فیاض الحسن چوہان کا نیا روپ، گھن گھر ج میں تحمل کی آمیزش بھی ہے 

فیاض الحسن چوہان کا نیا روپ، گھن گھر ج میں تحمل کی آمیزش بھی ہے 

  

تجزیہ:ایثار رانا

فیاض الحسن ایک نئے روپ میں سامنے آرہے ہیں انکے لہجے میں گھن گرج تو برقرار ہے لیکن اس میں قدرے تحمل کا آمیزش بھی نظر آرہی ہے۔ایڈیٹرز کلب کے استقبالیے میں انہوں نے ماضی کی روایات کے برعکس ا نپی تلی باتیں کیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سوسائٹی بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اسکی تباہی میں سب نے حصہ بقدر جثہ اپنا کردار ادا کیا۔میں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ دانشور لیڈر علما سوسائٹی کے اینٹینا ہوتے ہیں جیسے وہ ہوتے ہیں معاشرہ ویسا ہی بنتا جاتا ہے ہمارا دانشور گالی سے بات شروع کرتا ہے عالم فرقوں میں تقسیم کرتا ہے لوگوں میں نفرت کی دیواریں کھڑی کرتا ہے اور انہیں تعصبات کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔سیاستدان اپنے کارکنوں کو نفرت کی گھٹی دیتا ہے جب ایسا ہوتا ہے تو پھر معاشرہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا ہمارا ہے۔فیاض الحسن چوہان شاید اس کڑوی حقیقت کا ادراک کرچکے ہیں۔وہ بسمہ اللہ کریں پہل کریں میٹھا میٹھا شبھ شبھ بولنا شروع کریں میڈیا اور قوم کو میٹھے سروں کی ضرورت ہے۔بہت ہوگئیں سلطان راہی کی بڑھکیں اب وحید مراد کے رومانٹزم کو زندہ کرنا پڑے گا۔صوبائی وزیر ٹھیک کہتے ہیں اگر انکی واپسی ہوئی ہے تو وزیر اعظم اور وزیر اعلی بزدار کی بھرپور خواہش سے ہی ہوئی ہوگی ورنہ اپنے اسلم اقبال کی کارکردگی بھی خاصی مناسب تھی۔چوہان صاحب تعلیم یافتہ حاضر جواب اور تربیت یافتہ سیاسی ورکر ہیں۔معاشرے کو بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔انکی واپسی ٹارزن کی واپسی کے بجائے شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ کومل سروں والے محبت کا گیت گانے والے بیجو باورے کی واپسی ہونی چائیے۔

تجزیہ ایثا ر رانا

مزید :

تجزیہ -