پنجاب گروتھ سٹریجی کے تحت 25لاکھ ہنر مند تیار کرینگے: صوبائی وزیر صنعت

  پنجاب گروتھ سٹریجی کے تحت 25لاکھ ہنر مند تیار کرینگے: صوبائی وزیر صنعت

  

لاہور (لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب گروتھ سٹرٹیجی 2023 کے تحت 25 لاکھ بچے اور بچیوں کو فنی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔جس میں سے 35 فیصد حصہ ٹیوٹا کا ہے ٹیوٹا نے گروتھ سٹرٹیجی کے تحت 8 لاکھ 75 ہزار بچے اور بچیوں کو تربیت دینا ہے۔ٹیوٹا کے ادارے ہر سال 90 ہزار بچوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ہنر مند نوجوان پروگرام  کا افتتاح کل وزیر اعلی پنجاب کریں گے۔اورپروگرام کے تحت ہر سال مزید ایک لاکھ بچے اور بچیوں کو ہنر مند بنایا جائے گا۔صنعت کی ضروریات کے مطابق 56 نئے کورسز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔نوجوانوں کی تربیت کے بعد ملک اور بیرون ملک ان کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا ہونگے۔اس مقصد کے لئے وزارت خارجہ اور اوورسیز پاکستانز کمشین میں ڈیسک بنائے جارہے ہیں۔فنی تعلیم کے پروگراموں  میں بین الاقومی اداروں کا بھی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار ڈی جی پی آر آفس میں چیئرمین ٹیوٹا علی سلمان صدیق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ لمزاور ٹیوٹا کے مابین معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ابتدائی طور پر 30 بچوں کو تربیت کے لئے لمز یونیورسٹی بھجوایا گیا ہے۔اسی طرح اوبر کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایک ہزار بچوں کو تربیت دی گئی ہے اور یہ اوبر کے پلیٹ فام پر روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں ملائشین کمپنی ای کامرس کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے۔

اور یہ کمپنی طلبا کو 6 ماہ کا کورس کرائے گی۔مائیکروسافٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کے تحت آئندتین سالوں میں 50ہزار بچوں کو فنی تربیت دی جائے گی۔گھر پر ایپ کے ذریعے بیوٹیشنز کا کورس کرنے والی بچیوں کے لئے جاب کے مواقع پیدا ہونگے۔اپٹما کے ساتھ بھی آن جاب ٹرئینگ کے حوالے سے بات چیت ہوچکی ہے۔ہنر مندنوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا پروگرام بھی لارہے ہیں۔صوبائی وزیر نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز دل ہسپتال میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔یہ دن ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب پڑھے لکھے طبقے نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی قائد اعظم ایک وکیل تھے جنہوں نے کبھی تشدد کی بات نہیں کی۔نوجوان وکلاء کو قائد اعظم کی پیروی کرنی چاہیے۔کھلی بربریت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کسی کو انصاف نہ ملے تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ وہ 500 بندے لے کر عدالت پر چڑھ دوڑے۔کیمروں کی مدد سے تشدد کرنے والوں کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔جس نے بھی ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی ہے اور تشدد کا رویہ اپنایا ہے چاہے وہ وکیل ہو یا ڈاکٹر اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروئی ہوگی یہ ہی میر قائد عمران خان کا ویڑن اور سوچ ہے۔قانون کی نظر میں سب برابر ہے۔جس نے جو کیا وہ بھگتے گا۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وکلاء  کمیونٹی کا کہنا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کریں گے۔

اگر انہیں مال روڈ پر روکا جاتا تو شاید ایک نیا تماشا لگ جاتا کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہو اس لیے پولیس کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست نے زیادہ نقصان ہونے سے بچاؤ کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وکلاء  ہسپتال کا زبردستی گیٹ کھلو ا کر اندر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی،زیادہ نقصان کا خطرہ تھا۔ اْنہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کریں گے۔ حکومت کا کام کیس لے کر عدالت میں جانا ہے اور فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہے۔ چیئرمین ٹیوٹا علی سلمان صدیق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیوٹا کے وڑن کو تبدیل کیا گیا ہے، نئے جذبے اور نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جو ہمیں اہداف ملے ہیں اِنہیں حاصل کرنے کے لیے جان لڑا دیں گے۔اْنہوں نے کہا کہ نیا جاب پورٹل اور ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم بنا رہے ہیں تاکہ پتا چل سکے کہ ہمارے اداروں سے تربیت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی کھپت کس حد تک ہوئی ہے۔

مزید :

کامرس -