سی پیک منصوبہ خطرے سے دوچار، عوام کو حکومت سے جلد چھٹکارا مل جائیگا: فضل الرحمن

      سی پیک منصوبہ خطرے سے دوچار، عوام کو حکومت سے جلد چھٹکارا مل جائیگا: فضل ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عوام کو ناجائز حکومت سے چھٹکارا کے لیے مزید ایک ماہ انتظار کرنا ہوگا، ق لیگ، اختر مینگل اور دیگر اتحادیوں کی بدلی زبان اسی کی طرف اشارہ ہیں،  انتخابی اصلاحات کے بعد اداروں کی مداخلت کے بغیر نئے انتخابات کرائے جائیں سی پیک پر امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی، نواز شریف اور زرداری کو سی پیک کی سزا دی جارہی ہے ڈاکٹر اور و کلاء ہمارے محترم طبقہ (بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

ہے دونوں کو اپنے رویوں کے بارے میں سوچ کر مثبت تبدیلی لانی چا ہیئے بیماری ایسی چیز ہے جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے اپوزیشن کا بھی مطالبہ ہے کہ نئے الیکشن کرائے جائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر دیگر رہنما مولانا ایاز الحق قاسمی،مولانا حبیب الرحمن اکبر، میاں جمشید اجمل، قاری محمد یسین، زاہد مقصود قریشی بھی موجود تھے مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ آزادی مارچ نے ملکی سیاست کے جمود کو توڑا ہے یہ جو تاثر تھا کہ اس حکومت کو کوئی نہیں ہلا سکتا غلط ثابت ہوا جعلی وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں نئے اور شفاف انتخابات سے کم ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے ان حالات کو معاشی استحکام کہنے والے قوم کے ساتھ مذاق سمجھ رہے ہیں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی کے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس پر تو بعد میں غور کیا جائے گا کہ اسمبلی کیا قانون پاس کرتی ہے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوام کو ایک ماہ صرف ا نتظار کرنا ہوگا، ایک ماہ میں آئین اور جمہوریت کے مطابق تبدیلی آئے گی، حکومتی اتحادیوں کی بدلی ہوئی زبان اسی کی طرف اشارہ ہیں۔ ہمارا مطالبہ ان ہاؤس تبدیلی نہیں نیا الیکشن ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک پر امریکہ نے پاکستان کو دھمکی دی پاکستان ایک خود مختار ملک ہے امریکہ کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری پر انگلی اٹھائے سی پیک پر توان بدل رہا ہے سی پیک کا منصوبہ خطرے میں ہے کیونکہ امریکہ اور مغربی دنیا کی کوشش ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو اور اس پر پاکستان کی رٹ مضبوط نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے سی پیک میں رکاوٹیں حائل کی ہیں نواز شریف اور زرداری کو سی پیک کی سزا دی جارہی ہے، ایشیا مشرقی خطے میں معاشی کنٹرول آرہا ہے جس کے باعث مغرب طاقتیں پریشان ہیں، سی پیک کو ایک سال تک معطل کر رکھا ہے جب دوبارہ کام شروع ہوا تو دھمکی آگئی، لاہور پی آئی سی کے واقعے پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ڈاکٹر اور اس کلاء ہمارے محترم طبقہ ہے دونوں کو اپنے رویوں کے بارے میں سوچ کر مثبت تبدیلی لانی چا ہیئے ان حالات میں پاکستان وکلاء اور ڈاکٹرز کے ایسے رویے کا متحمل نہیں ہو سکتا یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس نے پاکستان کی شہرت کو خراب کیا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے پہلے ہم سری نگر حاصل کرنے کی بات کرتے تھے اب مظفر آباد بچانے کی بات کی جارہی ہے خود عمران خان نے کہا تھا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم ہونا چاہیئے آج مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیر قیدو بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی احتساب نہیں ہے سیاسی لوگوں کو قوم کے سامنے مجرم پیش کرنا زیادتی ہے اور میں اس احتساب کا قائل نہیں ہوں بیماری ایسی چیز ہے جس پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے انہوں نے کہا کہ ملک بچانا ہے تو اقتصادی ترقی دینا ہو گی مہنگائی بڑھ رہی ہے تعلیم، صحت، پی آئی اے سمیت دیگر اداروں میں 50فی صد تک کٹوتیاں ہو رہی ہیں مراعات چھینی جارہی ہیں اس کو معاشی استحکام کہنا ملکی معیشت کے خلاٖ ف مزاق ہے آج ہر شخص کو اس جبر کے خلاف میدان میں نکلناچاہتا ہے پاکستان کا پیسہ باہر سے لانے کی باتیں عام آدمی کی ہمدردی حاصل کرنا ہے باہر سے پیسہ لانے کی تو بات کرتے ہیں لیکن ملک میں پیسہ گم ہورہا ہے ملیں بند ہو رہی ہیں لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں پیداوار ی صلاحیت ختم ہو کر رہ گئی ہے گندم، کپاس، مکئی کی پیداوار ختم ہو کر رہ گئی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کا صوبوں کی تقسیم کا بل سوائے پوائنٹ سکورننگ کے کچھ نہیں ہے تاہم ہم الگ صوبوں کے قیام کے حق میں ہیں لیکن ابھی ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

فضل الرحمن 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -