استاد کرائے پر

استاد کرائے پر
استاد کرائے پر

  

استاد بھی ایک مالی ہے جو اپنے شاگردوں کی تربیت بڑی حفاظت سے کرتا ہے۔انکو پانی دیتا اور گوڈی کرتا ہے تا کہ صحتمند رہیں اور ماحول کو خوشبو دے کر مہکائیں۔استاد معمار قوم اور روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔جتنی عزت واحترم حقیقی باپ کی ہوتی ہے اتنی ہی استاد کی ہوتی ہے۔ جو قومیں استاد کی عزت نہیں کرتیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔حضرت علیؓ کا ایک قول بہت مشہور ہے” جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھایا وہ میرا آقا قرار پایا“اسلام میں استاد کا مقام تو ہے ہی عظمتوں والالیکن غیر مسلم ہونے کے باوجود انگریز اور چائنیزاپنے استاد کی بہت قدر کرتے ہیں۔پروفیسر اشفاق اپنی ایک کتاب میںلکھتے ہیں ” ایک مرتبہ میں امریکا میں گاڑی چلا رہا تھا ۔ غلطی کر دی، پولیس نے چالان کر دیا جو میں کافی عرصہ تک جمع نہ کروا سکا۔ایک دن عدالت کا نوٹس ملا تو میں پیش ہونے کے لیے عدالت چلا گیا۔جج نے چالان جمع نہ کروانے کی وجہ پوچھی تو میں نے جواب دیا کے میں ایک پروفسیر ہوں۔ یونیورسٹی میں مصروفیت کی وجہ سے جمع نہ کروا سکا تو جج اپنی کرسی سے یکدم کھڑا ہوا اور پولیس کو ڈانٹتے ہوئے کہا کے ایک استاد عدالت میں؟اور بولا جو قومیں استاد کی عزت نہیں کرتیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔اسی وقت چالان معاف کیا اور مجھ سے معذرت کی۔میں رخصت ہو گیا“ لیکن شرم ناک حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے استاد اخلاص اور دیانتداری سے محروم ہوچکے اور ان کا قومی جذبہ مفقود ہورہا ہے۔ میں یہ سب کیوں کہنے پر مجبور ہوا ہوں ،یہ سن لیجئے۔کہ استاد استاد نہیں رہا ۔وہ طالب علموں کا لنگو ٹیایار بن گیا ہے ۔اکثر جگہوں پر اکٹھے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔اس میں آج کے استاد کہ اپنا قصور بھی ہے۔کچھ استاتذہ نے اپنے شاگردوں کے ساتھ بے تکلفی کی حدود کو پار کر لیا ہے،پڑھانا کم اور بے تکلفی زیادہ ہو گئی ہے۔پہلے وقتوں کے استاد بھی تھے جن کے جوتے اٹھانے والے خلیفہ وقت کے بیٹے ہوتے تھے۔استاد کے برابر بیٹھنا چلنا بہت دور کی بات تھی سامنے نظر نہیں اٹھا سکتے تھے۔لیکن آج کے استاد میں بھی اثراور دم نہیں رہا اور نہ ہی شاگردوں کی نظر میں حیا باقی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ استاد ایک جانب اکیڈمیز کے کاروبار کی وجہ سے شاگردوں کو فرینک کرلیا ہے جو ان کی کاروباری مجبور ہوسکتی ہے دوسری بات یہ کہ اب ایک استاد نے اپنے ملازم استاد رکھ لیے ہیں۔ یعنی کرائے کے ا ستاد۔ اس وقت آپکی توجہ اسی بات کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔

کچھ عرصہ پہلے مجھے آزادکشمیر کے ایک سکول جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں میری ایک نومولود ٹیچر پر نظر پڑی جس کی عمر مشکل سے پندرہ سال ہو گی۔میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ اتنی چھوٹی عمر والی ٹیچر نے سرکاری نوکری کیسے کر لی ؟

میں نے کھوج لگا ئی تو پتا چلا کہ اصل والی استانی صاحبہ گھر پر آرام فرما رہی ہیں۔اور یہ جو ٹیچر ہے اسکو تھوڑی بہت بخشیش دی جاتی ہے ۔یہ تو ایک سکول کی کہانی ہے ،پوری ریاست میں یہی حال ہے۔

کرائے کا استاد جیسی مخلوق آپکو صرف آزادکشمیر میں ہی ملے گی کیوں کہ یہاںکے اساتذہ مبینہ طورپرسیاسی ہوتے ہیں۔یہ وہ مخلوق ہے جس کے پاس میٹرک پاس کی ڈگری ہوتی ہے اور آٹھویں جماعت کو پڑھا رہے ہوتے ہیں۔اصل کہانی یہ ہے کے جب کوئی حکومت بنتی ہے تو استاد محتر م اپنے حلقے کے وزیر صاحب سے تعلق ہونے پر اپنی من پسند جگہ ٹرانسفر کرواتے ہیں۔اگر ٹرانسفر نہ ہو تو وہ جس سکول میں تعینات ہوتے ہیں وہاں کرائے کے استاد جیسی مخلوق کوبیٹھا دیتے ہیں ۔ سوچیں کہ ایک میٹرک پاس استاد آگے کیا تعلیم دے سکے گا۔

محکمہ تعلیم کو اسکی خبر ہوتی ہے کہ انکی ناک کے نیچے یہ کام ہو رہا ہوتا ہے۔لیکن انکو اپنے ذاتی تعلق کی فکر ہوتی ہے ،بچوں کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔وہ نہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کرائے کے استاد کی تعلیمی قابلیت کیا ہے تجربہ کتنا ہے۔آزاد کشمیر میں پہلے ہی تعلیم کا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔وہاں اگر کرایہ پر دستیاب استاد تعلیم دیں گے تو قوم کا مستقبل کیا ہو گا ؟بھلا ہو ان یونیورسٹیوں کا جو کئی ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دے رہی ہیں۔اگر یہ ادارے بھی نہ ہوتے تو آزاد کشمیر میں پچاس فیصد لوگ ان پڑھ ہی ہوتے۔

یہاں ایسے سکول بھی ہیں جہاں سکول کا چپڑاسی بچوں کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔استادوں کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں ۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں سکولوں میں اصلی استاد نہیں پڑھاتے لہذا اپنے بچوں کا مستقبل برباد ہونے سے وہ بچاتے ہیں۔کیا کبھی کسی نے پوچھنے کی جسارت کی ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کروا کے اپنی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔قصور محض سرکار کا نہیں ،معاشرے کے ہر فرد کا ہے، جب تک اس میں یہ احساسِ ذمہ داری نہیں جاگے گااس وقت تک قوم کے نونہال کرائے کے اساتذہ کے رحم و کرم پر رہیں گے ۔میری حکومت وقت سے گزارش ہے کہ سرکاری سکولوںمیں اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے۔اور ایسا قانون بنایا جائے کے اساتذہ کے اپنے بچے بھی سرکاری سکول میں ہی پڑھیں۔

(ثاقب شیر دل راٹھور قومی روزنامے سے بطور وقائع نگار وابستہ ہیں، وہ سیاسی و سماجی معاملات پر قلم اٹھاتے رہتے ہیں جبکہ انہیں امور کشمیر میں خاص دلچسپی ہے۔ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔rathorsaqib@yahoo.com)

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -