ٹرمپ اور مسلمان تارکین وطن

ٹرمپ اور مسلمان تارکین وطن
 ٹرمپ اور مسلمان تارکین وطن

  

فیصل بٹ میرا دوست ہے، اٹلی میں مقیم ہے،اسے بھی یورپ جانے کا جنون تھا ۔ایجنٹ کے ذریعے پاکستان سے ترکی کا ویزا لگوایا ۔ترکی سے یونان پہنچا وہاں ایک سال رہا،پھر یونان سے فرانس، وہاں دوسال قیام کے بعد اٹلی جا پہنچا ۔ٹرمپ کی مسلمان تارکین وطن کے خلاف نفرت سے مجھے بھی عام لوگوں کی طرح بڑا غصہ تھا،مگر جب اس سلسلے میں میری فیصل بٹ سے اٹلی میں بات ہوئی اور اپنے مسلمان تارکین وطن کے شہریت کے حصول کے لئے غیر اخلاقی طریقے سنے تو بہت دکھ ہوا۔یہ بات تو اب پرانی ہو چکی کہ وہاں جاکر مسلمان عیسائی لڑکی سے شادی کرتے ہیں اور شہریت ملتے ہی اسے طلاق دے دیتے ہیں۔اب کم ہی لڑکیاں ان کے چکر میں پھنستی ہیں ۔انہیں بھی ان کی نیت کا پتہ چل چکا ہے ۔شہریت کے حصول کے لئے فیصل نے مجھے ایک بنگلہ دیشی اور ایک پاکستانی کے کارنامے سنائے اور ساتھ ہی کہا کہ ایسے ان گنت واقعات ہیں، لیکن سچ پوچھئے تو مجھ میں مزید واقعات سننے کی بالکل ہمت نہ تھی۔۔۔پہلے بنگلہ دیشی نوجوان کا واقعہ سن لیں کہ اس نے شہریت حاصل کرنے کے لئے کون سی چالاکی دکھائی اور اس کا انجام کیا ہوا؟ بنگلہ دیشی نوجوان ترکی سے یونان پہنچا۔یونان پہنچ کر اس نے ایک جوس بنانے والی فیکٹری میں جاب کرلی۔ وہاں اس کے ساتھ یونانی لڑکیاں بھی پیکنگ کا کام کرتی تھیں۔بنگلہ دیشی نوجوان نے ایک لڑکی سے دوستی کرلی اور اسے اپنی محبت کا یقین دلانے لگا۔لڑکی بھی اس پر اعتبار کرنے لگی۔بنگلہ دیشی نوجوان ذہن میں پلاننگ کرنے لگا کہ اس یونانی لڑکی سے شادی کرکے وہ شہریت حاصل کرلے گا، پھر اسے طلاق دے کر پورے یورپ میں جہاں چاہے گا اپنی مرضی کی زندگی گزارے گا۔اس نے لڑکی سے شادی کی خواہش ظاہر کردی۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ عیسائی ممالک میں یونان میں اکثر گھرانے مذہبی لحاظ سے اسی طرح بنیاد پرست یا اصول پسند ہیں، جیسے افغانستان یا پاکستان میں اکثر مذہبی گھرانے بہت کٹر مانے جاتے ہیں۔لڑکی بھی ایسے ہی عیسائی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔شادی کا سوال سن کر اس نے فوراًبنگلہ دیشی مسلم نوجوان کو کہا کہ میری اور تمہاری شادی کیسے ممکن ہے؟ مَیں عیسائی مذہب سے ہوں اور تم مسلمان مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔بنگلہ دیشی نوجوان نے کہا، یہ کوئی مسئلہ نہیں، اگر عورت عیسائی ہو اور مرد مسلمان توہمارے مذہب میں انہیں شادی کی اجازت ہے۔یونانی لڑکی نے کہا، لیکن میرے مذہب میں ایک مسلمان لڑکے سے عیسائی لڑکی کوشادی کی اجازت نہیں، تم اگر مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو عیسائی ہو جاؤ،مَیں تم سے شادی کرلوں گی۔

فیصل بتاتا ہے کہ اس نوجوان نے ہم لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو ہم نے کہا دفعہ کرو اس تجویز کو اورانتظار کرو جب تارکین وطن کے لئے نیشنلٹی اوپن ہو گی تو مل جائے گی، مگر اس نوجوان کے سر پر نیشنلٹی کا بھوت سوار تھا۔اس نے کہا کہ اس لڑکی سے جھوٹ موٹ کہوں گا کہ میں عیسائی مذہبب قبول کررہا ہوں اور دل سے نہیں کروں گا۔ایک پیپر پر سائن ہی تو کرنے ہیں، وہ کر دوں، پھر شادی کے بعد نیشنلٹی ملتے ہی اسے طلاق دے دوں گا۔ہم سب نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور ڈرایا کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے، مرتد ہوکر اللہ کو تو تم دھوکہ نہیں دے سکتے، مگر وہ الٹا ہمیں بدھو سمجھنے لگا اور دعویٰ کرنے لگا تم لوگ نیشنلٹی اوپن ہونے کا پانچ دس سال تک انتظار کرتے رہو، مَیں تو جھوٹ موٹ عیسائی بن کر ایک سال کے اندر اندر یونانی نیشنل بننے جا رہا ہوں۔ بنگلہ دیش میں اس نوجوان کا والد ایک مسجد میں امام تھا ۔اس نے اسے بھی ساری پلاننگ بتا دی تو اس کے والد نے کہا اگر تم نے ایسا کیا تو پھر ہمار ا تمہارا رشتہ ختم، لیکن وہ نوجوان باز نہ آیا اور پیپر سائن کر کے جھوٹ موٹ عیسائی مذہب قبول کر لیا اور یونانی لڑکی سے شادی بھی کرلی۔شادی کے فوراً بعد اس نے شہریت کے حصول کے لئے درخواست بھی جمع کرا دی۔ شادی سے پہلے وہ ہم لوگوں کے ساتھ رہتا تھا، شادی کے بعد وہ اس لڑکی کے فلیٹ میں شفٹ ہو گیا۔کبھی کبھی وہ جب ہم لوگوں سے ملنے آتا تو بڑے فخر سے کہتا، دیکھنا چند ماہ بعد میں یونانی نیشنل بن جاؤں گا اور تم لوگ ادھر ہی دھکے کھاتے رہو گے۔ اس نے کمال منصوبہ بندی کی تھی، مگر قسمت کا کھیل لکھنے والے نے اس کا ایسا انجام لکھا ہوا تھا، وہ یہ نہ جانتا تھا۔ایک دن وہ اپنی یونانی بیوی کے ساتھ اس کی کار میں جا رہے تھے کہ کار کو حادثہ پیش آگیا جس سے بنگلہ دیشی نوجوان موقع پر مرگیا، جبکہ اس کی یونانی بیوی شدید زخمی ہو کر ہسپتا ل پہنچ گئی،کیونکہ اسے ابھی نیشنلٹی نہیں ملی تھی اور وہ بنگلہ دیشی شہری ہی تھا ، اس لئے اس کی موت کی اطلاع یونانی حکومت نے وہاں کے بنگلہ دیشی سفارت خانے کو دی تو انہوں نے اس کے گھر بنگلہ دیش رابطہ کیا تو اس کے گھر والوں نے کہا ہمارے لئے وہ پہلے ہی مر چکا ، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بنگلہ دیشی سفارت خانے نے بھی اس سلسلے میں سرد مہری دکھائی اور لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یونانی حکومت کے لئے اب عجیب مسئلہ بن گیا، کیونکہ یونانی قانون کے مطابق کوئی بھی غیر یونانی یونان کی سر زمین پر دفن نہیں ہو سکتا،لہٰذا یونانی حکومت نے اس کی لاش جلانے کا فیصلہ کیا اور اسے جلا دیا گیا۔ہم لوگوں نے جب اس کا یہ انجام دیکھا تو یقین آ گیا کہ اللہ نے اسے دین محمدیؐ سے پھرنے کی سزا دے کر عبرت کا نشان بنا دیا ہے۔

دوسرا واقعہ پاکستان کے شہر گجرات کے ایک شادی شدہ جوڑے کا ہے۔یہ بہت دلچسپ اور افسوسناک واقعہ ہے۔اسے پڑھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی کہ انسان شہریت کے لئے اس قدر بھی گر سکتا ہے ؟آپ یورپ کے جس شہر بھی جائیں، آپ کو وہاں گجراتی ضرور ملیں گے۔سیالکو ٹ سے لے کر گوجرخان تک اس پٹی کے نوجوانوں کی فطرت میں کوئی عجیب چیز ہے کہ ہر نوجوان یورپ جانے کی پلاننگ کرتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح یورپ پہنچ جائے۔مذکورہ میاں بیوی بھی پاکستان سے ترکی پہنچے، وہاں سے یہ فرانس پہنچ گئے۔ نوجوان شوہر ایک فیکٹری میں جاب کرنے لگا۔کچھ دنوں بعد اس نے اپنی بیوی کو بھی ادھر جاب پر لگوا لیا۔شوہر کی وہاں ایک فرانسیسی نوجوان سے دوستی ہو گئی اور وہ ان کے ہاں آنے جانے لگا۔ شوہر نے شہریت کے لئے ایک منصوبہ بندی کی جس کے لئے اس نے فرانسیسی لڑکے کو اعتماد میں لیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور فرانسیسی اس سے پیپر میرج کر لے اس طرح اس کی بیوی کو شہریت مل جائے گی تو فرانسیسی اسے طلاق دے دے گا تو وہ دوبارہ پھر شادی کر لیں گے اور بیوی کی وجہ سے اسے بھی شہریت مل جائے گی۔فرانسیسی نے حامی بھر لی اور گجراتی نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی پیپر میرج اس فرانسیسی سے کردی،کیونکہ وہاں کی مقامی پولیس وقتاً فوقتاً یہ چیک کرتی ہے کہ یہ لوگ آپس میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں یا شادی صرف شہریت کے حصول کے لئے ڈرامہ ہے۔اس لئے فرانسیسی نے بھی ان کے ساتھ رہنا شروع کردیا۔اس دوران لڑکی فرانسیسی زبان بھی سیکھ گئی اور اس کی فرانسیسی سے قربت بڑھ گئی اور جب ایک سال بعد اس لڑکی کو شہریت مل گئی تو گجراتی لڑکے نے فرانسیسی سے طلاق دینے کا کہا تو وہ لیت و لعل سے کام لینے لگا۔اس نے لڑکی کو علیحدگی کا کہاتو اس نے بھی صاف انکار کردیا جس پر گجراتی نوجوان نے طیش میں آکر فرانسیسی کے سر پر جگ مار کر سرپھاڑ دیا۔ فرانسیسی نے فوراً پولیس کو فون کیا جو اس نوجوان کو پکڑ کر لے گئی اور کچھ دن جیل میں رکھنے کے بعد پاکستا ن ڈیپورٹ کر دیا۔ شہریت بھی نہ ملی اور بیوی بھی گئی۔ پتہ نہیں جب وہ نوجوان لاہور ائیرپورٹ پر اترا ہو گا تو اس کے کیامحسوسات ہوں گے ۔شہریت کے حصول کے لئے مسلمان ممالک کے لوگوں کی ایسی ان گنت کہانیا ں ہیں ۔شائد اس میں ہمارے ممالک کے اندرونی کلچر کا کوئی عمل دخل ہے، جس میں دولت کے حصول کے لئے ہر غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقہ جائز سمجھا جاتا ہے۔

مزید : کالم