھار یہی انسان ایسا سفاک ہوجاتا ہے کہ وحشی درندوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ امریکی ریاست ہوائی سے تعلق رکھنے والی خاتون مارسیا یوبینک بھی درندگی کی ایک ایسی ہی مثال ہے جس نے اپنے خاوند کو قتل کرنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کر کے اپنے گھر میں ہی رکھ چھوڑے۔

اس لرزہ خیز قتل کا انکشاف اس وقت ہوا جب چھ ماہ تک باپ سے رابطہ نا ہونے پر دوسرے شہر میں مقیم بیٹا اس کی خبر لینے گھر آن پہنچا۔ جب وہ گھر آیا تو اس کی ماں وہاں موجود نا تھی اور نا اس سے کوئی رابطہ ہو رہا تھا۔ بالآخر وہ دیوار کے ساتھ سیڑھی لگا کر ایک کھڑکی سے اندر داخل ہوا، لیکن ایک ایسی بھیانک بدبو نے اس کا استقبال کیا کہ جسے سونگھتے ہی وہ لرز اٹھا ۔ اندر ایک کمرے میں پڑے ڈبوں پر کیڑے جمع تھے اور انہی میں سے بدبو اٹھ رہی تھی۔ جب اس نے ایک ڈبے کو کھول کر دیکھا تو اس میں گلتے سڑتے انسانی اعضاءدیکھ کر اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ اس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع کی اور کچھ ہی دیر بعد سمٹ کاﺅنٹی پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

’2 سال تک میں ماں بننے کی کوشش کرتی رہی لیکن کامیاب نہ ہوئی، لیکن پھر یہ کام کرتے ہی کامیابی مل گئی‘

جب پولیس نے گوشت کے گلے سڑے ٹکڑوں کا تجزیہ کروایا تو تصدیق ہو گئی کہ یہ انسانی گوشت ہی تھا، اور ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ گوشت مارسیا کے بدنصیب شوہر ہاورڈ یوبینک کا تھا۔ بعدازاں تفتیش کے دوران ملزمہ نے اعتراف کرلیا کہ اس نے اپنے خاوند کو دو گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر برقی آرے سے اس کے جسم کو ٹکڑوں میں کاٹا۔ جسم کے ٹکڑے کرنے کے بعد اس نے انہیں پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کرکے ڈبوں میں ڈال دیا، اور اگلے چھ ماہ تک یہ ڈبے اس کے گھر میں ہی پڑے رہے۔ چھ ماہ بعد بھی متفکر بیٹا باپ کی خبر لینے نا آتا تو نجانے کب تک اس لرزہ خیز جرم پر پردہ پڑا رہتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس