نیلسن منڈیلانے قیدیوں سے متعلق جوکہاوہ اپنے دفتروں میں لگاکررکھیں،اسلام آبادہائیکورٹ،جیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اوران کی وجوہات کی تفصیلات طلب

نیلسن منڈیلانے قیدیوں سے متعلق جوکہاوہ اپنے دفتروں میں لگاکررکھیں،اسلام ...
نیلسن منڈیلانے قیدیوں سے متعلق جوکہاوہ اپنے دفتروں میں لگاکررکھیں،اسلام آبادہائیکورٹ،جیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اوران کی وجوہات کی تفصیلات طلب

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زارسے متعلق کیس میں جیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اوران کی وجوہات کی تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آزادشخص پرریاست کی ذمہ داری کم ہے،شہری قیدمیں ہوتوریاست کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے،کوئی قیدی بیمارہوتودیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے،عدالت نے کہا کہ نیلسن منڈیلانے قیدیوں سے متعلق جوکہاوہ اپنے دفتروں میں لگاکررکھیں،اسلامی تعلیمات میں بھی قیدیوں کے حقوق کاواضح ذکرہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں جیلوں میں قیدیوں کی حالت زارسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،قیدی خادم حسین کے بعد ایک اورسزائے موت کے قیدی جاوید اقبال نے عدالت سے رجوع کرلیا،قیدی کی درخواست سماعت پروزارت انسانی حقوق کانمائندہ پیش ہوا،نمائندہ وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ سزائے موت کے قیدی کی درخواست آئی ہے،قیدی نے ہسپتال میں معائنہ کرانے کی درخواست کی ہے،2 نمائندے جائزہ لے رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ کے نمائندے ہیومن رائٹس ایشوزکاجائزہ لے رہے ہوں گے،نمائندہ وزارت انسانی حقوق نے کہاکہ جیل انتظامیہ سے کہاکہ قیدیوں کاطبی معائنہ ہوناچاہئے،عدالت نے کہاکہ کیاملک بھرکے قیدیوں کے ٹیسٹ مستقل کرائے جاتے ہیں؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آزادشخص پرریاست کی ذمہ داری کم ہے،شہری قیدمیں ہوتوریاست کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے،کوئی قیدی بیمارہوتودیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے، جیل میں توصفائی ستھرائی کے حالات اچھے نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی ڈیٹا ہے کتنے قیدی آج تک دوران قیدفوت ہوئے؟پولیس نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی ڈیٹاموجودنہیں،عدالت نے استفسار کیاکہ جیل میں کسی قیدی کی ہلاکت کی انکوائری کیسے ہوتی ہے؟پولیس نے کہا کہ سیشن جج یامجسٹریٹ انکوائری کرتاہے،عدالت نے کہا کہ واضح پالیسی بنائیں جس میں قیدی کوطبی سہولتیں مل سکیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کہیں رکاوٹ یاکمی ہے توحکومت کوآگاہ کریں،قیدی مکمل طورپرریاست پرانحصارکرتاہے،نمائندہ وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ عدالت حکم دے تولیگل معاونت سے متعلق تبدیلی کرناچاہتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جوبااثرقیدی ہے اس کو جیل کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں، جوبااثرقیدی ہے اسے جیل میں اچھی طرح رکھاجاتا ہے کچھ حقائق ہیں جنہیں ریاست نے ہی دور کرنا ہے ۔

چیف جسٹس نے وزارت انسانی حقوق کے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کمیشن تشکیل دیاتھاکیا کمیشن کی میٹنگ ہوئی؟نمائندہ انسانی حقوق نے کہا کہ عدالتی حکم پر بنائے گئے کمیشن کااجلاس ہواتھا ، ہم نے 4 دسمبر کو اس کمیشن کا اجلاس بلایاتھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیلسن منڈیلانے قیدیوں سے متعلق جوکہاوہ اپنے دفتروں میں لگاکررکھیں،اسلامی تعلیمات میں بھی قیدیوں کے حقوق کاواضح ذکرہے،عدالت نے کہا کہ ڈاکٹرقیدی مریض کاعلاج تجویزکردے توفوری ہسپتال لے جائیں،قیدیوں کی درخواستیں انسانی حقوق کمیشن کے پاس بھیجیں گے،انسانی حقوق کمیشن قیدیوں سے متعلق ضروری اقدامات کرے،عدالت نے 2 قیدیوں کی درخواستوں پرسماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی اورجیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اوران کی وجوہات کی تفصیلات طلب کرلیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد