بھارت میں ویلنٹائن ڈے پر سختیاں

بھارت میں ویلنٹائن ڈے پر سختیاں

  

آج 14 فروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس روز آپس میں پیار و محبت کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اظہار عشق کرتے ہوئے سرخ گلاب پیش کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں تو باقاعدہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں.... اب ان کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہ تہوار منانے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ اظہار عشق میں جو پھول وہ کسی کی بہن کو بھیجتے ہیں ، اگر ایسے ہی پھول کوئی ان کی اپنی سگی بہن کو پیش کرے یا ان کے گھر بھیج دے تو وہ اسے کس حد تک برداشت کر لیں گے....؟ اور وہ کون کون اور کتنے نوجوان ہوں گے جو اپنی سگی بہنوں کو گھروں سے خود روانہ کریں گے کہ وہ جا کر اپنے عاشقوں کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منائیں۔ اگر کوئی اپنی بہن کے لئے پسند نہیں کرتا تو یہ کسی دوسرے کی بہن کے لئے کیوں پسند کرتا ہے....؟ آج بھارت میں ویلنٹائن منانے والوں پر سخت گیر مذہبی ہندو تنظیمیں حملے کرتی اور پھول و تحائف بیچنے والوں کی دکانیں توڑ پھوڑ دیتی ہیں۔ ہندوﺅں کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن سامان بے حیائی اور ان کی تہذیب و ثقافت کے انتہائی خلاف ہے۔ لہٰذا اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت میں ویلنٹائن ڈے انتہائی خوف و دہشت کے سائے میں منایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ویلنٹائن کو باقاعدہ معاشرے اور سماج کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔اس بار 14 فروری قریب آیا تو عین اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہاں کی چند لڑکیوں نے مل کر پہلی بار راک بینڈ تشکیل دیا جسے ”پراگاش“ کا نام دیا گیا لیکن مفتی اعظم مقبوضہ کشمیر مفتی بشیر الدین نے اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ صادر فرما دیا تو ان لڑکیوں نے بلا چوں چراں بینڈ کو بند کر کے اس کام کوہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اور کہا کہ انہیں دین اور فتویٰ عزیز ہے، اپنی موسیقی اور گانا بجانا نہیں.... اس واقعہ نے بھارت کے اندر بہت زیادہ بھونچال کھڑا کر دیاہے۔دوسری طرف سارے مقبوضہ کشمیر میں ان لڑکیوں کے اس عمل کو بے حد سراہا گیا اور ان کی تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔ کشمیری قوم اور ان کی بچیوں نے دین پر عمل کرنے میں ذرا دیر نہیں کی کہ وہ اندر سے مسلمان تھے۔ کیا ہمارے ہاں بھی کبھی ایسا ہو سکتا ہے....؟  ٭

مزید :

کالم -