طلباء منشیات کی لعنت ختم کرنے میں کردار ادا کریں: وفاقی سیکرٹری امجد جاوید

  طلباء منشیات کی لعنت ختم کرنے میں کردار ادا کریں: وفاقی سیکرٹری امجد جاوید

  

ملتان (سپیشل رپورٹر‘ سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرز بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیراہتمام جناح آڈیٹوریم میں ہونے والے منشیات سے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزارت انسداد منشیات کے وفاقی سیکرٹری امجد جاوید سلیمی نے کہا ہے کہ طلباء منشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس کا ساتھ دیں.انہوں نے کہاکہ منشیات کا تعلق جرائم کی دنیا سے بھی ہے اس لیے انسداد منشیات کا مطلب انسداد جرائم ہے معاشرہ کو (بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

لاقانونیت سے بچانے کے لیے اس ے خلاف ایک مشترکہ مہم چلانی ہوگی.وفاقی سیکرٹری نے طلباء کو وزارت کی جانب سے بنائی گئی”ایپ زندگی“ کے بارے میں بھی آگاہ کیا. وائس چانسلر جامعہ زکریا پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ منشیات کی دلدل میں گر کر وہ اپنے ماں باپ کی امنگوں کے ساتھ اپنی درس گاہوں کا وقار بھی گنوابیٹھتے ہیں.وائس چانسلر نے کہاکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی کوششوں کے باعث منشیات کی لعنت کو قابو میں رکھا گیا ہے.سیمینار میں طلباء کو منشیات کی لعنت سے بچنے اور اس کے بارے میں رپورٹ کرنے کے بارے آگاہی دی گئی.سیمینار میں ڈائریکٹرسٹوڈنٹس افیئرز پروفیسر ڈاکٹر محمد امان اللہ، آر ڈاکٹر ریحان صادق، ڈپٹی سیکرٹری عبدالحمید بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز طاہر محمود اور طلباء طالبات نے شرکت کی۔ جبکہ ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں انسداد منشیات کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں اور خصوصاً نوجوان نسل میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ختم کرنا تھا۔ آگاہی سیمینار کے مہمان خصوصی منسٹری آف نارکوٹیکس کنٹرول کے فیڈرل سیکرٹری امجد جاوید سلیمی تھے جبکہ سیمینار کی صدار ت وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کی۔ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے منسٹری آف نارکوٹیکس کنٹرول کے فیڈرل سیکرٹری امجد جاوید سلیمی نے منسٹری آف نارکوٹیکس کے حوالے سے آگاہ کیا کہ یہ ادارہ کس طرح اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں منشیات کا کاروبار اسلحے کے غیر قانونی کاروبار کے بعد دوسرا بڑا غیر قانونی کاروبار ہے۔انہوں نے کہاکہ نشے سے معاشرے کو پاک رکھنے کیلئے نارکوٹکس فورس نے سخت قوانین بنائے ہیں اور نشے کے کاروبار میں ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل سینٹ میں پیش کی جانے والے ریکارڈ کے مطابق70لاکھ سے زائد لوگ نشے کی لت میں مبتلا ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کہ رپورٹس میں موجود ہیں اور جو لوگ رپورٹ نہیں ہوئے وہ اس لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مایوسی، اکیلا پن، تربیت کا فقدان، طبقاتی ماحول وغیرہ منشیات کے استعمال کی بڑی وجوہات بنتی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا نہ کریں جس سے معاشرے میں موجود لوگ نشہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں چاہیے کہ ہم سب ملکر نشے کی لت میں مبتلہ لوگوں کی ری ہیبلیٹیشن کر کے ان کی مدد کریں۔آگاہی سیمینارسے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ منشیات کا کاروبار غیر قانونی ہے جس کی روک تھام کیلئے نارکوٹکس فورس کا قیام عمل میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ نشے کی لت کی پہلی وجہ سگریٹ ہے جو سگریٹ پینا شروع کرے گا تو ڈپریشن کا شکار ہو کر نشہ کرنے پر مجبور ہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا اسلام بھی نشے جیسی لعنت سے گریز کرنے کو کہتا ہے لہذا معاشرے کے لوگوں خصوصاً نئی پیڑیوں کو اس لعنت سے بچنا ہو گا۔ سیمینار کے اختتام میں مہمانوں میں اعزازی شیلڈ بھی تقسیم کی گئیں۔سیمینار کے اختتام کے بعد منسٹری آف نارکوٹیکس کنٹرول کے فیڈرل سیکرٹری امجد جاوید سلیمی کو زرعی یونیورسٹی کو زرعی یونیوسٹی میں لگے ہائیڈروپانکس، نرسری یونٹ،زرعی جامعہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا معائنہ کروایا اور زرعی یونیوسٹی کے ایڈمن بلاک میں پودا بھی لگوایا۔ اس موقع پرسی پی او محمدذبیر دریشک، ایس ایس پی محمد کاشف اسلم،افتخار الحسن، ڈاکٹر شفقت سعید، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، ڈاکٹر عالمگیر اختر خان، ڈاکٹر عمر اعجاز،ڈاکٹر عثمان جمشیدسمیت فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

امجد جاوید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -