بھارت کھل کر مسلم دشمنی پر اتر  آیا ہے،ایم این اے نجیب ہارون

  بھارت کھل کر مسلم دشمنی پر اتر  آیا ہے،ایم این اے نجیب ہارون

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)تحریک انصاف کے ایم این اے اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسسنگ وتعمیرات کے چیئرمین نجیب ہارون نے بھارتی لوک سبھا اور بھارتی ایوان بالا راجیہ سبھا سے مسلمان مخالف متنازعہ شہریت ترمیمی بل کی منظوری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں شہریت میں ترمیم کے حوالے سے منظور ہونے والے بل کے مطابق بنگلہ دیش، پاکستان اورافغانستان سے بھارت آنے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن  ہندو، سکھ، جین، پارسی، مسیحی مذہب کے لوگوں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں،اس عمل سے مودی سرکار کی مسلم دشمنی اب کھل کر سامنے آچکی ہے مسلمانوں سے نفرت کا مذہبی قانون پاس کرکے مودی سرکار نے خود کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیاہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے این اے 256میں کارکنوں سے ہونے والی ملاقات میں کیا، نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ شہریت کا ترمیمی بل دراصل مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر خارج کرناہے جو مودی اور اس کی تنظیم آرایس ایس کی سب سے بڑی خواہش تھی،اس بل کے نافذ ہونے کے بعد  لاکھوں مسلمان شہریت سے محروم ہو جائیں گے جو انسانی حقوق کے تمام قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارتی لوک سبھامیں مسلمان مخالف متنازع شہریت کے ترمیمی بل کی منظوری نے سیکولرزم بھارت کے دعوؤں کا بھانڈاپھوٹ چکاہے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -