بینظیر بھٹوکی خدمات (1)

بینظیر بھٹوکی خدمات (1)
بینظیر بھٹوکی خدمات (1)

  

سب سے پہلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری اور سٹیج پر تشریف فرما شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب آصف علی زرداری صاحب،وزیراعظم پاکستان، جناب راجہ پرویز اشرف صاحب،صدر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ، جناب سید قائم علی شاہ صاحب اور گڑھی خدا بخش میں موجود چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید کے لاکھوں چاہنے والوں، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے جانثاروں اور بلاول بھٹو زرداری کے قافلہ جمہوریت میں شامل دوستوں، بزرگوں، ماﺅں اور بہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔مَیں اپنی شہید قائد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں خطہ ملتان کے لاکھوں عوام کے دلوںمیںموجزن بے پناہ عقیدت کے جذبات گڑھی خدا بخش لایا ہوں۔ اولیاءکے شہر ملتان کا سرزمین سندھ سے رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ زمانہ ¿ قدیم میں ملتان سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اورملتان ہی وہ شہر ہے، جس کے بارے میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (لاہور) نے ارشاد فرمایا تھا کہ” میں ملتان کے مضافات میں رہتا ہوں“۔میرے دوستو! بزرگو اور بہنو!اپنی شہید قائد اور عظیم رہنما کو عقیدت کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے میں جب سے گڑھی خدا بخش میں داخل ہوا ہوں، ہر لمحے یہ احساس مجھے دامن گیر ہے کہ ہماری شہید لیڈر ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمیں دیکھ بھی رہی ہیں۔ اور ہم سے یہ سوال بھی کر رہی ہیں کہ کیا تم اس مقصد کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کو تیار ہو؟ جس کی تکمیل کے لئے آج سے پانچ سال قبل میں نے اپنی جان قربان کردی؟مَیں اپنی شہید لیڈر کی سب باتوں کو سن رہا ہوں۔ وہ مجھے بتا رہی ہیں کہ یوسف بھائی ادھر دیکھو۔ وہ میرے سامنے شہید بابا سو رہے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے پاکستان کے غریبوں کے حق کے لئے آواز اُٹھائی تھی۔ میرے شہید بابا نہ کسی فوجی ڈکٹیٹر سے دبے اورنہ کسی آمر کے سامنے جھکے۔ انہوں نے جان دے دی مگر غریبوں کے حقوق کا سودا نہ کیا۔شہید بی بی مجھے بتا رہی ہیں کہ یوسف بھائی میری عظیم والدہ، مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو بھی گڑھی خدا بخش میں موجود ہیں۔ میری شہید لیڈریہ بتا رہی ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو عہد جدید کی وہ عظیم اور بہادر خاتون ہیں جن کے دُکھ سن کر پہاڑوں کے دل دہل جائیں، مگر یہ عظیم خاتون اپنے سارے ذاتی مصائب دُنیا سے چھپا کر غریب عوام کے دُکھ دردختم کرنے کے لئے ساری عمر جدوجہد کرتی رہیں۔یہ ہمیں ہیں جو کئی درد چھپا کر دل میںکام دُنیا کے بدستور کئے جاتے ہیںوادی ¿ مہران، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، دیر، سوات اورچترال سے آنے والے جیالو!سُنو۔ غور سے سُنو۔ ہماری شہید لیڈر اپنے شہید بابا کو مخاطب کرکے کہہ رہی ہیں۔مت پُوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرےیہ دیکھ کہ تجھ پہ کوئی الزام نہ آیاگڑھی خدا بخش میں موجود میرے دوستو!بزرگو! بہنو اوربھائیو!مجھے یہ بھی یقین ہے کہ شہید بی بی اس وقت اپنے فرزند بلاول بھٹو زرداری کو دیکھ رہی ہیں۔ وہ بلاول بھٹو زرداری جنہوں نے اپنے عظیم نانا چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید کی تقریریں پڑھ کر اور ان کے افکار سے آگاہی حاصل کرکے سیاست کے رموز سیکھے۔وہ بلاول بھٹو زرداری جنہوں نے عوام سے پیار کرنے کا سبق اپنی عظیم ماں کی گود سے سیکھا.... اور وہ بلاول بھٹو زرداری جن کے والد نے جمہوریت اور عوام کے لئے قید و بند کی صعوبتیں بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔آپ سب کوگواہ بنا کر میںاپنی عظیم لیڈر کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ محترمہ! آپ کے پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔پاکستان کا مستقبل بلاول بھٹو زرداری جیسے باصلاحیت نوجوان قائد کے ہاتھوں میں ہے۔پاکستان کا مستقبل ان لاکھوں نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے بلاول بھٹو زرداری کے قافلہ جمہوریت کا حصہ ہیں۔پاکستان کے نوجوان جانتے ہیں کہ وہ سیاستدان جو پوری زندگی عوام سے دور رہے۔ اب تبدیلی کے نعرے لگا کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لاکھوں نوجوان تبدیلی کے لئے اپنے اس نوجوان قائد کے ساتھ ہیں کہ عوام کے لئے قربانیاں دینا، جس کے خاندان کے خمیر میں شامل ہے۔مَیںصدر پاکستان محترم آصف علی زرداری کی جرات اور ان کے سیاسی کردار کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے سیاسی سوجھ بوجھ، تدبر اور جرا¿ت مندی کے ساتھ شہید بی بی کے ویژن کے مطابق، ان کی سیاسی مفاہمت کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے مشکل ترین حالات میں وفاق پاکستان کو سنبھالے رکھا۔ہمیں یقین ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ذات پاکستان پیپلز پارٹی کا وہ اثاثہ ہے، جو اس قافلہ جمہوریت کو آگے بڑھنے اور بھٹو دشمنوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ انمٹ قربانیوں سے عبارت ہے، جس میں اعلیٰ قیادت سے لے کر پارٹی کے گم نام، مگر عظیم کارکن بھی شامل ہیں۔ مجھے کارساز کا سانحہ بھی یاد ہے اور شہید بی بی کے یہ الفاظ بھی یاد ہیں کہ ”کارساز کے شہیدوں کو لاوارث مت کہو، ان کی وارث میں ہوں اور میں ان سب کو گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دفن کروں گی“۔یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن کبھی بکا ہے اور نہ کبھی جھکا ہے۔ قربانیوں کی داستانیں رقم کرنے والے یہ کارکن شاہی قلعہ کے عقوبت خانوں میں رہے۔ چیئرمین بھٹو کی رہائی کے لئے خود سوزی کرکے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کوڑوں کی سخت ترین سزا برداشت کی اور کوڑے کی ہر ضرب پر.... جیوے جیوے، بھٹو جیوے....کا نعرہ مستانہ بلند کرتے رہے۔آج گڑھی خدا بخش میں شہید بے نظیر بھٹو کے روبرو کھڑے ہوکر مَیں بھٹو دشمنوں، عوام دشمنوں، عوام کی خوشحالی کے دشمنوں اور جمہوریت کے دشمنوں پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سازشوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے خواب دیکھنے والے خود ختم ہوجائیں گے، مگر ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی۔بیگم نصرت بھٹو کی پارٹی۔بے نظیر بھٹو کی پارٹی۔آصف علی زرداری کی پارٹی۔بلاول بھٹو زرداری کی پارٹی.... اور پاکستان کے غریب اور غیور عوام کی پارٹی۔پاکستان پیپلز پارٹی کبھی ختم نہیں ہوگی....عوام دشمن قوتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی ایک سازش اس وقت بھی کی تھی جب ہمارے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے نام نہاد عدالتوں اور فوجی آمروں کے اس ناحق فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھا اور شہید بھٹو آج بھی عوام کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام اور عوامی حقوق کے لئے جدوجہد سے روکنے کے لئے بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف لاتعداد جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے ان کو سیاست سے آﺅٹ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ عالم نے یہ منظربھی دیکھا کہ شہید بی بی اور آصف علی زرداری کے خلاف عدالتوں کے فیصلے، جب عوامی عدالت میں آئے تو عوام نے تمام الزامات کو رد کردیا اوراپنے محبوب رہنماﺅں کو اپنے مزید اعتماد سے نوازا۔ شہید بی بی آگاہ تھیں کہ پاکستان کو حقیقی خطرہ غیرجمہوری رویوں سے اور دہشت گرد قوتوں سے ہے۔ ان خطرات کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے خلاف بھی جہاد کیا اور ان کی یہ تقریر آج بھی پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”سوات میں پاکستان کاجھنڈا میںخود لہراﺅں گی“۔مَیں سمجھتا ہوں کہ آج ملک میں ایک جمہوری حکومت پانچ سال کا عرصہ مکمل کرنے کو ہے اس کا سہرابھی شہید بی بی کی سیاسی مفاہمت کی سوچ کو جاتا ہے جسے ہم نے اپنے لئے مشعل راہ بنایا۔

(محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پانچویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم پاکستان ، سینئر وائس چیئرمین پی پی پی کی تقریر کا متن)(جاری ہے) ٭

ہمیں فخر ہے کہ ہماری سیاسی تربیت شہید بی بی نے کی۔ ہم سب آگاہ ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مقبول عام نعرہ تھا ”وزیراعظم بے نظیر“۔ ان کے ہوتے ہوئے ان کے قافلہ جمہوریت میں شامل کوئی فرد یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کسی اور نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ وہ پاکستان کا عظیم اثاثہ تھیں اور ہم میں سے کسی کو اس میں شبہ نہیں کہ اگرآج وہ ہمارے درمیان موجود ہوتیں تو آج پاکستان کے حالات بہت بہتر ہوتے اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا مقام بلند تر ہوتا۔آج شہید بی بی جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی سوچ، ان کے افکار اور ان کے نظریات ہماری سوچ ، ہمارے دل، ہمارے دماغ اور ہماری روح میں راسخ ہوکر ہماری شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں۔عوام دوست اور عوام دشمن قوتوں کے درمیان جاری لڑائی کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھی گئی، جب مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین اور اپنی سیاسی قیادت سے وفاداری کے جرم میں نااہل قرار دیا گیا۔ ملتان کے عوام نے اسی دن پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک غریب کارکن کو رکن پنجاب اسمبلی منتخب کر کے نام نہاد عدالتی فیصلے کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب ایک عدالت نے مجھے نااہل کیا تو عوام نے میرے بیٹے کو قومی اسمبلی میں بھیج کرمیری بریت پر عوامی مقبولیت کی مہر تصدیق ثبت کردی۔پاکستان پیپلز پارٹی وفاق پاکستان کی حقیقی ترجمان اور علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کا صدیوں پرانا مطالبہ پورا کیا اور اس صوبہ کوشناخت دی۔ گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی دیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت تعمیر و ترقی کے لئے صوبوں کو خطیر فنڈز دیئے گئے اور آغاز حقوق بلوچستان کے تحت بلوچ عوام کو صوبائی خودمختاری اور مالیاتی اختیارات دیئے۔مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ حقوق مشرقی پاکستان کے عوام کو دے دیئے جاتے تو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا۔ عوامی حقوق دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے انہیں شناخت دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔مجھے فخر ہے کہ شہید بی بی کی سیاست کا امین ہونے کے ناطے مجھے پاکستان میں سب سے زیادہ عرصہ تک وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس امانت کی پاسداری میںمجھے جو کامیابی نصیب ہوئی اس کی گواہی آپ سب لوگ دیں گے۔ اور یہ امر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ شہید بی بی کی سوچ، افکار اور ویژن پر عمل کرتے ہوئے ہم نے پارلیمنٹ سے 104آئینی ترامیم متفقہ طور پر منظور کرائیں۔ صدر نے اپنے اختیارات رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ کو سونپ دیئے تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین اور پارلیمانی نظام کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کیا جاسکے۔ہم نے شہید بی بی کے فلاحی مملکت کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ملک کے 72لاکھ غریب خاندانوں کو مالی معاونت بہم پہنچائی گئی۔ یہ وہ عوامی پروگرام ہے، جس کے شفاف ہونے کی تصدیق دنیا کے موقر عالمی ادارے کرچکے ہیں۔ ہماری حکومت نے میڈیا کی آزادی کے لئے قانون سازی اور معلومات تک رسائی کے حق کا قانون متعارف کرایا، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی، کاشتکاروں اور زراعت پیشہ لوگوں کومراعات دیں۔ اقلیتوں کے لئے اسمبلیوں میں ان کی نشستوں میں اضافہ بھی اس ویژن کی ترجمانی ہے۔ اسی طرح ہم نے11اگست کو اقلیتوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔ ہم نے سوات کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔ اور شاید خود تاریخ کے پاس بھی ایسی کوئی دوسری مثال موجود نہیں کہ صرف 90 دن کے اندر 25 لاکھ سے زیادہ اندرون ملک بے گھری کا شکار افراد کوواپس اپنے گھروں میں بسایا گیا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ 30 برسوں کے بعد بھی افغان مہاجرین اپنے وطن واپس نہیں جاسکے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے شہید بی بی کے معاشی مفادات کے ویژن کواختیار کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کی اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کی اور امریکہ کے ساتھ respect Mutual اور Mututal interest کی بنیاد پر تعلقات کا نیا دور شروع کیا ۔ روس اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے۔ بہترین سفارت کاری کی بدولت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نشست حاصل کی۔ ہمارے عوامی دورحکومت میں کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کیا گیا اور بھارتی وزیراعظم اور پاکستانی وزیراعظم نے سفارتی سطح پر کشمیر کے مسئلہ پر بامقصد بات چیت کا آغاز کیا۔ بین الاقوامی تجارت میں نمایاں اضافہ کیا۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے برطرف شدہ ہزاروں ملازمین کو بحال کیا۔ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کومستقل کیا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے شہید بی بی کے قافلہ جمہوریت کا حصہ بنتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو شہید بی بی نے مجھ سے صرف ایک ہی Commitmentلی تھی اور یہ Commitment شہید قائد عوام کے آئین کی بحالی اور نئے انتخابات کے لئے جدوجہد کرنے کے بارے میں تھی۔ مجھے یقین ہے کہ آج شہید بی بی کی روح مطمئن اور مسرورہوگی کہ ہم نے 1973ءکا آئین اصل شکل میں بحال کردیا ہے۔آج شہید بی بی کے سامنے کھڑے ہوکر میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ محترمہ ! میں نے اپنے عہد سے بے وفائی نہیں کی۔یہاں میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب شہید قائد کے آئین کے تحفظ کا مسئلہ سامنے آیا تو میں اپنے موقف پر ڈٹ گیا، کیونکہ یہ شہید بھٹو اور ان کی عظیم دختر کی مسند کا تقاضہ تھا۔ اس مسند پر بیٹھ کر شہید قائدین کے نظریات، خیالات اورسیاسی اقدار سے روگردانی کا تصور بھی میرے لئے محال تھا، لہٰذا مَیں نے حکومت کو خیرباد کہنے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہ کی اور آئندہ بھی شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے ویژن کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔مَیں آج گڑھی خدا بخش میں اپنے عہد کی تجدید کرتا ہوں کہ محترمہ! یوسف رضا گیلانی کل بھی آپ کا بھائی تھا، آپ کا جانثار تھا اوریوسف رضا گیلانی آئندہ بھی آپ کا بھائی اور جانثار رہے گا۔میرے دوستو اور بزرگو!آج سے پانچ سال قبل لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے کارکنوں کو ہم اپنی یادوں کا محبت بھرا سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اپنی جان بے نظیر بھٹو پر نچھاور کرتے وقت ان کارکنوں نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔ہر گھر سے بھٹو نکلے گاتم کتنے بھٹو مارو گےہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی کارکنوں نے جمہوریت کی بالادستی کے لئے قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، مگر مجھے خوشی اور فخر ہے کہ میرا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہے جہاں کارکنوں سے زیادہ قربانیاں پارٹی کی قیادت نے دی ہیں۔میرے دوستو اور بزرگو!گڑھی خدا بخش میں دفن ہونے والے تمام شہید پاکستان پیپلز پارٹی کی عظیم قربانیوں کی روایت کی ہمیشہ گواہی دیتے رہیں گے۔ یہ ان قربانیوں کااعجاز ہے کہ آج یہ نعرہ پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے !زندہ ہے بی بی ۔ زندہ ہےشہید محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد٭٭٭

(محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پانچویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم پاکستان ، سینئر وائس چیئرمین پی پی پی کی تقریر کا مکمل متن)

مزید :

کالم -