زبانیں پھولوں میں تتلیوں سی اہمیت رکھتی ہیں

زبانیں پھولوں میں تتلیوں سی اہمیت رکھتی ہیں
زبانیں پھولوں میں تتلیوں سی اہمیت رکھتی ہیں

  

دنیا میں بہت سے ملک ہیں۔ ہر ملک،بلکہ ہر ملک کے اندر ہر علاقے میں اپنی ایک الگ ہی تہذیب، ایک الگ ہی طرز رہائش ہوا کرتی ہے۔ ہر ملک میں موسم بھی مختلف ہوتے ہیں، مگر دنیا میں بہت کم ایسے ملک ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو پوری دنیا میں منوایا ہو۔ ہر ملک ترقی کے لئے کوشاں ہے، مگر کامیابی ہر کسی کو جلد نصیب نہیں ہوتی۔ جب ہم پوری دنیا کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو بڑی آسانی سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ دنیا میں ان قوموں نے ہی سدا کامیابیاں حاصل کی ہیں جنہوں نے بحیثیت قوم اپنے آپ پر فخر کیا ہو۔ جنہیں اپنے وطن، اپنے رسم و رواج، اپنے مذہب ا ور اپنی زبان سے سچی محبت ہوتی ہے، وہ قومیں جو اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دیتی ہیں، ان کی نئی نسل بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں قریباً تیس مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جبکہ پوری دنیا میں اس وقت تین ہزار سے بھی زائد بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ہماری نئی نسل کو ایک عجیب خمار ہے جو جتنی زیادہ غیر ملکی زبان بول لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو اتنا ہی لائق سمجھتا ہے اور حقیقت بھی یہی نظر آتی ہے۔

آج ہمارے شہروں میں پروان چڑھنے والا طبقہ ایسے فر فر مکس اردو اور انگریزی بولتا ہے،جیسے یہ اس کی مادری زبان ہے۔ ایک وقت تھا جب بچوں کو سکولوں میں چھٹی جماعت سے انگریزی اور فارسی زبان پڑھائی جاتی تھی، جبکہ باقی تعلیم میٹرک تک قومی زبان، یعنی اردو میں دی جاتی تھی، مگر پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار نے ہماری نئی نسل سے مادری زبان کے ساتھ قومی زبان بھی چھین لی،کیونکہ اب بچوں کو نرسری سے ہی انگریزی زبان میں تعلیم دی جانے لگی ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے کہ وہ کیا کرے؟ انگریزی زبان میں ہم وہ مہارت حاصل نہیں کر سکتے جو ہم اپنی مادری زبان میں کر سکتے ہیں، کیونکہ بچے کو آسانی سے اور بہتر انداز میں تعلیم اس کی ماں بولی میں ہی دی جا سکتی ہے۔

