5 سال میں 17 ہزار 862 بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

5 سال میں 17 ہزار 862 بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش
5 سال میں 17 ہزار 862 بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزارت انسانی حقوق کی جانب سے گزشتہ 5 سال کے دوران بچوں کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی کے واقعات کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 5 سال میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار 862 واقعات رپورٹ ہوئے، یہ اعدادو شمار ایک نجی تنظیم سے حاصل کیے گئے ہیں جو بچوں کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق امتیاز تارڑ کی جانب سے بچوں سے زیادتی کے واقعات کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 5 سال میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار 862 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے لڑکیوں کے ساتھ 10 ہزار 620 اور لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے 7 ہزار 242 واقعات رپورٹ ہوئے۔وزارت انسانی حقوق کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران پولیس کے پاس زیادتی کے 13 ہزار 267 واقعات رپورٹ ہوئے۔ بچوں پر تشدد کے مقدمات میں صرف 112 مجرموں کو سزا ہوئی جن میں سے 25 کو سزائے موت اور11 کو عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ ان 36 کے علاوہ باقی 76 مجرمان کو قید کی سزائیں ہوئیں۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی صورتحال افسوسناک ہے،بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا جبکہ اس ضمن میں پولیس کی ناقص تفتیش اور عدالتی نظام کی کمزوریاں اہم مسائل ہیں۔

واضح رہے کہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے فراہم کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز والی وزارت انسانی حقوق نے یہ اعدادو شمار ایک نجی تنظیم سے حاصل کیے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ وزارت اعدادو شمار بھی اکٹھے نہیں کرسکتی تو اس کا فائدہ کیا ہے اور کیوں اس پر اتنا بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے؟۔

مزید : اہم خبریں /قومی /انسانی حقوق