بلوچستان کی خوبصورت وادی مولہ چٹوک

بلوچستان کی خوبصورت وادی مولہ چٹوک
بلوچستان کی خوبصورت وادی مولہ چٹوک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ویسے تو پورا بلوچستان بے شمار حیرت انگیز اور خوبصورت مقامات سے بھرا پڑا ہے مگراسکے پہاڑ اور صحرا بہت پرکشش ہیں۔ ان ہی خوبصورت مقامات میں سے ایک مقام مولہ چٹوک بھی ہے۔ مولہ چٹوک کی انتہائی خوبصورت آبشاریں بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع ہیں۔

بلوچستان کے لوگ مولہ ایک چھوٹے سے علاقے کو کہتے ہے اور چٹوک بلوچی میں آبشار کو کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس علاقے کو آبشاروں کا دیس بھی کہتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مولہ چٹوک کا پانی سردی میں بھی گرم رہتا ہے۔

آج کل خْضدار ملکی سیاحوں کیلئے ایک خوبصورت اور معروف پکنک پوائنٹ بن چکا ہے ۔یہ شہرت مولا چٹوک کیمرہون منت ہے۔ مولہ چٹوک سطح سمندر سے ساڑھے تین ہزار فٹ کی بلندی پر شفاف پانی کے جھرنوں اور آبشاروں سے گھرا ہوا ایک ایسا قدرتی سوئمنگ پول ہے کہ جس کی تصویروں کی پہلی جھلک ہی آپ کو بے چین کردیتی ہے۔ پانی مسلسل اونچائی سے آبشاروں کی صورت میں نیچے کی طرف آتا رہتا ہے جس کے باعث ہر آبشار کے سامنے ایک چھوٹا سا تالاب بن گیا ہے جس میں سیاح تیراکی کرتے ہیں۔

خضدار سے مولہ چٹوک جانے کے لئے زیادہ تر لوگ موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دشوار گزار اور اونچا پہاڑی سلسلہ ہے کافی راستہ کچا اور پتھریلا بھی ہے۔

مولہ چٹوک آبشار دراصل دو نسبتاً بڑی اور تین چھوٹی آبشاروں کا مجموعہ ہے۔ یہی ٹریک آگے جا کر مولہ چٹوک آبشاروں سے مل جاتاہے، اگر آپ اس پانی کے جگہ پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر اس جگہ پر پیر جمانا یا ہاتھ سے کوئی سہارہ لینا ممکن نہیں۔ لہذہ آبشاروں کے اندر جانے کی ہمت وہی کریں جنہیں تیرنا آتا ہے۔ ورنہ خود کو موت کے منہ میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ان چٹانوں سے مسلسل سیکڑوں سالوں سے پانی گزرنے کے باعث نقش و نگار اور راستے بن گئے ہیں، جو بہت خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہیں۔مولہ چٹوک فیملی کے ساتھ جانا تکلیف دہ ہو سکتا ہے ۔ان دوستوں کے ساتھ جائیں جو ایڈونچر کے شوقین ہوں ۔یہاں بہت لینڈسلائیڈنگ ہوتی اور روڈ مکمل بہہ جاتے ہیں ۔اس مقام پر جانے کا ارادہ ہوتو موسم کا انتخاب سوچ سمجھ کے کریں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