عام انتخابات میں خواتین ووٹرز کا کردار

عام انتخابات میں خواتین ووٹرز کا کردار
عام انتخابات میں خواتین ووٹرز کا کردار

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عام انتخابات میں خواتین ووٹروں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات کو مختلف سیاسی پارٹیوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر ، خصوصاً خبیر پختونخواسمیت قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی کی خراب صورت حال اس عمل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، حالانکہ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی پارٹیوں کو ہدایت کی کہ وہ ووٹنگ کے عمل میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنائیں اور اس سلسلہ میں قانون سازی میں ان کی مدد کریں ، جہاں بھی خواتین پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کی شرح 10فیصد سے کم ہوگی، وہاں نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس حلقے میں پولنگ دوبارہ کرائی جائے گی، چونکہ پاکستانی آئین میں ووٹروں کو بااختیار بنانے اور خواتین کی جمہوری عمل میں شرکت کویقینی بنانے کی ضمانت دی گئی ہے، اس لئے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے اکثر دیہی علاقوں میں ابھی تک خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے، حالانکہ وہ ووٹ ڈالنے کا آئینی اور قانونی حق رکھتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں47.77ملین مرد ووٹر، جبکہ 36.58 ملین خواتین ووٹرز ہیں، لیکن خواتین کو ووٹ ڈالنے کے عمل میں شدید ترین رکاوٹوں کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں خواتین ووٹروں کی ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں خواتین کا ووٹ کاسٹ نہ کروانے کی بڑی وجہ وہاں کی ثقافتی اقداریا ان کے بزرگوں کے فیصلے ہیں، جہاں مردوں کے لئے اپنی خواتین کو ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے باہر لانا ان کی بے عزتی تصور کی جاتی ہے، حالانکہ ان دیہی علاقوں کی خواتین نہ صرف کھیتی باڑی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں، بلکہ اب تو ان علاقوں کی پڑھی لکھی خواتین مختلف سرکاری محکموں، خصوصاً محکمہ تعلیم میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں خواتین کو الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ تک جاری نہیں کئے جاتے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی کے ایوان کی 272سیٹوں میں سے صرف17پرخواتین عام انتخابات میں حصہ لے کر منتخب ہوئی ہیں ،جن میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی10،پاکستان مسلم لیگ (ن) کی 3، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی3اور ایک خاتون بطور آزاد امیدوار کامیاب ہوئیں ۔ان تمام منتخب شدہ خواتین میں سے5کا تعلق سندھ ،جبکہ باقی کا پنجاب سے ہے، جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ایک بھی خاتون نے عام انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہیں لیا۔عورتوں کی انتخابات میں شمولیت کے بارے میں ایک قومی کمیشن نے اپنی ایک تحقیق میں لکھا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران بھی خبیر پختونخوا میں سیاسی پارٹیوں نے باہمی معاہدے کے ذریعے عورتوں کو نہ صرف الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا، بلکہ انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا، اسی طرح 1950-60ءمیں بھی دو امیدواروں شیر علی خان اور عطااللہ خان نے تحصیل پائی خیل ضلع میانوالی میں باہمی معاہدہ کرکے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا تھا: آج تک وہاں کسی بھی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا۔ عام انتخابات2008ءکے نتائج کے بعد بھی یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان بھر میں صرف خواتین کے لئے بنائے جانے والے11ہزار پولنگ سٹیشنوں میں سے 564 پولنگ اسٹیشن ایسے تھے، جہاں ایک بھی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا اور ووٹنگ کی شرح صفر رہی۔ اس صورت حال کو جانچنے اور 2013ءمیں ہونے والے عام انتخابات میں خواتین ووٹروں کی شرکت کو یقینی بنانے سمیت اس کی شرح کم از کم10فیصد تک بڑھانے کے لئے فافن FAFEN کی جانب سے ووٹر ایجوکیشن پروجیکٹ شروع کیا جاچکا ہے، جس کے تحت پاکستان بھر کے ان تمام پولنگ سٹیشنوں پر مخصوص گروہی بحث کے دوران خواتین ووٹروں کا ٹرن آﺅٹ نہ ہونے کی وجوہات تلاش کی گئیں، تاکہ ان وجوہات کو ختم کرکے ان علاقوں میں خواتین ووٹروں کی انتخابات میں شرکت کو یقینی بنایاجاسکے ،اسی سلسلے میں سی پی ڈی آئی....Centre for Peace and Development Initiatives....نے سرگودھا اور جھنگ کے ان8 پولنگ سٹیشنوں میں سروے کا کام مکمل کیا۔ سروے کے دوران ضلع سرگودھا میں یہ بات سامنے آئی کہ ان پولنگ سٹیشن پر گزشتہ50سال سے کسی بھی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا، جب ان سے وجوہات دریافت کی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی برادریوں کے بڑوں نے کئی عشرے قبل ہی باہمی اتفاق سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس علاقے کی کوئی خاتون ووٹ نہیں ڈالے گی ، اس فیصلے پر من و عن عمل کیا جارہا ہے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ان علاقوں میں جو بھی امیدوار خواتین کے ووٹ مانگتا ہے یا انہیں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے نہ صرف اس علاقے کی خواتین، بلکہ مردحضرات کے ووٹوں سے بھی محروم ہو نا پڑتاہے ،اسی طرح ضلع جھنگ کے حلقہ این اے88کے پولنگ سٹیشن چناب نگر میں خواتین ووٹروں کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ وہاں کی قادیانی آبادی ہے، جنہوں نے حکومت کی جانب سے ان کے ووٹ الگ لسٹوں میں شامل کئے جانے اور ان پر (صرف قادیانیوں کے لئے) تحریر کئے جانے کے خلاف احتجاجاً الیکشن کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ اس وجہ سے اس پولنگ سٹیشن پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا گیا۔مندرجہ بالا صورت حال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین ووٹروں کے ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ دہشت گردی یا سیکیورٹی صورت حال بتایا جانا سراسر غلط اور لغو ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں برادریوں یاقبائلی عمائدین کی جانب سے کئے گئے معاہدے ہی خواتین کے ووٹ ڈالنے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، شاید اسی وجہ سے حکومت کی جانب سے خواتین کو ایوان میں بھرپور نمائندگی دینے کے لئے دونوں ایوانوں میں خواتین کی مخصوص سیٹیں مختص کر دی گئی ہیں، جس سے عام خواتین کے لئے اسمبلی میں آنا توممکن نہیںرہا ،تاہم ان کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین کی کثیر تعداد اس اہم ترین فورم پر اپنا بھرپورکردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 8 کروڑ 43 لاکھ64ہزار375ہے ،جن میں سے 3 کروڑ 65 لاکھ 81ہزار193 خواتین ووٹرز ہیں ،اسی طرح صوبہ بلوچستان کے کل ووٹرکی تعداد 32 لاکھ 78 ہزار 124ہے ،جس میں سے 13 لاکھ 91 ہزار912 خواتین ووٹر ہیں، فاٹا کے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 16 لاکھ 75 ہزار 956ہے، جس میں 5 لاکھ 55 ہزار 230ووٹرخواتین ہیں۔فیڈرل ایریا میں کل 6 لاکھ 4 ہزار 802 رجسٹرڈووٹرہیں، جن میں خواتین کے 2 لاکھ 79ہزار7ووٹ ہیں،خیبر پختونخوا میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1کروڑ20لاکھ64ہزار529ہے، جس میں 51 لاکھ 35ہزار474ووٹرزخواتین ہیں، اسی طرح صوبہ پنجاب میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 4کروڑ 83 لاکھ 8ہزار187ووٹرہے ،جن میں سے 2 کروڑ 10 لاکھ11ہزار177 خواتین ووٹرزہیں اورصوبہ سندھ کے1 کروڑ 84لاکھ32ہزار777 رجسٹرڈووٹرز میں سے82 لاکھ18ہزار393خواتین ووٹرز ہیں۔یہ تفصیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں نصف کے لگ بھگ خواتین ووٹر ہیں، لیکن انہیں کبھی بھی حکومت سازی کے لئے انتخابات میں شمولیت تو درکنار ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ایک طرف تواب خاتون ملک کے تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں تودوسری طرف انہیںحکومت کے چناﺅ کے عمل میں یکسر طور پر نظر انداز کیا جارہاہے ۔پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے کہ اس کی نصف سے زائد آبادی کو حکومت سازی کے عمل میں شرکت سے روک دیاجائے، اس سلسلے میں تمام سیاسی پارٹیوں سمیت سول سوسائٹی اورعلاقوں کے بااثر لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ حکومت سازی میں عوامی شرکت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اوراگر ہمارے ملک کی نصف سے زائد آبادی اس عمل میں شرکت ہی نہیں کرے گی تو اس عمل کو کیسے جمہوری کہا جاسکتا ہے۔ قانونی طو رپر ہر وہ شہری، جس کا ووٹ بن چکا ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرے۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ایک واضح اور جاندار کردار ہونا چاہیے ،کیونکہ جب تک ایسے دوررس اقدامات نہیں کئے جاتے خواتین ووٹروںکا عام انتخابات میں کردار بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔چونکہ اب الیکشن کی آمد آمد ہے اور 2013ءکو الیکشن کا سال قرار دیا جارہا ہے۔ یہ ایک اہم وقت ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس مسئلے کو تمام سیاسی پارٹیوں کے سامنے رکھے اور انہیں کہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں نہ صرف خواتین کو ٹکٹ الاٹ کریں ،بلکہ خواتین کو ووٹ ڈالنے جیسے فرض کی ادائیگی میں پیداشدہ رکاوٹیں دور کرے اور جہاں بھی خواتین پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کی شرح 20فیصد سے کم ہو،اس حلقے میں دوبارہ پولنگ کروائی جائے۔ ٭

مزید :

کالم -