قائداعظمؒ، پاکستان اور اسلامی نظام

قائداعظمؒ، پاکستان اور اسلامی نظام
قائداعظمؒ، پاکستان اور اسلامی نظام

  



ڈاکٹر صفدر محمودایک عظیم محقق اور ممتاز دانشور ہیں۔ ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اہل ِ پاکستان کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے وجود میں آیا تھااور وہ یہ بات زبانی کلامی نہیں کرتے، بلکہ اُن کے پاس قائداعظم ؒ کی تقاریر کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اسلامی شریعت نافذ کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود جیسے عظیم محقق کے پاس اتنا وقت تو یقینا نہیں ہو گا کہ وہ ہر ماہ اس موضوع پر کالم لکھیں اور اپنی بات باربار دہرانے کی زحمت کریں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیکولر دانشور باز نہیں آتے اور وہ گاہے بگاہے سیکولر ازم کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دانشور محض شرارت کے طور پر ہی ایسا کرتے ہوں، حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیکولر ازم کا نفاذ ممکن نہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام حکومت1973ءکے دستور میں طے کر دیا گیا ہے۔ دوسرے عوام میں سیکولر ازم کے نظام کے لئے پسندیدگی کا عنصر ناپید ہے، لیکن ان دانشوروں کی یہ شرارت ڈاکٹر صفدر محمود کے قارئین کو بہت مہنگی پڑتی ہے اورخود وہ بھی دیگر اہم موضوعات کو نظر انداز کرتے ہوئے بار بار وہی حوالہ جات دہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو قارئین نے چند روز پیشتر کے کالموں میں پڑھے ہوتے ہیں۔

26جنوری کو ڈاکٹر صفدر محمود نے پھر اس موضوع پر کالم لکھا ہے۔ وہ اپنے کالم میں فرماتے ہیں کہ اُن کے کسی دوست نے پوچھا ہے کہ کیا پاکستان کو سیکولر اسلامی جمہوریہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میںکہ پاکستان کو1973ءکے آئین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا جا چکا ہے اور یہ معاملہ طے شدہ ہے، یعنی پاکستان میں سیکولر ازم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے کالم میں قائداعظم ؒ کی بہت سی تقاریر کے حوالے دیئے ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے قائم ہوا تھا۔ ڈاکٹر یہ حوالہ جات پہلے بھی کئی مرتبہ دے چکے ہیں اور یہ تمام تقاریر اور حوالہ جات اکثر قارئین کو زبانی یاد ہیں۔ہم ڈاکٹرصفدر محمود کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا معالہ 1973ءکے آئین میں طے ہو چکا ہے ، خواہش بس اتنی ہے کہ وہ اس طے شدہ معاملے کو بار بار دہرا کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں اور شرارتی لوگوں کو شرارتوں کا جواب دینے کی بجائے اس مسئلے سے آگے بڑھیں اور اپنی کسی نئی تحقیق سے قارئین کو آگاہ کریں، انہی کو اب اس موضوع پر قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں جو مسائل درپیش ہیں،ان کو کس طرح حل کیا جانا چاہئے؟

 ڈاکٹرصفدر محمود کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے اور قائد اعظمؒ کی تقاریر کی روشنی میں قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو ہنوز کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ڈاکٹرصفدر محمود نے اپنے 2فروری کے کالم میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ پاکستان میں آج تک سود کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، ....ڈاکٹر صفدر محمود سے التماس ہے کہ انہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کے حق میں قائداعظم ؒ کے ارشادات جس طرح ڈھونڈے ہیں اور عرق ریزی کی ہے: وہ قوم کو یہ بھی بتائیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیوں نہیں ہو سکا؟ اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ پاکستان میں اسلام کا نام اقتدار کو طول دینے کے لئے، جس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے، اس مسئلے کاان کے پاس کیا حل ہے اور انہوں نے اسلامی تاریخ کے مطالعے سے کیا نتائج اخذ کئے ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ 1973ءمیں اسلامی نظام کا معاملہ آئین میں طے ہوچکا ہے، لیکن اس کے باوجود 1977ءمیںذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف نظامِ مصطفی کی تحریک چلائی گئی۔ جنرل ضیاءالحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا۔

 جنرل ضیاءالحق نے گیارہ سال تک حکومت کی اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق جزوی طور پر اسلام نافذ کیا۔ اس کے بعد مسلم لیگی حکومتیں بھی رہیں، لیکن ہنوز اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوا۔یہ درست ہے کہ پاکستان اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے قائم ہوا تھا۔ اب طالبان بھی اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود کو قوم کو بتانا چاہئے کہ ہم اسلامی نظام کے نفاذ میں آخر کامیاب کیوں نہیں ہو سکے، اگر یہ بات مان لی جائے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا معاملہ طے شدہ ہے، تو پھر اب مختلف مکاتب فکر ملک میں اپنی تعبیر کے مطابق شریعت کیوں نافذ کرنا چاہتے ہیں،انہیں اسلامی تاریخ کی روشنی میں موجودہ دور میں اسلامی ممالک میں نفاذ اسلام کی کوششوں پرتحقیق ضرور کرنی چاہئے، انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس وقت مسلمان ممالک میں کون سا ایسا ملک ہے، جس میں مکمل اسلامی نظام نافذ ہو چکا ہے۔ اسلامی ممالک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے، جو انتہا پسند اسلامی تنظیمیں موجود میں آ چکی ہیں، اُن میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جومتشددانہ طریقوں سے نظام اسلام چاہتی ہیں۔ نائیجیریا، پاکستان اور بعض اسلامی ممالک میں نفاذ اسلام کے نام پر دہشت گردی ہو رہی ہے۔ عجب طرح کا انتشار اور بدنظمی ہے۔

 مسلمان ممالک کے مسائل کا حل دانشور حضرات نے ہی پیش کرنا ہے۔سیکولر حضرات تو مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔ اُن کی سوچ یہ ہے کہ نفاذ شریعت سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ شریعت کی تعبیر تمام سٹیک ہولڈر اپنی مرضی کی کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سیکولر حضرات تو اس مسئلے کا حل یہ بتاتے ہیں کہ سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھا جائے۔ ڈاکٹر صفدر محمود کے اکثر قارئین اُن کے مداح ہیں کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کی بات کرتے ہیں اور سیکولر حضرات کی کارستانیوں کا پردہ چاک کرتے رہتے ہیں۔ اس حد تک تو بات درت ہے، لیکن بہت سے باشعور قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ سیکولر حضرات اور سیکولر ازم کو بُرا بھلا کہنے سے اب کام نہیں چلے گا، بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ میں ناکامیوں کی وجوہات پر بھی تحقیق کرنا ہوگی۔

 اہل ِ وطن اگر نفاذ اسلام کے مسئلے پر باہم الجھتے رہے اور قتل و غارت میں اضافہ ہوتا رہا تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ نئی نسل نفاذِ اسلام سے مایوس ہو جائے گی اور یہ سمجھے گی کہ ملک میں نفاذ اسلام ممکن ہی نہیں۔ نفاذِ اسلام کی کوششوں سے شریعت کی مختلف تشریحات سامنے آنے لگتی ہیں اور اتحاد کی بجائے باہمی تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی تحقیق سے یہ تو ثابت کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان نفاذ اسلام کے لئے وجود میں آیا تھا۔ انہیں اب یہ بھی ثابت کرنا چاہئے کہ پاکستان میں نفاذِ اسلام عملاً کیسے ممکن ہے؟

مزید : کالم