ایک کتاب بے مثال

ایک کتاب بے مثال
ایک کتاب بے مثال

  

پنجاب یونیورسٹی کے ہسٹری ڈیپارٹمنٹ نے لاہور کے حوالے سے ایک انتہائی خوبصورت کتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب کے مصنف پروفیسر احمد سعید ہیں۔ پروفیسر احمد سعید 1968ء سے لے کر 1988ء تک ایم اے او کالج لاہور میں بطور استاد کام کرتے رہے اور کچھ عرصہ صدر شعبہ بھی رہے۔ 1989ء سے 1993ء تک اسلامیہ کالج لاہور میں استاد اور صدر شعبہ رہے۔ اپنے عنوان، ”لاہور، ایک شہر بے مثال “ کی طرح یہ کتاب بھی تحقیقی لحاظ سے ”ایک کتاب بے مثال ہے“۔مجھے مقالے پڑھنے کا شوق ہے۔ لیکن موجودہ دور میں نام نہاد محقق جن کی ساری کاوشیں فقط ایک کاغذ کے پرزے ”پی ایچ ڈی“ کے حصول کے لئے ہوتی ہیں، ان کے مقالے نہ صرف عام آدمی کی سمجھ سے بالا ہوتے ہیں،بلکہ کسی بھی معقول فورم میں پیش بھی نہیں ہو سکتے۔ انہیں صرف ملی بھگت والے ریفری ہی سمجھ اور جان سکتے ہیں۔ میرے جیسے بندے کو وہ مقالے پڑھنے سے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا۔ میرا ہمیشہ سے دعویٰ رہا ہے کہ پی ایچ ڈی ہونا معمولی بات ہے جب کہ پروفیسر ہونا ایک بڑی بات ہے۔

پروفیسری عمر بھر کا نچوڑ ہوتی ہے اور پی ایچ ڈی کمپیوٹر کو نچوڑنے سے حاصل ہوتی ہے۔ چند لوگوں کو چھوڑ کر عملاً یہی صورت حال ہے،مگر اب کیا کیا جائے، پی ایچ ڈی کے حوالے پروفیسروں کی صورت ایک جنک اکٹھا ہو چکا ہے، جس کا کچھ علاج نہیں۔ پروفیسر احمد سعید کی اس کتاب”لاہور ایک شہر بے مثال“ نے میری اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔اس تحقیقی کتاب کو لکھنا ایک عظیم کام تھا۔ صرف ایسی ایک کتاب پر موجودہ دور کے ریسرچر آسانی سے دو درجن پی ایچ ڈی کے مقالے تیار کر سکتے ہیں۔موجودہ پی ایچ ڈی پروفیسر بیچارے سیاست سے فرصت ہی کہاں پاتے ہیں۔ گریڈوں کی دوڑ نے انہیں ویسے ہی پریشان کر رکھا ہے۔اچھے گریڈ کے حصول کے لئے جی حضوری اور کاسہ لیسی بہت وقت لیتی ہے وہ تو مشکل سے جو وقت نکالتے ہیں، اس میں گوگل کی مہربانی سے  اور ذاتی داؤ پیچوں سے کچھ نہ کچھ خانہ پری کر لیتے ہیں۔ گزارہ چل رہا ہے اور بہت خوب چل رہا ہے۔ 

کتاب ”لاہور ایک شہر بے مثال“ لاہور کی ایک سو سال سے زیادہ کی تاریخ، ثقافت، معاشرت،سیاست، اقتصادی صورت حال، مذاہب، رہن سہن اور بہت سی چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ میرے جیسا شخص جس نے لاہور میں ساٹھ اور ستر کی دہائیاں بڑی بھرپور گزاری ہیں، نہ صرف بہت سے پرانے حالات سے واقف ہوتا ہے ملکہ بہت سی اپنی پرانی یادوں سے بھی مستفید ہوتا ہے جو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ کتاب کی ابتدا لاہورمیں نکلنے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کے اہم جلوسوں سے ہوتی ہے۔ پھر لاہور میں ابتدائی کیلنڈر، عید کارڈ، قطعات، تصاویراور نقشے اور ان کے چھاپنے والوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے۔ لاہور میں موجود سرکاری اور نجی سرپرستی میں چلنے والی بہت سی لائبریریوں جو آ ج گوشہ گمنامی میں جا چکیں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اندرون شہر انجمن مستشارالعلما کا کتب خانہ، انارکلی میں خادم القوم کی رسائل کی لائبریری،میو ہسپتال کے نزدیک بھارت بلڈنگ میں ہندو لائبریری، میکلیگن روڈ پر سر گنگا رام لائبریری،ان دو ہندو لائبریریوں میں مسلمانوں کا داخلہ ممنوع تھا۔دوارکا داس  لائبریری، پری محل میں قومی ودیا پنتھ کی لا ئبریری،میو روڈ پر اقبال انڈسٹریل لائبریری، مال روڈ پر محکمہ صنعت و حرفت کی لائبریری، میوہ منڈی میں قائم عتیقی اردو لائبریری جس کی کتابیں بعد میں پنجاب یونیورسٹی لائبریری منتقل کر دی گئیں، لاہور میونسپل کمیٹی کی لائبریری، مسجد شاہ چراغ کی تعمیر ملت لائبریری اور بہت سی لائبریریاں اور کتب خانوں کا ذکر ہے۔ میں رنگ محل میں پیدا ہوا لیکن زیادہ بچپن مزنگ میں گزرا۔ میرے محلے میں میرے گھر کے نزدیک ڈاکٹر میاں عبدالکریم رہتے تھے جن کے نام پر علامہ اقبال کا کریم بلاک ہے۔1947ء میں انہوں نے تعمیر ملت لائبریری کو اپنی 175 کتابیں دیں،جو  اس زمانے کے اعتبار سے ایک بڑی تعداد ہے۔

