سٹیٹ بینک کا ڈالر کی خریدو فروخت سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار، قائمہ کمیٹی کا اظہار برہمی 

سٹیٹ بینک کا ڈالر کی خریدو فروخت سے متعلق تفصیلات دینے سے انکار، قائمہ کمیٹی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سٹیٹ بینک نے ڈالر کی خریدو فروخت کی تفیصلات قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دینے سے انکار کر دیا،بینک ڈیفالٹر ز کی تعداد، مارک اپ کی شرح  اور حکومتی قرضے کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر کی خاموشی پر کمیٹی  آگ بگولہ ہوگئی، کمیٹی نے کہا کہ ڈپٹی گورنرکوسینیٹ کمیٹی اجلاسْ میں بلانے پر پابندی لگائی جائے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چئیرمین سینیٹر فارق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ  ملک میں 20 پرائیویٹ سیکٹرز کے بینک کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی گزشتہ چند سالوں میں نمایاں بہتر رہی ہے۔ستمبر 2018ء سے ستمبر 2019ء تک ان کے اثاثوں میں 17.18 فیصد اضافہ ہوا ان کے ذخائر میں 17.7 فیصد اور مارکیٹ شیئر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے چار سے پانچ سالوں میں ان کی کارکردگی میں کافی بہتری رہی ہے دوسری جانب سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ حقیقت اس بریفنگ کے برعکس ہے  ڈپٹی گورنر یہ بتائیں کہ بینک ڈیفالٹر کتنے ہیں؟  مارک اپ کی شرح پچھلے چند سالوں میں کیا تھی اور اب کیا ہے؟ سینیٹر طلحہ نے کہا کہ لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ کاروبار کی بجائے بینک میں رکھ کر مارک اپ حاصل کیا جائے، کمیٹی کو بتا یا جائے کہ حکومت کو تین سال پہلے کتنے قرض دیا اور اب کتنا قرض دیا جا رہا ہے مگر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے ان سوالات کے جوابات دینے کی بجائے موڈیز کی رپورٹ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم موڈیز رپورٹ کے مطابق بہتری کی طرف رواں دواں ہیں اس جواب پر سینیٹر طلحہ محمود نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کے لیے چئیرمین کمیٹی کو درخواست کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ سٹیٹ بنک پاکستان مارکیٹ سے کتنے ڈالر خرید رہا ہے؟ کمیٹی کو آگاہ کریں اور کمیٹی کے ممبران کو یہ بھی واضح کریں کہ سٹیٹ بینک ہفتہ وار دو کروڑ ڈالر مارکیٹ سے خرید کر اپنے ریزرو بحال رکھتا ہے جس پر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ نہیں ہوتا ان سوالات پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کمیٹی کو تفصیلات کا تبادلہ کرنے سے انکار کر دیا، کمیٹی کے ممبران سینیٹ سینیٹر سیّد شبلی فراز، سینیٹرز مشاہد اللہ خان، انوار الحق کاکڑ، میاں محمد عتیق شیخ نے ڈپٹی ڈائیریکٹر سٹیٹ بینک جمیل احمد کے اس روئیے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو درخواست کی کہ آئیندہ ڈپٹی گورنرجمیل احمد کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلانے پر پابندی عائد کی جائے جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ایجنڈے کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کیا جائے گورنر سٹیٹ بینک آئیندہ اجلاس میں سینیٹرز طلحہ محمو د، مشاہد اللہ خان اور میاں محمد عتیق شیخ کے سوالات پر کمیٹی کو خود آگاہ کریں گے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یونیورسٹی آف کوٹلی کے طلباء و طالبات نے شرکت کرتے ہوئے کمیٹی کی کارروائی بھی دیکھی۔ کمیٹی کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سیّد شبلی فراز، سینیٹرز مشاہد اللہ خان، انوار الحق کاکڑ، میاں محمد عتیق شیخ، محمد اکرم، دلاور خان اور قرۃ العین مری کے علاوہ سیکرٹری خزانہ نوید بلوچ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، ممبر کسٹمز ایف بی آر ڈاکٹر جاوید غنی، ڈپٹی ڈرافٹس مین وزارت قانون، ڈی جی سٹیٹ بنک آف پاکستان، ڈائریکٹر اسٹیٹ بنک آف پاکستا ن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سٹیٹ بینک

مزید :

صفحہ آخر -