قانون سازی کے لئے افہام و تفہیم!

قانون سازی کے لئے افہام و تفہیم!

  

وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت کے ذمہ دار حضرات سے کہا ہے کہ وہ قانون سازی کے عمل کو تیز کریں۔ چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع اور الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کے لئے افہام و تفہیم سے کام لیں، معاصرین کی خبروں کے مطابق تحریک انصاف کی کورکمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے دیگر امور کے علاوہ قانون سازی کے عمل پر بھی بات کی،وزیراعظم نے قانون سازی کا عمل سست ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے تیز ہونا چاہیے کہ طعنہ زنی نہ ہو۔وزیراعظم کی یہ ہدایت قابل قدر ہے کہ پارلیمانی جمہوریت تو نام ہی افہام و تفہیم کا ہے، اس میں پارلیمنٹ ہی اہم ادارہ ہے جہاں حزب اقتدار اور حزب اختلاف باہمی افہام و تفہیم سے نہ صرف قانون سازی کا عمل آسانی سے کرتی ہیں بلکہ تمام عوامی مسائل کا بھی حل ہوتا ہے،پارلیمانی کارروائی میں تو وقفہ سوالات ہی بہت اہمیت کا حامل ہے اس کے دوران اہم تر عوامی مسائل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں اور حکومت جواب دہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کارروائی مل کر ہی آگے بڑھائی جاتی ہے، تاہم بدقسمتی سے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران یہ پارلیمنٹ ایسا کوئی کام نہیں کر پائی، یہاں ”تعلقات کار“ ہی نہیں بن سکے۔ ”احتساب اور انتقام“ کی آوازیں ہی بلند ہوتی اور شور شرابا کیا جاتا رہا ہے۔ خود وزیراعظم نے بھی زیادہ توجہ نہیں دی کہ قائد ایوان کی موجودگی ہی کئی مسائل حل کر دیتی ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ اب وزیراعظم ہی کو احساس ہوا ہے۔توقع کی جانا چاہیے کہ اپوزیشن سے ”تعلقات کار“ کا سلسلہ شروع ہو گااور اہم امور پر قومی اتفاق رائے بھی پیدا کیا جائے گا۔ احتساب کا سلسلہ اپنی جگہ اور پارلیمان کی کارروائی اپنی جگہ چلتی رہنا چاہیے۔ اب اگر چیف آف آرمی سٹاف اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے ضرورت کا احساس ہوا ہے تو یہ دیگر تمام مسائل پر بھی محیط ہونا چاہیے اور ایوان میں اچھی فضا پیدا کی جائے جیسے بھارتی شہریت والے قانون کے حوالے سے قرارداد کی متفقہ منظوری سے ہوئی۔

مزید :

رائے -اداریہ -