ہم پنجاب میں رہنے والوں کے ساتھ تو یہ ظلم بھی ہوا ہے کہ ہمیں اپنی مادری زبان پنجابی میں تعلیم سکولوں میں بالکل ہی نہیں دی جاتی۔ بچپن سے ہی ہم میاں محمد بخش،بلھے شاہ، شاہ حسین، بابا فرید، سلطان باہوؒ اور وارث شاہؒ کو سنتے آئے ہیں،مگر یہ سب سننے کی حد تک ہی تھا۔ ہمیں چونکہ پنجابی زبان پڑھائی ہی نہیں گئی، اس لئے ہم آج اپنے ورثے کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل کو تو اردو میں گنتی بھی نہیں آتی۔ پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ نظامِ تعلیم ہی تو ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو مادری زبان کے ساتھ قومی زبان میں تعلیم دیں تو امید ہے کہ ہم بحیثیت قوم بہت جلد دنیا میں علم کی شمعیں روشن کر سکیں گے۔ انگریزی زبان کو بحیثیت ایک زبان ضرور پڑھایا جانا چاہئے، جیسے فارسی، عربی، چینی زبان اور دوسری جتنی زبانیں پڑھائی جا سکیں، مگر یہ سب زبانیں بطور ایک مضمون پڑھائی جائیں۔ ذریعہ تعلیم مادری اور قومی زبان ہی ہونا چاہئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال چالیس فیصد بچے میٹرک میں فیل ہو جاتے ہیں، جن میں سے اکثریت کی انگلش میں سپلی آئی ہوتی ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی قوم نے کبھی کسی موقع پہ اپنا مورال گرنے نہیں دیا۔قیام پاکستان سے ہی پاکستانی قوم بہت کچھ بھگت رہی ہے۔مسائل ہیں کہ کم توکیا ہوتے، بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ پاکستانی اداروں نے کبھی اپنا کردار بہتر انداز میں پیش ہی نہیں کیا۔وزیراعظمعمران خان ہمیشہ سے ملک میں ایک سا نظام تعلیم لانے کی باتیں کیا کرتے رہے ہیں۔سب کے لئے ایک ہی نصاب میں ایک سے مواقع سب کو ملنے لگیں تو ملک کے نوجوان بہت جلد اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو اپنا معترف بناسکتے ہیں۔عمران خان سے گزارش ہے کہ سارے ملک میں تعلیم قومی زبان میں دینے کا کریں۔ غریب بچے جو ہوٹلوں، کارخانوں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں، انہیں نہ صرف مفت تعلیم دی جائے،بلکہ ساتھ ہی ان کے والدین کی مناسب مالی امداد بھی جائے۔ آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک کے بہت سے بچے سکول نہیں جا رہے۔ چھوٹی عمر میں مزدوریاں کر کے گھر کا چولہا جلانے والے یہ ”چھوٹے“ اپنا بچپن جی ہی نہیں پاتے ۔انہیں کیا پتہ جب پھولو ں کے بیچ تتلی اڑتی ہے تو اس کو کیا اہمیت حاصل ہوتی ہے۔جب ساون کی گھٹا جم کے برستی ہے تو اس شور میں کیا موسیقی ہوتی ہے؟

مَیں حیران ہوں ابھی چند مہینے پہلے جب سیاستدانوں کو ووٹ چاہیے تھا تو سب سیاستدان علاقائی بولیوں میں بول رہے تھے،لیکن ووٹ حاصل کرنے کے بعد انہیں اردو میں بات کرنا بھی گوارا نہیں ہے۔اب تو یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ سیاست دانوں کا عوام سے رشتہ صرف ووٹ کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہمارے سیاست دان عوامی زبان میں بات کرتے ہیں، بعد میں اپنے آقاوؤں کو خوش کرنے کے لئے ان کی بولی بولنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی زبان تبھی فروغ پائے گی جب ہماری اشرافیہ اپنی زبان بولے گی، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنا کاروبار مملکت غلامی کی زبان میں چلا رہے ہیں؟یہ اعزاز صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ یہاں کے سیاست دان خود کو پڑھا لکھا سمجھنے کے لئے اپنے سابق مالکوں کی زبان بولتے ہیں، ان جیسے کپڑے پہنتے ہیں،انہی ملکوں کی شہریت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر دنیا کا کوئی ملک کسی بیرونی زبان میں اسمبلی کی کارروائی چلائے گا تو کیا وہاں کے عوام ان کو جوتے نہیں لگائیں گے؟

دنیا کا یہی دستور ہے کہ وہاں کے سیاست دان جس زبان میں بات کرکے ووٹ حاصل کر کے اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں، وہ اسی زبان میں قانون سازی کرتے ہیں اور اقوام عالم سے بھی اسی زبان میں مخاطب ہوتے ہیں۔ آج اس ملک کے عام لوگ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ جو سیاستدان اپنی زبان کی اہمیت کو نہ سمجھ سکیں، وہ عالمی طور پر اپنی وقار زبان کو کیا عزت دلوائیں گے؟ ایسے سیاست دان ہجوم کو قوم کیسے بنائیں گے؟ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے ملک، جن میں کوریا، جاپان، ترکی، ایران، جرمنی،بھارت،فرانس، روس، چین اور کئی دیگر ممالک انگریزی میں خطاب کیوں نہیں کرتے؟۔عمران خان صاحب آپ قومی لباس کو عزت دے رہے ہیں، آپ کو دیکھ کرملک کے بہت سے سیاست دان اور نوجوان نسل پاکستانی لباس پہننے لگی ہے۔وزیراعظم صاحب آپ نے اردو میں تقریر کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اسے جاری رکھیے گا۔قومیں ایسے ہی اقدامات سے مضبوط ہوتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -