”عام ٹیسٹ میچوں میں بھی گلابی گیند استعمال کی جائے کیونکہ۔۔۔“ رمیز راجہ نے انتہائی حیران کن تجویز کی ایسی وجہ بتا دی کہ کوئی بھی انکار نہ کر سکے

”عام ٹیسٹ میچوں میں بھی گلابی گیند استعمال کی جائے کیونکہ۔۔۔“ رمیز راجہ نے ...
”عام ٹیسٹ میچوں میں بھی گلابی گیند استعمال کی جائے کیونکہ۔۔۔“ رمیز راجہ نے انتہائی حیران کن تجویز کی ایسی وجہ بتا دی کہ کوئی بھی انکار نہ کر سکے

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کھلاڑی رمیز راجہ نے عام ٹیسٹ میچز میں بھی گلابی گیند استعمال کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب موسم خراب ہو اور مصنوعی روشنیوں کا سہارا لینا پڑا تو ہم گلابی گیند کی مدد سے کھیل جاری کیوں نہیں رکھ سکتے؟

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تاریخی ٹیسٹ میچ خراب موسم کی نذر ہونے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ گلابی گیند کی مدد سے مصنوعی روشنیوں میں بھی کھیل جاری رکھا جا سکے گا اور اس حوالے سے ایم سی سی کے آئندہ اجلاس میں تجویز پیش کروں گا، 10 سال انتظار کے بعد ملک میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ کراچی میں شیڈول کیا جاتا تو شائقین کو 5 روز کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ خراب موسم کی صورت میں مصنوعی روشنیوں کا سہارا لینا پڑے تو ہم گلابی گیند کی مدد سے کھیل جاری کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی گیند اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتی ہے۔شائقین بڑی توقعات کے ساتھ میدان کا رخ کرتے ہیں ان کو مایوسی سے بچانے کیلئے ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے، رکن ہونے کی حیثیت سے میں ایم سی سی کرکٹ کمیٹی کے مارچ میں ہونے والے اجلاس میں گلابی گیند کے استعمال کی تجویز پیش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز بارش اور خراب روشنی کی وجہ سے مایوس کن صورتحال پیدا ہوئی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا ٹیسٹ کراچی میں کیوں نہیں رکھا گیا؟ وہاں موسم راولپنڈی جیسا نہیں ہوتا، ملک میں 10 سال بعد کوئی ٹیسٹ ہورہا ہے، شائقین کو 5 روز تک کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

دسمبر میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سخت سرد موسم ہوتا ہے، بارش نے بھی کھیل کو متاثر کیا، پہلے روز شائقین کی بڑی تعداد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے استقبال اور ٹیم کو سپورٹ کرنے کیلئے آئے لیکن موسم کی مداخلت سے ردھم ٹوٹ گیا، میرے خیال میں اس میچ کو بہت بہتر انداز میں شیڈول کیا جاسکتا تھا۔

مزید :

کھیل -