تصادم نہیں دور اندیشی اختیار کریں 

تصادم نہیں دور اندیشی اختیار کریں 
تصادم نہیں دور اندیشی اختیار کریں 

  

 پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز شریف چند ہفتوں سے اپنے والد کا مقدمہ اپنے تئیں بڑی خوبصورتی سے لڑ رہی ہیں اوروالد کے بیانئے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی حقیقی جانشین اور اصل وارث ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے ان کی گھن گرج اور جوش خطابت سے ان کا ووٹ بنک بڑھتا ہے یا کم ہوگا اس کا اندازہ تو اسی وقت ہوگا جب آئندہ انتخابات منعقد ہوں گے۔ وہ ایک طرف نئے سیاسی اتحاد جو گیارہ جماعتوں پر مشتمل ہے  کے جلسوں میں فن خطابت کے جوہر دکھاتی ہیں تو کبھی شیر جوان پروگرام اور کبھی پی ایم ایل (ن) کے سوشل میڈیا کنونشن میں دھواں دھار تقریریں کرتی ہیں  اگر محترمہ مریم نواز شریف ماضی کی تاریخ پر سرسری سی نظر ڈالنا گوارہ فرمالیں تو وہ اس نتیجے تک پہنچنے میں سے ضرور کامیاب ہو جائیں گی کہ محاذ آرائی اور اداروں سے تصادم نے ہمیشہ نقصان ہی کئے ہیں۔ نت نئے سانحوں نے جنم لیا ہے۔ ملک و قوم کو بڑے بڑے چرکے لگائے ہیں گہرے زخم دئیے ہیں جو کبھی رِستے اور کبھی مندمل تو ہوتے رہے ہیں لیکن ان کی کسک ضرور محسوس ہوتی ہے بسا اوقات ان سے ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں۔محترمہ مریم نواز شریف کو اس حقیقت سے بھی ضرور آگاہ ہونا چاہیے کہ 1988 کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت کو حکومت سازی کے آغاز کار ہی میں ایوانوں سے باہر نکالنے میں ایڑی چوٹی کا زور کس نے لگایا تھا تو 1990 میں پاکستان مسلم لیگ کی بننے والی حکومت اپنی اپوزیشن سے پھولوں کے گلدستوں کی توقع کس طرح کر سکتی تھی۔

اس جماعت نے بھی اپنی اپوزیشن کے ساتھ وہی کیا جو سلوک اس کے ساتھ روا رکھا گیا تھا اور نتیجتاً میاں محمد نواز شریف کو بھی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ پھر نہ رک سکا او ردونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان نہ ختم ہونے والی اور شیطان کی آنت کی طرح لمبی محاذ آرائی ایک طرف بیرونی ممالک میں ملکی و قومی تشخص کو مجروح کرنے کا باعث بنتی رہی جبکہ اندرون ملک قوم اور قومی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوتے رہے۔ یہ سیاسی محاذ آرائیاں ہی تھیں جو کبھی فیلڈ مارشل ایوب خان کبھی  جنرل ضیاء الحق اور کبھی جنرل پرویزمشرف کے اقتدار کی راہیں ہموار کرتی رہیں اور بعد ازاں ہمارے سیاستدان ہی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں کے کئے جانے والے اقدامات کو سند جواز مہیا کرتے رہے۔  سیاسی ناپختگی کے باوصف ہمارے سیاستدانوں میں پختگی ئ کردار بھی بہرحال رہی ہے اور اس کا ثبوت 2008 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد صدر آصف علی زرداری کا اپنی مدت عہدہ مکمل کرنا ہے اور اس طرح 2013 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اپنا پورا وقت ملنا سیاسی کلاس کے کچھ نہ کچھ بالغ ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن سیاستدانوں کا مجموعی کردار،  معذرت کے ساتھ  کلی طور پرقابل رشک اور لائق احترام قرار دینا ہمارے لئے ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

کیا یہ ظلم نہیں کہ وطن عزیز ایگرو بیسڈ کنٹری ہونے کے باوجود اپنے عوام کو فراہمی خوراک و غذا کے حوالے سے ناکام ہیں۔ موجودہ غذائی بحران گندم اور چینی اور چاول اور سبزیوں کے حوالے سے تاریخ کا بدترین بلکہ سنگین ترین بحران ہے۔ ہم بہتّر تہتّر سالوں میں زرعی اصلاحات ہی نہیں کر سکے نتیجہ یہ ہے کہ سینکڑوں اور درجنوں مربع زمینیں رکھنے والے جاگیردار اپنے مزارعین اور بے زمین کسانوں کی شبانہ روز محنت پر داد عیش دیتے ہیں۔ ہمارے صنعت کار طبقے کی ناز برداری تو ہر دور میں ہوتی رہی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک طرف جاگیرداروں نے اور دوسری جانب صنعتکاروں نے غریب مزدوروں کا خون نچوڑا ہے اور راتوں رات اپنی نت نئی ایمپائرز کھڑی کی ہیں۔ 

یہی حالت ہماری انتظامی اور سرکاری مشینری کی ہے کہ نہ تو وہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں استحکام اور توازن برقرار رکھ سکی ہے اور نہ صحت کے حوالے سے ادویات میں ملاوٹ کے رجحان کو روک سکی ہے اور نہ ہی اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کا حصول غریب بچے کے لئے آسان اور سستا ترین بنا سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم بیساکھیوں کے سہارے چلنے پر مجبور ہیں جس طبقے کی ذمہ داری اپنے عوام کو اسلام اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھی اس طبقے نے جہاد کے نام پرلوگوں میں  خوف پیدا کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں شاید اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ ننگا بدن اور خالی پیٹ بھوکا شخص اسلام اور عقیدے سے برگشتہ ہونے میں دیر نہیں لگاتا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آواز صدا بصحرا ہی ثابت ہوگی اور زیر نظر سطور کی اشاعت تک پی ڈی ایم کا جلسہ ہو چکا ہوگا یا روکا جا چکا ہوگا (حکومت جلسہ گاہ میں پانی نہ بھی چھوڑتی تو بھی قدرت شاید وزیراعظم پر مہربان ہے کہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور خواہ مخواہ حکومت نے بدنامی مول لی)۔ لیکن عرض کرنے کا مقصد جوہری طور پر یہی تھا کہ خدارا! کبھی تو سیاسی بلوغت کا عملی ثبوت کوئی پیش کرے۔ دو اڑھائی سال حکومت گزار چکی ہے باقی ماندہ مدت بھی پوری ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ مہنگائی اور لاقانونیت کی موجودگی میں حکومت کو کسی اور دشمن کی شاید ضرورت ہی نہ رہے۔

مزید :

رائے -کالم -