میرے پنجاب کی ضرورت

میرے پنجاب کی ضرورت
میرے پنجاب کی ضرورت
کیپشن: mudassar

  

امن کی تلاش میں یہ ”اتمام حجت“ ہی سہی ،لیکن کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے، تاہم اگر اس میں پارلیمانی ارکان کو شامل کیا جاتا تو اس میں عوام کی شمولیت بھی ہو جاتی، کسی کو انگشت نمائی کا موقعہ بھی نہ ملتا اور اس کے مزید بہتر نتائج بھی برآمد ہوسکتے تھے، لیکن پھربھی ”دیر آید درست آید“ کہ پاکستان کو پُرامن بنانے کی کوششوں کا آغاز تو ہوا اور اگلے مرحلے کے لئے فیصلے میں آسانیاں بھی پیدا ہوں گی۔ اگرچہ ابھی تو وزیر اعظم نوازشریف کے اس فیصلے سے عمران خان اور دیگر سیاسی اور غیر سیاسی طالبان ہی خوش نظر آتے ہیں اور وہ بغلیں بجا رہے ہیں، لیکن افسوس کہ وہ تحریک طالبان کے بیانات پر توجہ نہیں دے رہے جو ابھی تک جنگ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یا پھر جس کے آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ شریعت کے متعین قانون کے سوا کسی قانون کی منظوری نہیں ہوسکتی، اپنی شریعت کے نفاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک ان کے وہ ساتھی رہا نہیں ہوتے ،جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں اور وہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں بند ہیں، گویا یہ وہ مطالبات ہیں، جنہیں سودے بازی بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

یہاں ایک حقیقت کا اعتراف بھی کر لینا چاہیے کہ دہشت گردوں نے پے درپے دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے اپنی مذاکراتی پوزیشن بہتر بنائی ،جس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ انہیں حکومت یا مسلم لیگ(ن) کی پالیسی اور ارادوں کا پہلے سے پتہ چل چکا تھا تو ادھر حکومت نے بھی پنجاب میں،جس کو دہشت گرد سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے، آپریشن کا آغاز کیا اور صرف تین دن کے اندر پنجاب کے مختلف اضلاع سے مبینہ دہشت گردوں سمیت 561 افراد کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں بند کردیا۔ ایک نقطہ نظر تو یہ بھی ہے کہ اگر پنجاب میں آپریشن شروع نہ ہوتا تو شاید تحریک طالبان کے کچھ گروپ مذاکرات پر تیار ہی نہ ہوتے۔ دوسرا یہ کہ حکومت کی بھی مذاکرات کے لئے پوزیشن بہتر اور اس نے بھی ”اتمام حجت“ کے لئے ہونے والے ان مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کردیا ، پھر اس کے ساتھ ہی پنجاب میں شروع ہونے والے آپریشن کو بھی روک دیا، تاکہ مذاکرات میں کوئی رکاوٹ ،کوئی بہانہ سامنے نہ آئے۔

ہمارے سامنے تو صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا یہ اعتراف ہے کہ جنوبی پنجاب کے مدرسوں میں طلباءکو ایسے مخصوص ماحول میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ خود ہی خودکش جیکٹ پہننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی رانا ثناءاللہ ہیں، جن کا بیرون ملک شائع ہونے والا ایک انٹرویو زیربحث ہے، جس میں انہوں نے صوبائی وزیر ہونے کے باوجود قومی دفاعی پالیسی پر اظہار خیال کیا ہے، اس انٹرویو میں ان کے دیرینہ ساتھی اور ان کی طرح پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ (ن)میں آنے والے رانا اکرام ربانی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا صاحب میرے دیرینہ ساتھی بھی رہے ہیں اور پیارے بھائی بھی ہیں، لیکن رانا صاحب کی ”ٹائمنگ“ کبھی کبھی آﺅٹ ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، ہم اس پر تو کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، مگر ان کے مذکورہ بالا اعتراف سے ہمارے ذہن میں کچھ سوال ضرور اُبھرتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے مدرسوں کے بارے میں یہ اعتراف کرنے کی ضرورت اب انہیں کیوں محسوس ہوئی اور یہ اعتراف انہوں نے گذشتہ پانچ سال کے عرصہ اقتدار میں کیوں نہیں کیا؟ حالانکہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیت گاہوں کے بارے میں تو اس دوران میں بے شمار خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی تھیں، لیکن وہ خود اس کا انکار کرتے تھے۔ ان مدرسوں اور تربیتی اداروں کے بارے میں مرکزی حکومت کے ادارے بھی پنجاب حکومت کو آگاہ کرتے رہے تھے، بلکہ جہاں تک ہمیں یاد ہے خیبرپختونخوا کے گورنر نے پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو اس کے باقاعدہ دستاویزی اور وڈیو ثبوت بھی دیئے تھے جو پنجاب حکومت کو ”پاس آن،، کردیئے گئے تھے، مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ خود رانا ثناءاللہ صاحب فیصل آباد کے ضمنی انتخابات میں مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ساتھ تصویریں بنوایا کرتے تھے ، پھر یہی تو وہ زمانہ تھا جب ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں فاٹا سے آنے والے دہشت گردوں اور ان کے ٹریننگ کیمپوں کے بارے میں بھی درجنوں خبریں شائع ہوئی تھیں، مگر پنجاب حکومت واضح تردید کیا کرتی تھی۔

کیا یہ سیاسی مصلحت نہیں تھی؟ یا پھر مرکز کے ساتھ مسلم لیگ (ن)کی عدم تعاون اور اپنے ووٹ بنک کے تحفظ کی پالیسی نہیں تھی؟ لیکن اب جبکہ پانی سر سے گزر رہا ہے، یا پھر پاکستان کے ہی دہشت گردی کے اس سیلاب بلاخیز میں ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، ہر طرف سے پنجاب میں آپریشن کا مطالبہ شدت اختیار کررہا ہے تو ان اعترافات کا کیا فائدہ؟؟ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن جانے والے پنجاب میں ایک وسیع اور غیر جانبدار آپریشن کو یقینی بنایا جائے۔یہاں جتنے بھی مدرسے اور تربیت گاہیں ہیں ،انہیں ختم کیا جائے ،پھر جو بھی ان کے سرپرست اور حمایتی ہیں، انہیں بھی کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ یہ میرے پنجاب کی ضرورت بھی ہے اور آواز بھی، بلکہ یہی پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس سے پنجاب کے عوام کو بھی تحفظ ملے گا اور پاکستان کو بھی۔ پنجاب پُرامن ہوگا تو پاکستان بھی پُرامن ہوگا۔

مزید :

کالم -