چیئرمین پالیسی بورڈ ایس ای سی پی خالد مرزا کیخلاف نیب راولپنڈی کو تحقیقات کاحکم

چیئرمین پالیسی بورڈ ایس ای سی پی خالد مرزا کیخلاف نیب راولپنڈی کو تحقیقات ...

  

اسلام آ باد (آئی این پی) قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے  چیئرمین پالیسی بورڈ ایس ای سی پی  خالد مرزا  کے ایس ای سی پی بورڈ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد کے خلاف تعیناتیاں کرنے کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ خالد مرزا چیئرمین پالیسی بورڈ ایس ای سی پی نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں یہ الزام لگایا تھا کہ ایس ای سی پی کا سٹاف کام کرنے کو تیارنہیں، پکڑے جانے کے خوف سے گھبرایا ہوا ہے جو کہ در اصل حقائق کے منافی اور من گھڑت ہونے کے علاوہ ایس ای سی پی کے معاملات میں براہ راست مداخلت کے مترادف تھاکیونکہ قانون کے مطابق خالد مرزا، ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ کے چیئرمین ہیں جو قانون کے مطابق میڈیا میں ایسے بیانات دینے کے مجاز نہ تھے۔ خالد مرزا چیئرمین پالیسی بورڈ ایس ای سی پی نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں بلاواسطہ طور پر نیب کی تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی دانستہ کوشش کی تھی۔نیب ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ اور عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے قانو ن کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے جس کا اظہار معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں کیا ہے۔ نیب ایس ای سی پی کے قانون کے مطابق کام کرنے والے تمام افسران واہلکاران کو ہمیشہ عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔اور جو افسران واہلکاران مبینہ طور پر اپنے اختیارات کے غلط استعمال اور بدعنوانی جیسی لعنت میں مبینہ طور پر ملوث ہوں یا انہوں نے بدعنوان عناصرکی مبینہ طور پر بدعنوانی میں مدد فراہم کی ہو تو  ان افسران سے ان کا موقف لینا آئین اور قانون کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔خالد مرزا چیئرمین پالیسی بور ڈ ایس ای سی پی نے اپنے متعلقہ انٹرویو میں خود یہ اعتراف کیا ہے کہ غلط بھرتیوں کی وجہ سے ایس ای سی پی کی صلاحیتوں پر فر ق پڑا ہے۔ اس لئے خالد مرزا نیب پر بلاواسطہ دشنام ترازی کی بجائے پہلے ایس ای سی پی کے بورڈ کے چیئرمین ہونے کے ناطے اپنے ادارے کی انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے اور اسکی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے جو کہ آئین اور قانون کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس امر کی وضاحت کی جاتی ہے کہ نیب کے کسی مقدمہ میں انکوائری اور تفتیش پر بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے منافی پراپیگنڈہ کرنا نیب تحقیقات پر اثر انداز ہونے کے علاوہ عوام کو گمراہ کرنا نیب کے قانو ن کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے جس پر نیب متعلقہ شخص کیخلاف قانونی کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

نیب تحقیقات

مزید :

پشاورصفحہ آخر -