کشمیر میں استصواب رائے تک جنگ رہے گی!

کشمیر میں استصواب رائے تک جنگ رہے گی!
کشمیر میں استصواب رائے تک جنگ رہے گی!

  



مقبوضہ کشمیر کے علاقہ سرینگر جمو ں پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع بھارتی فوجی کیمپ اور سری نگر کے علاقے کرن نگر میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس کیمپ پر کشمیری حریت پسندوں نے تین دن کے اندر دو حملے کر کے دو بھارتی فوجی افسروں سمیت آٹھ فوجیوں اور ایک پولیس اہلکارکو ہلاک اور بیس سے زائد کو زخمی کردیا، جبکہ اس حملے میں دوکشمیری حریت پسند بھی بھارتی غاصب افواج کے ساتھ آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔

یہ خبر پاکستان کے متعدد اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کی،جبکہ ہندوستانی میڈیااس جھڑپ کو دہشت گردوں کے خلاف انڈین فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیتا رہا ۔ اس خبر میں جن کشمیری حریت پسندوں کا ذکر کیا گیاہے، ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے ۔

یہ حریت پسنداپنے وطن کو ہندو فوج کے ناپاک قدموں سے آزاد کر وانے کے لئے ہتھیار اٹھانے پرمجبور ہوئے اورقابض بھارتی فورسز سے لڑتے ہوئے ان کو شہادت کی نعمت عظمیٰ نصیب ہوئی۔

اس خبر کا متن پڑھ کر میری نگاہیں عالم تصور میں سینکڑوں میل دور راہ وفا میں قربان ہوجانے والے ان کشمیری مجاہدوں کے حسین چہروں کا طواف کررہی ہیں، جہاں شہادت کے بعد بھی آسودگی اورطمانیت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا میں جو وڈیو کلپ دکھائے گئے ان میں شہید ہونے والے ان حریت پسندوں کے ہاتھوں میں شہادت کے بعد بھی مشین گنیں دبی ہوئی تھیں اوران کی شہادت کی انگلیاں مشین گنوں کے ٹریگرز پر تھیں

۔شہید ہونے والے ان دونوں کشمیری حریت پسندوں کے جسم پر فوجی وردی نہیں تھی، بلکہ وہ عام سول لباس میں ملبوس تھے، جو ان کے مقدس لہوسے رنگین ہو رہے تھے۔ان کے پیروں میں فوجی بوٹ نہیں تھے، بلکہ ان کے مضبوط پاؤں ننگے تھے اوران کے تلووں میں بڑے بڑے چھالے پڑے ہوئے تھے ،جیسے کئی دنوں سے بغیر جوتوں کے چلتے رہے ہوں۔

ان عظیم حریت پسندوں نے اپنی جان کا نذرانہ تو پیش کردیا ،لیکن کسی غاصب کا نجس وجود اپنے پیارے وطن پر جیتے جی برداشت نہ کیا۔ہندوستانی اخبارات میں اس خبر کی تفصیل میں حسب عادت پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا گیاہے :’’یہ پاکستان کے بھیجے ہوئے دہشت گرد تھے،جنہوں نے طویل عرصے سے کشمیر میں دہشت پھیلا رکھی تھی اور ان کے ہاتھوں بھارتی فوج کے کئی جوان اور افسر قتل ہو چکے تھے۔‘‘ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی حکومت اور میڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’’بھارتی حکومت اور میڈیا ہمیشہ تحقیقات سے قبل غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات لگاتا ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔

انہوں نے پاکستان کا اصولی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا‘‘ہندوستانی میڈیا کے اس بلا تحقیق اورغیر حقیقت پسندانہ انداز سے ہٹ کر ایک حق پرست صحافی کے قلم سے ان حملوں کے متعلق جو تبصرہ بنتا ہے،وہ کچھ اس طرح سے ہے : ’’ اپنے وطن کو آزاد کرانے کے لئے بھارتی فوجی کیمپوں پر حملہ کرنے والے کشمیری حریت پسندوں نے بھارت سرکار کو پیغام دیا کہ کشمیری قوم ’’اب اپنی زمین پر بھارتی فوج کا مزید قبضہ برداشت نہیں کرے گی‘‘

مادر وطن کو ہندو غاصب فوج سے آزاد کروانے کے لئے شہادت کا بلند مقام پانے والے ان حریت پسندوں کا مقابلہ ایسے لوگوں سے تھا، جن کے جسموں پرگولیوں کو روکنے والی بلٹ پروف جیکٹیں تھیں۔جن کے ہاتھوں میں جدیدترین مہلک ہتھیارتھے ۔ جن کو انڈین ائیر فورس ، دہلی سرکار، انکل سام اور اسرائیلی موساد کی پوری سپورٹ حاصل تھی ، جن کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوئی تھیں اورجن کے پاس دنیا کی ہرقسم کی لذ یذ ترین خوراک موجود تھی۔اس کے برعکس شہید ہونے والے ان محب وطن کشمیری نوجوانوں کے پاس نہ تو بلٹ پروف جیکٹیں تھیں ، نہ رسد کا انتظام ، نہ جیبوں میں رقم اور نہ ہی جدید اسلحہ، بلکہ ان کے پاس توکھانے کو بھی کچھ نہیں تھا اوران کے جسموں کے ساتھ لگی پانی کی بوتلیں بھی کب کی خالی ہوچکی تھیں، لیکن یہ اوران جیسے لاکھوں کشمیریوں کو کھانے پینے کا اب کہاں ہوش رہا ہے۔ ان کا مشن ہی یہ بن چکاہے کہ ارضِ کشمیرکو ہندوستانی غاصبوں کے ناپاک قدموں سے پاک کرناہے۔

راہ حق میں شہید ہوجانے والے یہ کشمیری حریت پسند قرآن کریم کی سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 154کی عملی تفسیر بن کر یقیناًابدی حیات پاچکے ہیں۔ مجھ سمیت دنیا کا ہر حق وصداقت کا علمبردار ان حریت پسندوں کے جذبوں اور لازوال قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کرتاہے۔

مذکورہ بالا خبر میں ایک کشمیری پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کا بھی ذکر ہے جو غاصبوں کے ہاتھوں بِک کر اپنے ہی وطن اورہم وطنوں کا دشمن بن گیا تھا۔اس کی لاش کرن نگر کی سڑک کے کنارے کئی گھنٹوں تک بے یار ومددگار پڑی رہی اوراس کے دائیں بائیں سے گزرنے والے کشمیری اس تعفن زدہ لاش کو نفرت وحقارت کی نگاہ سے دیکھ کر آگے بڑھتے رہے۔

کئی گھنٹوں تک کوئی بھی شخص اس غدار کی لاش اٹھانے کو تیار نہ ہوا ۔کسی راہگیر کی آنکھوں میں آنسوتوکجاغم کی ہلکی سی پرچھائیں بھی دکھائی نہیں دی۔

اس لئے کہ اس بدبخت نے چند روپوں کی خاطر، غاصب بھارتی فورسز کی حمایت میں اپنے ہی ہم وطن بھائیوں کے سینے پر مشین گن تان کرکئی بے گناہوں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ اس بدنصیب کشمیری کانسٹیبل کی لاش دنیا بھر کے غداروں کے لئے نشان عبرت بنی دکھائی دے رہی تھی ۔

اس جھڑپ میں مرنے والوں میں ایک لاش ایک ہندوستانی فوجی افسر کی بھی تھی۔ اس فوجی افسر کی عمر37سال بتائی گئی ہے۔ یہ ہندوستان کے شہر جالندھر کا رہائشی تھا۔یہ وہیں پیدا ہوا اور پَلا بڑھا،لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ جالندھرکو چھوڑ کر کشمیر میں کیاکررہاتھا ؟ یہ نوجوان اپنے وطن،اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اورعزیز واقرباء سے کئی سو میل دور سرینگر جموں شاہراہ کے فوجی کیمپ میں کیا کر رہا تھا؟

