وکلا کی ایک مرتبہ پھر پی آئی سی آمد لیکن اب اپنے ساتھ کیا لائے تھے؟ ویڈیو سامنے آگئی

وکلا کی ایک مرتبہ پھر پی آئی سی آمد لیکن اب اپنے ساتھ کیا لائے تھے؟ ویڈیو ...
وکلا کی ایک مرتبہ پھر پی آئی سی آمد لیکن اب اپنے ساتھ کیا لائے تھے؟ ویڈیو سامنے آگئی

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)  پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی عام مریضوں کے لیے کھول دی گئی، وکلاءرہنمابھی پی آئی سی پہنچ گئے اورڈاکٹروں کوپھول پیش کئےاور کہا کہ خیرسگالی کا پیغام لایا ہوں، ہمیں دونوں طرف سے غلط فہمیاں دور کرنا ہوں گی،وکلاء رہنماؤں کی پی آئی سی کے ڈاکٹروں سے ملاقات کے بعدبرف پگھلنے کا آغاز ہوگیا  جبکہ ڈاکٹروں نے معاملہ سلجھانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔

نجی نیوز چینل کے مطابقپ نجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی عام مریضوں کے لیے کھول دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے وکلاء کے حملے میں جاں بحق ہونے والے مریضوں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور ایمرجنسی کے باہر پھول رکھے گئے بعد ازاں اُن کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی جس کے بعد ڈاکٹروں نے ایمرجنسی سروسز شروع کر دی۔اس موقع پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام پی ای سی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ثاقب شیخ اور ایم ایس ڈاکٹر امیر بھی موجود تھے ۔ایمر جنسی کھولنے سے قبل پاکستان بار کے مرکزی رہنما احسن بھون نے سینئر وکلا کے 22 رکنی وفد کے ہمرا پی ای سی کا خیرسگالی دورہ کیا او ر وائی ڈی اے کی قیادت سے ملاقات بھی کی اور اُن کو پھول بھی پیش کیے جبکہ ہسپتال انتظامیہ سے بھی ملاقات کی،اُنہوں نے شمع روشن کرنے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

اس موقع پر احسن بھون ایڈووکیٹ نے کہا جوکچھ ہوا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں،میں بھی پی آئی سی کے ڈاکٹروں سے اظہاریکجہتی کے لئے آیا ہوں اور خیرسگالی کا پیغام لایا ہوں،ہمیں غلط فہمیاں دور کرنا ہوں گی،اُنہوں نے وائی ڈی اے کے ڈاکٹر ذیشان اور اعجاز کھرل سے بھی ملاقات کی اور اُنہیں پھول پیش کیے ۔واضح رہےکہ پی آئی سی کی ایمرجنسی11دسمبرکووکلاءحملہ کےبعدبندکردی گئی تھی،حکومت کی جانب سے ہسپتال کی توڑی گئی مشینری کی جگہ نئی مشینری نصب کر دی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وکلا کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرنے کی اور ایسا تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس محمد انوار الحق پنوں پر مشتمل سنگل بنچ نے پی آئی سی حملے میں گرفتار وکلاء کی رہائی کی 4 درخواستوں پر سماعت کی۔وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں جمع ہوئی۔ تاہم جسٹس محمد انوار الحق پنوں نے کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھجوادی۔

پھر شام کو جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اعجاز احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ تو پولیس نے عدالت میں وکلاء کے خلاف انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمات درج ہونے کی رپورٹ پیش کی۔

درخواست گزار اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء برادری پی آئی سی واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، کچھ لوگوں نے موقع پر کپڑے تبدیل کئے اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، ڈاکٹر کی ویڈیو وائرل ہونا وقوعہ ہونے کی وضاحت نہیں ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے وکلا پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں، آپ اس کو وقوعہ کہتے ہیں؟، آپ نے اسپتال پر حملہ کیا، آپ کی جرات کیسے ہوئی اسپتال پر حملہ کرتے، کیا آپ ایک وضاحت دے سکتے ہیں کہ کیوں حملہ کیا گیا، آپ کو اندازہ نہیں ہم کس دکھ میں ہیں، ہم بڑی مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں، دکھ اس بات کا ہے آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔جسٹس انوار الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ ایک ویڈیو بڑی عجیب ہے جس میں وکیل کہہ رہا ہے یہ ڈاکٹر کی موت ہے، کیا اس کی بھی توقع ہے کہ کوئی بار کونسل اس پر کوئی کارروائی کرے؟۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ سر عام تسلیم کریں، آپ نے لاہور بار میں حملے کی پلاننگ کی ہے، ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا، اس طرح تو جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔درخواست گزار اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ چمڑیاں ادھیڑنے والی پریکٹس درست نہیں ہے، 2009 میں بھی ایسا ہوا تھا، ایسا وقوعہ کراچی میں ہوا تھا، سیالکوٹ میں بھی ہوا تھا تو پھر وہ بھی ٹھیک ہوا تھا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور