سانحہ پی آئی سی کی مذمت کرنے پر اعتزاز احسن پر اسلام آبادہائیکورٹ بار میں داخلے پر پابندی لیکن اس سے قبل وہ کب اپنی ہی برادری کیخلاف "بغاوت" کرچکے ہیں؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

سانحہ پی آئی سی کی مذمت کرنے پر اعتزاز احسن پر اسلام آبادہائیکورٹ بار میں ...
سانحہ پی آئی سی کی مذمت کرنے پر اعتزاز احسن پر اسلام آبادہائیکورٹ بار میں داخلے پر پابندی لیکن اس سے قبل وہ کب اپنی ہی برادری کیخلاف

  



اسلام آباد، لاہور (ویب ڈیسک) سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں توڑ پھوڑ کی مذمت کی تو اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے ان کے بار میں داخلے پر پابندی عائد کردی ، اس سے قبل بھی اعتزاز احسن وکلا کے ہر اقدام کیساتھ نہیں ہوتے، وہ غلط کو غلط کہنے اور درست کو درست کہنے کی ہمت کرتےہیں، جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا طوطی بولتا تھا توا س ان کے ایک قریبی سمجھے جانیوالے وزیر ڈاکٹر شیرافگن مرحوم کو بھی وکلا نے زدو کوب کیا تھا اور اس وقت بھی اعتزاز احسن اپنی کمیونٹی کیساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ڈاکٹر شیر افگن کو بچانے میں پیش پیش رہے ۔ 

کالم نویس عمر جاوید نے لکھا کہ ’’ جنرل (ر) پرویز مشرف دور 2007ء میں وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کے لئے ایسی تحریک چلائی، جسے پو ری دنیا میں شہرت ملی۔آج ہمارے ہاں ”وکلاء گردی“ کی جو اصطلاح استعمال کی جا تی ہے، اس کی جڑیں اس تحریک میں ہی پیوست ہیں۔ 2007ء کی وکلا ء تحریک نے جہاں ایک طرف جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت کی بنیا دیں ہلا دیں تو وہاں دوسری طرف دنیا بھر میں پاکستانی قوم کا ایسا تاثر ا ابھرا کہ یہ قوم جمہوریت کے جذبے سے سرشار ہے اور اپنے جمہوری وآئینی حقوق کے لئے اس نے ایک ایسے حکمران کو چیلنج کیا ہے جو دنیا کی سپر پاور امریکہ کا حمایت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں بھی سیاہ و سفید کا مالک ہے۔وکلاء تحریک کے راہنماؤں کو بھی پا کستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے عزت ملی۔

اس وقت کی حکومتی جما عت پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پا رٹی نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔ پاکستان کے میڈیا، سول سوسائٹی، تاجروں، اور ہر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں اس تحریک میں شامل ہوئیں۔اس تحریک کے بعد پا کستان میں جمہوریت بھی بحال ہوئی اور پرویز مشرف کی نومبر2007ء کی ایمر جنسی کے نتیجے میں معزول ہونے والے تمام جج بھی بحال کیے گئے۔یوں وکلا ء تحریک انتہائی مثبت انداز سے اپنے منطقی انجام تک پہنچی، تا ہم یہی وہ دور تھا، جب وکلاء کے اندر کچھ طبقات نے یہ با ور کرنا شروع کر دیا کہ اب وہ اس ملک میں کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔حقیقت میں ایسی سوچ سے ”وکلاء گردی“ نے جنم لیا، لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ پوری وکلاء برادری ہی وکلاء گردی پر اتر آئی۔

2008ء میں جب دکلاء کے ایک گروہ نے پرویز مشرف دور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی کو لا ہور ہا ئی کو رٹ کے احاطے میں زد و کوب کیا تو اسی وقت وکلاء تحریک کے راہنما چو دھری اعتزاز احسن نے خود ڈاکٹر شیر افگن نیا زی کو وکلاء کے چنگل سے نجات دلوائی اور اس وکلاء گردی کی مذمت کی۔آج جب ہم اخبارات اور ٹی وی پر یہ دیکھتے ہیں کہ وکلا ء نے کسی ضلع کی سیشن کو رٹ میں کسی جج پر حملہ کر دیا، یا کسی سول جج کو تھپڑ ما ر دیا یا کسی عدالت کو تالے لگا کر بند کر دیا یا کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا تو ان سب واقعات کا تعلق دراصل وکلاء کے ایسے طبقات کے ساتھ ہو تا ہے، جنہوں نے اس مقدس پیشے کو پہچا نا ہی نہیں اور سماج میں اپنی”ٹور شور“کے لئے کالا کورٹ پہن کر”وکیل“ بن گئے۔

اس ساری صورت حال کو مزید خراب بنانے میں تعلیمی نظام کا بھی بڑا حصہ ہے۔ آج سے 15، 20سال پہلے اگر کسی کو ”ایل ایل بی“ کرنا ہو تا تو اس کے لئے پا کستان میں چند سرکاری کالج ہی ہوتے تھے۔ ان سرکا ری کالجوں میں بھی با قاعدہ میرٹ کے ذریعے ہی داخلہ ملتا تھا اور با قاعدہ قانون پڑھ کر ہی ”ایل ایل بی“ کی ڈگری ملتی تھی، یوں ”ایل ایل بی“ کرنے والاصحیح معنوں میں قانون کی سمجھ بوجھ رکھتا تھا۔ اب چند سال سے جس طرح سے پرائیوٹ لا ء کا لجوں کی بھر ما ر ہوئی ہے،ان میں سے اکثر کالجوں میں میرٹ کا کوئی خیال نہیں رکھا جا تا۔ مہنگی فیس کے نام پر لاکھوں روپے لے کر ایسے افراد کو بھی ”ایل ایل بی“ کی ڈگری ملنا شروع ہو گئی، جوقانون کو اس کی صحیح حرکیات میں سمجھنے کے بھی قابل نہیں۔

پیسوں کے عوض قانون کی ڈگریاں لینے والے ”وکلاء“ نے اس مقدس پیشے کو اتنا بدنام کر دیا کہ اب پا کستان کے قابل، مانے ہونے اور سنجیدہ قانون دا ن یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں: ”ہماری صفوں میں کالے بھیڑیے گھس آئے ہیں“۔وکالت کے مقدس پیشے کا معیار قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وکلاء تنظیمیں کسی کو لائسنس دیتے ہوئے ایک طرف تو اعلیٰ معیار کو اپنے سامنے رکھیں اور دوسری طرف پر ا ئیویٹ لاء کالجوں میں بھی میرٹ کا خیال رکھا جائے،نیز کسی کو ”ایل ایل بی“ کی ڈگری دینے سے پہلے اس بات کی تسلی کر لی جا ئے کہ یہ شخص کالا کوٹ پہننے کا حقدار ہے بھی یا نہیں؟ اگر ایسے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہما رے سماج کو ”وکلاء گردی“ کے ایسے واقعات کا مستقبل میں بھی سامنا رہے گا"۔

روزنامہ پاکستان میں چھپے کالم میں انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ بدھ کے روز ”پی آئی سی“ پر وکلاء کے ایک جتھے کے حملے سے انسانیت شرمائی نہیں ہوگی، بلکہ اس نے با قاعدہ ماتم کیا ہو گا۔ ہسپتال، دواخانے یا شفاخانے تو جنگوں میں بھی محفوظ رہتے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انسایت پر کیا کیا مظالم نہیں ڈھائے گئے، پا کستان اور بھارت کے مابین با قاعدہ جنگیں بھی ہو تی رہیں،مگر ان جنگوں میں کتنے ہسپتالوں پر حملے کئے گئے؟ یا ان جنگوں میں کتنے مریضوں کو جان سے ما را گیا؟ ……”پی آئی سی“پر حملے کی مذمت کے لئے الفاظ ملنا بھی مشکل ہیں، تاہم ہمیں یہ سمجھنے کی کو شش ضرور کرنا ہو گی کہ ایسے واقعات کی وجوہا ت کیا ہیں؟اس واقعے کے بعد نیوز چینلوں پر ایسے تجز یے بھی ہوتے رہے کہ چونکہ پورا معا شرہ ہی عدم رواداری کا شکا ر ہو رہا ہے،اس لئے ”پی ٗآئی سی“ پر حملے کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھنا چا ہیے۔

یہ درست ہے کہ ہما رے معاشرے میں عدم رواداری اور عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ہی کیا اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں ہمیں ایسے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں، جن میں کوئی گروہ کسی فرد یا کسی ہجوم پر حملہ کرتا ہے اورتشدد کا بھرپور مظاہرہ کرتا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یا فتہ ملک میں بھی تشدد کے ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔گزشتہ کئی سال سے بھارت سے آئے روز ایسی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں کہ کسی ہجوم نے کسی ایسے شخص یا گروہ پر حملہ کر دیا، جس پر گائے کو ذبح کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کا الزام ہوتا ہے۔

پاکستان میں بھی ایسے بہت سے واقعات ریکا رڈ پر ہیں کہ کسی ہجوم نے مذہب کے معاملے پر کسی گروہ کی بستی پر حملہ کر دیا ہو۔”پی آئی سی“ پر حملے کے بعد ایک اور موقف بھی سننے میں آیا کہ ہما ری سیاسی جماعتیں،خاص طور پر پی ٹی آئی نے سیاست میں جس شدت پسندی کو ابھارا، یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔یہ سب با تیں اپنی جگہ پر درست ہیں،مگر ہمیں ”پی آئی سی“ پر وکلاء کے ہجوم کے حملے کو اتنے سا دہ انداز میں نہیں لینا چا ہیے۔وکلا ء کا طبقہ کسی ایسے ان پڑھ یا نیم خواندہ ہجوم کی طرح نہیں کہ جسے کسی با ت پر بھڑ کا دیا جائے اور وہ طیش میں آکر کسی پر حملہ کر دے۔ اسی طرح وکلا ء کا طبقہ ایسے سیاسی کا رکنوں سے بھی مختلف ہو تا ہے،جو کسی لیڈر کو ”مسیحا“ مان کر اس کے ہر حکم پر لبیک کہہ کر تشدد کرنا شروع کر دیں۔

جب کوئی پاپولسٹ سیاسی لیڈر اپنے کارکنوں کو شدت پسندی کے لئے بھڑکا تا ہے اور یہ کارکن طیش میں بھی آجاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ تشدد کے لئے آما دہ ہونے والے ان کارکنوں میں زیادہ سیاسی شعور نہیں ہے۔کو ئی بھی پڑھا لکھا شخص کبھی بھی کسی کے بھڑکانے میں آکر مریض تو دور کی بات،کسی نظریاتی مخالف کو بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ اس لئے ہم وکلا ء کے ہسپتال اور مریضوں پر حملے کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتے کہ یہ تو ہمارے معاشرے کا چلن بن گیا ہے…… تو پھر وکلاء کے اس رویے کی وجہ کیا ہے؟ وکلاء کسی بھی سماج کا انتہائی با شعور طبقہ تصور کیا جا تا ہے۔

دور کیوں جا ئیں، برصغیر کی ہی مثال سامنے رکھیں۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک کو جہاں کئی طبقات کی طرف سے حمایت مل رہی تھی،وہاں پر یہ وکلا ء ہی تھے، جنہوں نے آزادی کی اس جدوجہد کی قیادت کی اور بر صغیر کو آزادی نصیب ہوئی۔یہ کو ئی حادثاتی با ت نہیں تھی کہ بر صغیر کی دونوں بڑی سیاسی جما عتوں،یعنی کانگرس اور مسلم لیگ کے صف اول کے اکثر راہنما وکیل ہی تھے،کیونکہ یہ وکیل ہی تھے جو نہ صرف دیگر طبقات کے مقابلے میں زیا دہ سیاسی شعور رکھتے تھے،بلکہ انگر یزی قانون کی با ریکیوں کو بھی اچھی طرح سے سمجھتے تھے،

اس لئے عوام کی اکثر یت نے بھی اپنے سیاسی، قانونی اور آئینی حقوق کے لئے ایسے ہی راہنماؤں کو اپنی سیا سی حمایت فراہم کی، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔قیام پا کستان کے بعدغیر جمہوری ادوار میں جہاں ایک طرف سیاسی کارکنوں نے جدو جہد کی تو وہاں دوسری طرف وکلاء کی اکثریت بھی ملک میں جمہوری نظام کے قیام میں پیش پیش رہی‘‘۔

مزید : قومی