اس کی لاش ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے کہ اس نے جان کیوں دی ؟وطن کے لئے یا تنخواہ کے لئے؟ کسی مذہبی عقیدے کے لئے یا صرف دہلی میں مقیم بدمست آقاؤں کا حکم پورا کرنے کے لئے؟کشمیر میں قیامِ امن کے لئے یا ہندو نیتاؤں کی ضد اورجھوٹے وقار کے لئے ؟اس نے جان جس مقصد کے لئے بھی دی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ مقصد باطل تھا، کیونکہ وہ ایک غاصب اورقابض فوج کا رکن تھا۔ اس ہندوستانی فوجی کے بوڑھے ماں باپ، اس کے بھائی بہن اورعزیز واقرباء جالندھر کے کسی فوجی ہوائی اڈے پرجب اس کی لاش وصول کریں گے تو فوٹو سیشن کے لئے ان کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹیں ضرور ابھریں گی، لیکن اندر سے ان کے دل گواہی دے رہے ہوں گے کہ ان کا بیٹا ،ان کا بھائی کشمیری قوم کا مجرم اور قاتل تھا۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت سرکار نے اپنی فوج کو کشمیریوں کا جذبۂ حریت کچلنے کے لئے لائسنس ٹو کِل دے رکھا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں موجود ہندوستانی فوجیوں کے جنگی جرائم کی فہرست ہر نئے طلوع ہونے والے سورج کے ساتھ طویل ہوتی جا رہی ہے۔

ریکارڈ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں گزشتہ 30 سال کے دوران 136000 کے قریب بے گناہ کشمیری مرد ، عورتیں اور بچے قتل ہو چکے ہیں ۔ 2لاکھ سے زائد کشمیری گرفتاری اورغیر انسانی تشدد کے بد ترین مراحل سے گزر چکے ہیں ۔

اس وقت بھی 8ہزار سے زائد کشمیری لاپتہ ہیں جن کے بارے میں دو آراء ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ انڈین فورسز کے ٹارچر سیلوں میں ہیں اور دوسری یہ کہ وہ انڈین آرمی کے ہاتھوں تاریک راہوں میں مار دئیے گئے ہیں ۔

اب تک ہندوستانی غاصب فوج کے ہاتھوں 4لاکھ کشمیری مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 33ہزار کے قریب کشمیری ایسے ہیں جو معذور ہو کر ہمیشہ کے لئے بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں ۔

اسی پر بس نہیں، بھارتی فوجی درندوں کے ہاتھوں 7ہزار سے زائد کشمیری عفت مآب خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔37ہزار کشمیری خواتین کے سہاگ اجاڑ کر ان کو بیوہ کر دیا گیا ۔

14ہزار کشمیریوں کے گھروں کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے متعدد مرتبہ کشمیری کسانوں کی تیار فصلوں اور باغوں کو آگ لگا کر انہیں ڈرانے ، معاشی طور پر تباہ کرنے اور دبانے کی کوشش کی گئی ۔

ہندوستانی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے اندرتحریکِ آزادی کا گلا گھونٹنے کے لئے ہر وہ گھٹیا حربہ اختیار کیاجس کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا ۔

اس ظلم و جبر کے باوجودیہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ کشمیریوں کی تحریکِ حریت کو کچلنے میں ہندوستانی نیتاؤں کو ناکامی اور صرف ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی ،عمر فاروق اور یاسین ملک جیسے حریت پسند لیڈر ،کشمیری قوم کی لازوال قربانیوں کے امین ہیں ۔

کشمیری قوم اس قدر لازوال قربانیاں دینے کے بعد آج بھی اس سے بڑھ کر مزید قربانیاں دینے کا جذبہ رکھتی ہے ۔ بھارت کی مودی سرکار نے کشمیری حریت پسندوں کے انہی جذبوں کو کچلنے کے لئے اس سال کے دفاعی بجٹ میں 15فیصد اضافہ کرتے ہوئے آئندہ دوبرسوں میں امریکا اور اسرائیل سے 100ارب ڈالر کاجدید اسلحہ خرید نے کا بھی اعلان کیا ہے ۔

بھارتی حکومت کے ایسے اوچھے اقدامات سے کشمیری حریت پسندوں کے جذبۂ حریت کو تقویت ملی ہے اور کشمیری قوم کے اندر نیا حوصلہ، تازہ جوش اور ولولہ دیکھنے میں آرہا ہے۔کشمیری حریت پسند ہر پلیٹ فارم پر یہ عزم دھراتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری نہ کروائی گئی تو کشمیری قوم اپنے اس حق کے حصول کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی رہے گی اور جالندھر سمیت ہندوستان بھر کے ہوائی اڈوں پر غاصب بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے بھرے تابوت بھی اترتے رہیں گے ۔

مزید : رائے /کالم