خطے میں بے چینی اور غصے کی بڑی وجہ بے روزگاری‘ رضا علی عابدی 

  خطے میں بے چینی اور غصے کی بڑی وجہ بے روزگاری‘ رضا علی عابدی 

  

ملتان(اے پی پی)نامورادیب،دانشور اور براڈکاسٹررضاعلی عابدی نے کہاہے کہ اردوزبان نے اپنی اہمیت تسلیم کروائی۔آج فارسی تو اس خطے سے ختم ہوگئی لیکن اردوکوختم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں یہ زبان آج بھی موجود ہے اوریہ دنیا کے بہت سے ممالک میں رابطے کی زبان ہے اسے پڑھنے اورسمجھنے والوں کی بڑی تعدادایشاء ہی نہیں مشرق وسطیٰ اوریورپ میں بھی موجودہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں خطاب کے دوران کیا۔تقریب کے مہمان خاص(بقیہ نمبر56صفحہ12پر)

 ڈاکٹرانواراحمدتھے۔اس موقع پرقمررضاشہزاد،،وسیم ممتاز،حافط صفوان،مسیح اللہ جام پوری،مستحسن خیال اوررضی الدین رضی نے بھی اظہارخیال کیا۔رضاعلی عابدی نے مزیدکہاکہ رسم الخط بھی ٹیکنالوجی کے اس دورمیں تبدیل ہورہے ہیں،اردوکو رومن میں بھی لکھاجارہاہے،دیوناگری میں بھی اور دیگررسم الخط بھی استعمال کئے جارہے ہیں انہوں نے مزیدکہاکہ کتاب کے ساتھ وابستگی کمزورہوگئی ہے۔بہت سے کتب خانے دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے ضائع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت اب بہترہورہی ہے۔ان کاطرز زندگی تبدیل ہوچکاہے اوروہ پہلے سے بہترحالات میں زندگی گزاررہے ہیں۔رضاعلی عابدی نے مزیدکہاکہ بے روزگاری وہاں کابھی ایک بڑامسئلہ ہے اوراسی بے روزگاری کے نتیجے میں خطے میں ہیجان اورغصہ فروغ پارہاہے۔عدم برداشت کے رویہ کے بہت سے عوامل میں سے ایک بے روزگاری بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ انگریزہمارے لئے جوکچھ چھوڑکرگیاتھاہم نے اس میں اضافہ تونہیں کیالیکن ہم اس ورثے کی دیکھ بھال بھی نہ کرسکے،اس میں ایک بڑی مثال ریلوے کی ہے جس کے کئی سیکشن ہم نے بند کردیئے  ہیں۔

رضا علی عابدی 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -