پاکستان کی معاشی ترقی میں بیرونی سرمایہ کاری کی اہمیت

پاکستان کی معاشی ترقی میں بیرونی سرمایہ کاری کی اہمیت

  

دورحاضر میں تصورات اور نظریات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ جنگ اب میدان نہیں ابلاغی اور معاشی محاذ پرلڑی جاتی ہے۔ مضبوط معیشت کسی بھی ملک کو سپرپاور کا درجہ دے سکتی ہے۔ 1990ءمیں جنوبی ایشیا کے ممالک میں ڈائریکٹ غیرملکی سرمایہ کاری شروع ہوئی اور نئی منڈیوں کی تلاش میں سرگرداں مغربی کمپنیوں نے بھارت چین سمیت خطے کے تمام ممالک میں اپنی فیکٹریاں اور آﺅٹ لیٹ بنانے شروع کر دیئے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی معیشت سیاسی اتار چڑھاﺅ اور خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے غیریقینی کا شکار رہی۔ مگر اب وزیراعظم محمد نوازشریف نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کی ڈگمگاتی کشتی کو مضبوط معاشی پالیسیوں سے سنبھالا دیا۔ وزیراعظم کے معتمد ساتھی اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالتے ہی شب و روز محنت سے معاملات کو سنبھالا جس سے خاطرخواہ مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے بیرونی سرمایہ کاری کو ترغیب ملے گی اور مقامی کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو گا۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کوشاں ہے مگر توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کا ”جنون“ بھی رنگ لائے گا۔

خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف پنجاب میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے متعدد کامیاب کوششیں کر چکے ہیں۔ میٹروبس اور سالڈویسٹ مینجمنٹ پراجیکٹ پاک ترک دوستی کا ثبوت بھی ہے اور پنجاب میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ترغیب کا سبب بھی ہے۔ محمد شہازشریف بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے بہاولپور میں قائد اعظم سولر پارک اور کول پاور پراجیکٹ کے لئے متعدد غیرملکی کمپنیوں کے نمائندوں سے مشاورت کر چکے ہیں۔ بعض منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے اور دیگر شروع ہونے کو ہیں۔ خادم اعلیٰ صوبہ میں غیرملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لئے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں تاکہ عوام کو روزگار ملے۔ صنعت اور پیداوار کو فروغ ملے‘ وزیراعلیٰ نے گارمنٹ انڈسٹری کے فروغ کے لئے لاہور میں اپیرل پارک (Apparel Park) کے منصوبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

آئی ایم ایف نے وزیراعظم محمد نوازشریف کی اقتصادی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے گذشتہ برس 16.6 ارب ڈالر بیل آﺅٹ پیکج کی منظوری دے دی۔ پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہتے ہوئے550ملین ڈالر کی تیسری قسط بھی اسی سال متوقع ہے۔ آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں اکنامک گروتھ کی شرح 3.1 فیصد تک پہنچ جائے گی۔معاشی ترقی کی ٹرین کو صحیح ٹریک پر ڈالنے کے لئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے بیرونی سرمایہ کاری کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جاوید ملک جیسی متحرک‘ فعال اور محب الوطن شخصیت کو پاکستان کے سفیر برائے سرمایہ کاری مقرر کیا ہے کیونکہ معاشی اعشاریئے کی بڑھوتری کو برقرار رکھنے کے لئے مثبت اقدامات کا تسلسل ضروری ہے۔ جاوید ملک دبئی میں بیرونی سرمایہ کاروں کی ترغیب کے لئے متعدد سیمینارز منعقد کرا چکے ہیں جن میں نہ صرف اوورسیز پاکستانی بلکہ غیرملکی سرمایہ کار بھی مدعو تھے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر چند روز قبل وزیرخزانہ اسحق ڈار کی زیرصدارت دبئی میں پاکستان بزنس فورم کے اجلاس کے دوران پاکستان انٹرنیشنل بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل قائم کر دی گئی جس کا مقصدبیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تاجروں‘ صنعتکاروں‘ سرمایہ کاروں اور پروفیشنلز کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ پاکستان بزنس فورم کا اہتمام پاکستان کے خصوصی سفیر برائے سرمایہ کاری جاوید ملک نے عرب سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کے لئے دبئی میں پاکستانی پروفیشنلز اور کاروباری برادری کے اشتراک سے کیا-پاکستانی بزنس کونسلز کے صدور، چیئرمین اور سی ای اوز بھی اس موقع پر موجودتھے-

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی اقتصادی و معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا اور شرکاءکو حکومت پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے اور تجارتی ویژن سے آگاہ کیا-انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کومعاشی خودانحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے-

اس موقع پر پاکستانی سفیر برائے سرمایہ کاری جاوید ملک نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ اسحاق ڈار کی انتھک محنت، عمدہ حکمت عملی اور کاوشوں کی بدولت ملک کی معیشت بحالی کی طرف گامزن ہے ، شفافیت اور گڈ گورننس حکومت پاکستان کا طرہ امتیاز بن چکا ہے جس پر بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی فخرمحسوس کرتے ہیں -

جاوید ملک نے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تاجروں کو بہترین سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے پاکستان انٹرنیشنل بزنس اینڈانویسٹمنٹ کونسل بنانے کا اعلان کیا جو پاکستانی تاجروں اورپروفیشنلز کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گی-جاوید ملک نے کہا کہ پاکستان بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل معاشی سفارتکاری کا بہترین نمونہ ہے جو پاکستانی تاجروں اور پروفیشنلز کے علاوہ پاکستان کے دوستوں کو باہمی تجارتی روابط کے مواقع فراہم کرے گی اور بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گی-انہوں نے بتایا کہ کونسل کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور بیرون ملک مقیم تاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ کم وقت میں قابل قدر نتائج حاصل کئے جاسکیں-

اسحاق ڈار نے پاکستان انٹرنیشنل بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل بنانے کے تصور کو سراہا جس کا مقصد اوورسیز پاکستانی کاروباری حضرات کو یقین دلاناہے کہ حکومت پاکستان وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت غیرملکی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرتی ہے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے-انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع فوائد حاصل ہوں گے اورایک ابھرتی ہوئی معیشت کی حیثیت سے پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لئے مختلف مواقع فراہم کرتا ہے-

دبئی میں مقیم نامور پاکستانی سرمایہ کار بشمول چیف ایگزیکٹو آفیسر ہاشو گروپ مرتضی ہاشوانی، چیئرمین شون گروپ ناصر شون ، چیئرمین ڈی ٹی اے شپنگ طاہر لاکھانی ، صدر پاکستان بزنس کونسل ممتاز مسلم ، عمران چوہدری، چیئرمین سٹار کنکشنز ، چیئرمین ای این جی گروپ حنیف مرچنٹ، فاطمہ انڈسٹریز کے ناصر محمود ، چیئرمین ویلیوسٹریٹ شاہد عمرانی کے علاوہ دیگر معززین اس موقع پر موجودتھے جنہوں نے پاکستان انٹرنیشنل بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل کے تصور کو سراہتے ہوئے خیرمقدم کیا-

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پورٹ اینڈ شپنگ اور وزارت مواصلات میں 10 منصوبے غیرملکی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے جاری ہیں جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی کے تحت5 ‘ ٹیلی کمیونیکیشن کے 9 ‘ سڑکوں کی تعمیر کے 12 میگاپراجیکٹس ‘ پاکستان ریلوے کے 4‘ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 4‘ وزارت صنعت و پیداوار کے 4‘ وزارت سیاحت کے 4‘ مری کہوٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 2‘ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے 7‘ الیکٹرانکس سے متعلق 6‘ وزارت تعلیم کے 2 ‘ ایل ڈی اے کے 4جبکہ وزارت صحت کے تحت فارماسوٹیکل انڈسٹری کے لئے خام مال کی فراہمی کا ایک‘ تربیلا ہائیڈروپاور پلانٹ کی توسیع‘ پاکستان کے بڑے شہروں میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور سافٹ ویئر انڈسٹری سے متعلق ایک‘ گوادر ڈیپ واٹرپورٹ کا منصوبہ بھی غیرملکی سرمایہ کاری کا مرہون منت ہے۔ نجی شعبے کے اشتراک سے زراعت‘ جنگلات‘ ماہی پروری‘ معدنیات‘ بیوریجز‘ ٹیکسٹائل‘ لیدرانڈسٹری‘ کاٹن فیبرک فنشنگ ڈائنگ پرنٹنگ‘ گارمنٹس اینڈ ہوزری انڈسٹری‘ پٹرولیم‘ کیمیکلز‘ کول‘ ربر اور دیگر مصنوعات کی مینوفیکچرنگ ‘ غیردھاتی معدنیات کی مینوفیکچرنگ‘ ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل انڈسٹری‘ خوردنی تیل کے علاوہ گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس‘ ہائیڈرل جنریشنل پاور پلانٹس کے شعبہ جات میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے 147 منصوبے بھی پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سیل فون انڈسٹری میں غیرملکی سرمایہ کاری حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔ علیٰ ہذالقیاس پاکستان کی معاشی ترقی کی تصویر کا ہر پہلو روشن اور خوش کن ہے۔

مزید :

کالم -