لاہور کے ہوٹلوں اور چائے خانوں کا ذکر بھی بہت دلچسپ ہے، ہر ہوٹل جو ساٹھ اور ستر کی دہائی تک قائم تھا اس سے جڑی میری ذاتی یادیں لاتی اور ہنساتی رہیں۔ بہت دوست اور سات بیٹھنے والے ہمنوا یاد آئے۔ لاہور کبھی کالجوں کا شہر جانا جاتا تھا۔کیونکہ قیام پاکستان سے پہلے یہاں کالجوں کی بھرمار تھی۔ زیادہ کالج ٹیکنیکل تعلیم کے تھے تاکہ لوگوں کو روزگار کے حصول میں آسانی ہو۔ اس کے علاوہ، اردو کالج، انگریزی کالج، پنجابی کالج،شاعری کالج، لا کالج، ہومیوپیتھک کالج، موٹر ٹریننگ کالج، گرلز کالج اور بہت سے کالج تھے جو لاہور کے باسیوں کو نئے اور جدید علوم سے روشناس کر رہے تھے۔لاہور میں بجلی کی آمد اور اس کی تقسیم کا اس وقت کا طریقہ کار، دستاویزی اور دوسری فلموں کی آمد، اس وقت کے اداکار اور اداکارائیں، وائی ایم سی اے براڈ کاسٹنگ سے لاہور ریڈیو سٹیشن کا سفر، سرکسیں، ٹوپی اور دستار کی اہمیت اور ایسے بہت سے موضوع اس قدر دلکشی کا باعث ہیں کہ آدمی اس ماحول میں کھو جاتا ہے۔ لاہور میں یونین سازی کے بارے پڑھتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ ایک انجمن بے روزگاراں میرے محلے مزنگ میں میرے گھر کے ساتھ ہی ایک حویلی میں بنائی گئی تھی،جو اپنے وقت پر بہت فعال تھی۔کوئی وقت تھا کہ تانگہ واحد سواری ہوا کرتا تھا اور تانگے والوں کی یونین بہت فعال ہوتی تھی۔ اومنی بس کی آمد پر تانگے والوں کا احتجاج اور رفتہ رفتہ تانگے کا زوال بھی ایک تاریخی سفر ہے جس کا بیان بہت دلکش ہے۔

لاہور میں سیاسی اور سماجی تقاریب کے لئے بہت سے ہال ہوا کرتے تھے۔ مزے کی بات کہ اس زمانے میں ان ہالوں میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ ہوتا تھا اور لوگ خوشی سے ٹکٹ خرید کر ان جلسوں اور تقریبات میں بھر پور شرکت کرتے تھے۔معروف ہالوں میں انجمن اشاعت علوم کا S.P.S.K ہال جو کبھی موری دروازے کے باہر ہوتا تھا اور آج سڑک کی کشادگی کی نظر ہو چکا، موچی گیٹ کے سامنے برکت علی محمڈن ہال، اسلامیہ کالج کا حبیبیہ ہال،ریٹیگن روڈ نزد مزار داتا گنج بخش پربریڈ لا ہال، مال روڈ پر موجود  وائی ایم سی اے ہال، لوئر مال پر لاجپت رائے ہال اور لاہور میوزیم کے ساتھ لائبریری کی نچلی منزل پر موجود وکٹوریہ جوبلی انسٹی ٹیوٹ ہال سمیت سب ہالوں کی تاریخ سے آپ کو یہ کتاب  بخوبی روشناس کرتی ہے۔ اس کتاب میں استفادہ حاصل کرنے کو بہت کچھ ہے ایک چیز جس کی میں تشنگی محسوس کی کہ لاہور کے میلوں کا ذکر نہیں کیا گیاباقی ہر لحاظ سے یہ ایک شاندار کتاب ہے اور اس کی اشاعت پر صدر شعبہ محبوب حسین اور ان کے ساتھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -