عدالت عظمیٰ پی آئی سی واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے،سابق صدور سپریم کورٹ بار

    عدالت عظمیٰ پی آئی سی واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے،سابق صدور سپریم ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور نے پی آئی سی واقعہ پرمریضوں کے لواحقین سے معافی مانگتے ہوئے اس معاملے کی سپریم کورٹ کے ججوں سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان، جسٹس (ر) ملک محمد قیوم،(بقیہ نمبر28صفحہ12پر)

میاں اسرارالحق اور پیر کلیم احمد خورشید نے سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وکلاء کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا،اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شمیم الرحمن ملک،سینئر نائب صدر غلام مرتضیٰ چودھری اور پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین شاہ نواز اسماعیل گجر، لاہور ہائی کورٹ کے سابق صدور شفقت محمود چوہان اور میاں قدوس بھی موجود تھے۔صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدور حامد خان اور ملک محمد قیوم نے کہا کہ ہڑتالیں مسائل کا حل نہیں،اس سے عدالتوں میں سائلین اور ہسپتالوں میں مریض متاثر ہورہے ہیں، ملک محمد قیوم نے کہا کہ فریقین کو فوری طور پر ہڑتالیں ختم کردینی چاہئیں،وکلاء راہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آمریت پسند قوتیں وکلاء کو کمزورکرنے کی سازش کررہی ہیں،حامد خان نے کہا کہ ڈاکٹروں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، اس معاملے پر وکلا ء اور ڈاکٹر بات کریں،دونوں کی منتخب ایسوسی ایشنیں موجود ہیں ان کے راہنماؤں کو مل بیٹھنا چاہیے،وکلاء راہنماؤں نے کہا کہ ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ قصور وارکون ہے،وکلا ء نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کے لئے اپنا روایتی کردار ادا کیا ہے اب انکے خلاف سازش کی جارہی ہے،حامد خان نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر کے اندراج اور اس پر عمل داری کا کون ذمہ دار ہے اور کس کے کہنے پر ڈاکٹر کی ویڈیو وائرل کی گئی، حامد خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ کچھ طاقتیں ملک میں آمریت لانا چاہتی ہیں اس لئے وکلا ء کو کمزور کیا جارہا ہے کیوں کہ وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے،وکلاء کو کچھ قوتیں بدنام اور کمزور کرکے ان کا بیانیہ دبانا چاہتی ہیں،پی آئی سی کا واقعہ قومی سانحہ ہے،اس واقعہ میں صرف وکلا ء کومورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں،فوت ہونے والوں کے ورثاء سے دلی طورپرتعزیت کرتے ہیں،ان سے اور دیگر متاثرین سے معافی مانگتے ہیں،وکلاء راہنماؤں نے پریس کانفرس کے دوران مختلف سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے دن معاملہ پینڈنگ رہا،پہلے ایف آئی آر نہیں ہو رہی تھی، ایف آئی آر ہوئی تو گرفتاریاں نہیں ہو رہی تھی،کئی دنوں سے معاملات چل رہے تھے حکومت نے غفلت کامظاہرہ کیا،جوہواوہ قومی المیہ سے کم نہیں، ہم لوگ بہت تکلیف میں ہیں کہ ہمارے بھائی جو اس واقعہ کے دوران اسپتال میں فوت ہوئے،ہم کبھی بھی نہیں چاہتے کسی کو نقصان پہنچے،ہمارے سوالات ہیں کہ ایف آئی آر ہونے کے بعد گرفتاریاں کیوں نہیں ہوئیں، اس کا کون ذمہ دار ہے؟ ڈاکٹر عرفان کی ویڈیو کو وائرل کرنے میں کون لوگ ملوث ہیں،جس سے وکیل اشتعال میں آئے،ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے وہ ہاتھ ہیں جو وکلا ء کو بدنام کرنا چاہتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ وکلا ء کو ڈاکٹروں سے لڑا کر ملک کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،سازشی لوگ چاہتے ہیں کہ وکلا ء برادری تقسیم ہو جائے،کچھ طاقتیں یہ سب کروا کر ایک قسم کی ملک میں آمریت لانا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعے کی اوپن انکوائری ہونی چاہیے،انکوائری کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ججز ہوں جن پر ہمارا مکمل اعتماد ہو،ہم ڈاکٹروں کو ایک پروفیشنل کمیونٹی ہے ہماری آپس میں کوئی دشمنی نہیں، ان لوگوں کے چہرے بے نقاب کیے جائیں جو کمیونٹی کو آپس میں لڑاتے ہیں،ہم اس ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری اور سربلندی کے لئے کام کررہے ہیں، وکلا ء پاکستان کے ہر حصے میں متحد ہیں،ہم پشاور سے لاہور اور کوئٹہ سے کراچی تک وکلاء کے اس اتحاد کو ہمیشہ قائم رکھیں گے،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میڈیا اور وکلا ء کا ایک خاص رشتہ ہے،ہماری اپیل ہے کہ میڈیا یکطرفہ رپورٹنگ نہ کرے،ڈاکٹروں کی طرح وکیلوں کا کا بیانیہ بھی دکھایا جائے، ہم وکلا میڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں، اس وقت بھی میڈیا کے حقوق پر ڈاکہ مارا جا رہا ہے، جب بھی میڈیا پر مشکل وقت آیا یا آئے گا تو ہم میڈیا کے ساتھ کھڑے ہوں گے،وکلا پر ٹارچر ہورہاہے،وکلا ء کی تذلیل کی گئی،جس کی ہم مذمت کرتے ہیں بیسیوں وکلا ء اس گرفتار ہیں،انہیں فوری رہا کیا جائے،بھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ قصور کس کا ہے،حکومت خود حالات کو خراب کر کے سارا بوجھ ایک کمیونٹی پر ڈال رہی ہے،انکوائری سے پتا لگے گا کہ کون کتنا قصور وار ہے، سب ڈاکٹر بھائیوں سے گزارش ہے کہ جذبات کو ٹھنڈا ہو کر وکلا کے ساتھ بیٹھ کرمعاملے کو حل کریں،وکیلوں کو ولن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے،ہم نہیں مانتے کہ کوئی وکیل کالے کوٹ میں اسلحہ لے کر جائے گا،وکیلوں کو بدنام کیا جارہاہے،وکیل کبھی بھی یونیفارم میں اسلحہ لے کر نہیں جاتا،جوڈیشل کمیشن بنے اور اس کی رپورٹ پر تمام کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔

سابق صدور سپریم کورٹ بار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -