زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم ہونے سے روپیہ مستحکم ہورہا ہے‘ میاں زاہد حسین

زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم ہونے سے روپیہ مستحکم ہورہا ہے‘ میاں زاہد حسین

  

ملتان (نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی سے موجودہ مالی سال(بقیہ نمبر19صفحہ12پر)

کے پہلے 5 ماہ میں ان میں 33فیصد تک کمی آ چکی ہے جو موجودہ پالیسی میں تبدیلی تک جاری رہے گی۔ درآمدات میں ڈبل ڈیجیٹ کمی سے جہاں معیشت کے لئے بہت سے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں وہیں زرمبادلہ کی بھی بچت ہو رہی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو رہا ہے جس سے روپیہ بتدریج مستحکم ہو رہا ہے تاہم اسکی رفتار سست ہے اور اس سے اشیاء کی قیمت کم ہونے کا عمل ابھی شروع نہیں ہو ا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ جولائی سے نومبر تک برآمدات میں بھی 5 فیصد تک اضافہ ہوا ہے تاہم 9.54 ارب ڈالر کی برآمدات ضرورت اور اندازوں سے بہت کم ہے کیونکہ کرنسی روپے کی قدر بار بار کم کرنے سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کی امید تھی جو پوری نہیں ہو سکی جس سے 26 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ٹیکس اور ریفنڈز کے معاملات بہتر بنانے سے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں جس پر پالیسی ساز سنجیدگی سے غور کریں۔ گزشتہ سال پانچ ماہ کا تجارتی خسارہ 14.43 ارب ڈالر تھا امسال 9.66 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو بڑی کامیابی ہے۔ وزارت تجارت کے اندازہ کے مطابق درآمدات میں کمی سے سالانہ خسارہ جو گزشتہ سال31 ارب ڈالر تھا امسال 12 سے 19ارب ڈالر سے گھٹ سکتا ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ امسال برآمدات کا ہدف گزشتہ سال سے تقریباً 2 ارب ڈالر زیاد ہے جسکے لئے بجٹ میں برآمدات میں استعمال ہونے والے خام مال کو کسٹم ڈیوٹی سے مبراء قرار دیا تھا جبکہ برامدکنندگان کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی کا وعدہ بھی کیا گیا تھا جس پر عمل نہیں ہو سکا جس نے برآمدای شعبہ کو مسائل میں مبتلا کر دیاہے مگربرآمد کنندگان کی مشکلات سے قطع نظر ایف پی سی سی آئی جو کہ صنعتکاروں اور تاجروں کا ملک میں سب سے بڑا ادارہ ہے وہ خواب ِغفلت میں ہے اور مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کررہا۔ انھوں نے کہا کہ جن برآمدی شعبوں سے زیرو ریٹنگ کی سہولت واپس لی گئی تھی انھیں یہ سہولت واپس دی جائے یا ان کے لئے خصوصی اسٹیٹس کا اعلان کیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔

میاں زاہد حسین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -