فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر359

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر359
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر359

  

ہم کراچی پہلی بار 1956ء میں گئے تھے۔ ہوائی سفر کے لیے ایک نیا ہوائی جہاز وائکاڈنٹ متعارف کرایا گیا تھا اور اس سلسلے میں کچھ صحافیوں کو بھی آمدورفت کا ٹکٹ دیا گیا تھا۔ ہم اسی سلسلے میں کراچی گئے تھے۔ کراچی کے بارے میں صحیح حقائق کا علم نہ تھا۔ وہاں کی سڑکیں‘ بازار‘ شاندار ہوٹل‘ غیرملکی سیّاحوں کے غول‘ اونچی اونچی عمارتیں دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ محمّدی ہاؤس کراچی کی بلند ترین عمارت تھی۔ یہ غالباً نو یا دس منزلہ عمارت ہے۔ لاہور والوں کے لیے یہ بھی بہت تھی۔ کراچی ایک صاف ستھرا‘ روشن اور منظّم شہر تھا۔ لاہور والوں کے لیے تو وہاں کی ہر چیز انوکھی تھی۔

ہوش سنبھالنے کے بعد ہم نے ساحل سمندر پہلی بار کراچی ہی میں دیکھا تھا اور سمندر کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ کلفٹن پر خوب چہل پہل تھی۔ مہذّب مجمع تھا۔ عورتیں اور مرد سبھی بے تکلّف گھوم رہے تھے۔ غیرملکی خواتین بھی تھیں۔ ساحل پر ہم نے بھی پتلون کے پائنچے اوپر چڑھائے اور بہت ہمت کرکے پانی کی طرف چلے۔ سمندر سے ہمیں بہت ڈر لگتا ہے لیکن سمندر کا نظارہ بہت اچھا بھی لگتا ہے بشرطیکہ دن کا وقت ہو‘ سمندر پُرسکون ہو اور آس پاس خوب رونق بھی ہو۔ جب پانی کی جھاگ اڑاتی ہوئی لہریں ہمارے پیروں سے ٹکرائیں اور واپسی پر جب پیروں تلے ریت کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی تو بے حد لطف آیا اور عجیب قسم کی طمانیت اور سکون کا احساس ہوا۔ پانی ابھی ہمارے ٹخنوں تک بھی نہیں پہنچا تھا۔ اگلی بار ہم نے دوچار قدم آگے بڑھائے۔ اس بار پانی کی لہریں ہمارے ٹخنوں تک پہنچ گئیں تو ہمارے ڈر کا آغاز ہوا۔ ہمارے آس پاس عورتیں‘ مرد اور بچّے پانی میں ہم سے بھی بہت آگے تک چلے گئے تھے اور ہمارے دوست ہمیں شرم دلا رہے تھے کہ بھائی‘ تم تو عورتوں سے بھی گئے گزرے ہو۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر358 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کلفٹن کے ساحل پر ہر جانب خوشیاں اور چہل پہل تھی۔ زندگی مطمئن اور رنگین محسوس ہورہی تھی۔ یہ سب چیزیں لاہور میں میّسر نہیں تھیں اس لیے ہم کراچی اور کراچی کی ہر چیز کو حیران ہو کر دیکھتے رہے۔

اگلے دن لانچ پر سوارہوکر منوڑہ پہنچ گئے۔ غالباً ڈیڑھ آنے یا دو آنے کا ٹکٹ تھا ایک طرف کا۔ سمندر ہم نے کلفٹن پر بھی دیکھا تھا مگر جب منوڑہ کا کُھلا سمندر دیکھا تو دہشت زدہ رہ گئے۔ اونچی اونچی شور مچاتی ہوئی لہریں‘ دور بحری جہازوں اور کشتیوں کی آمدورفت‘ ساحل پر سیر کرنے والوں کا ہجوم‘ عجیب نظارہ تھا۔

کراچی ہمیں لاہور کے مقابلے میں سستا اور غریب پرور شہر لگا۔ بڑے ہوٹلوں کی بات اور ہے لیکن درمیانہ درجے کے ہوٹل کافی سستے تھے۔ کھانے پینے کی چیزیں بھی مقابلتاً سستی تھیں۔ جوتے اور کپڑے بھی ارزاں لگے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر چیز کی بہت زیادہ ورائٹی تھی۔ گرمیوں میں ہم چپل استعمال کرنے کے عادی ہیں۔

کراچی کی زیب النساء اسٹریٹ کی زیبائش نے ہمیں مسحور کردیا تھا۔ دکانیں روشن اور شاندار۔ فٹ پاتھ صاف ستھرے‘ خریدار معقول اور طرح دار۔ یہیں ایک دکان میں ہم نے چپّلیں دیکھیں۔ مختلف ڈیزائن کی چپلیں نظر آئیں۔ خوب صورت‘ نازک اور نفیس‘ قیمت لاہور سے بھی کم۔ ہم نے فوراً چار جوڑی چپلیں خرید لیں۔ جوتوں پر نظر ڈالی تو وہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک۔ قیمت بھی لاہور کے مقابلے میں کم تھی۔ اس کے بعد ہمارا یہ معمول رہا کہ جب بھی کراچی جاتے تھے‘ ڈھیر ساری چپّلیں اور جوتے ضرور خرید کر لاتے تھے۔ یہاں تک کہ کئی سال کے بعد لاہور میں بھی یہ چیزیں دستیاب ہونے لگیں اور کراچی میں قیمتیں بڑھ گئیں۔

کراچی میں ہم نے پہلی بار نگار ہوٹل میں قیام کیا تھا۔ ہمارے دوستوں نے لاہور میں یہ مشورہ دیا تھا کہ یہاں اے پی پی کا دفتر ہے اور دوسرے صحافی بھی مل جاتے ہیں۔ یہ شہر کا مرکزی علاقہ ہے۔ ہر جگہ آسانی سے جاسکتے ہیں۔ نگار ہوٹل پاکستان چوک کے گردونواح میں ہے۔یہ صاف ستھرا ہوٹل تھا مگر جب رات ہوئی تو قیامت نازل ہوگئی۔ کھٹملوں نے کاٹ کاٹ کر بُرا حال کردیا۔ روشنی جلا کر دیکھا تو کھٹملوں کا ایک لشکر کا لشکر حملہ آور ہوچکا تھا۔ ہم تو مکھی مچھر تک نہیں مار سکتے‘ اس چھوٹے سے کیڑے کو کیا مارتے مگر اپنی جان کا سوال تھا اس لیے جوتا سنبھال کر بیٹھ گئے۔ چادر فرش پر جھاڑی اور آنکھیں بند کرکے ان کا قتل عام شروع کردیا۔

دوبارہ سوئے تو چند منٹ بعد پھر جسم میں سوزش اور ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ روشنی جلا کر دیکھا تو پھر کھٹملوں کا ایک دستہ موجود تھا۔ یہ سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ خدا جانے یہ سینکڑوں ہزاروں کھٹمل کہاں سے آگئے تھے۔ ہم نے یہ تجربہ بھی کرکے دیکھا کہ روشنی میں کھٹمل فرار ہو جاتے ہیں اور اندھیرا ہوتے ہی پھر شب خون مارتے ہیں۔ آخر ہم روشنی جلا کر ہی سو گئے۔ کچھ دیر بعد محسوس ہوا کہ کھٹمل پھر آگئے ہیں۔

خدا جانے انہیں کس طرح علم ہوگیا تھا کہ ہم سو گئے ہیں۔ جیسے ہی ہم نیند کی گود میں گئے انہوں نے پھر ہلّہ بول دیا۔ یہ آنکھ مچولی دن نکلنے تک ہوتی رہی۔ صبح ہمارے بیڈ کے آس پاس خون ہی خون تھا۔

ہم نے منیجر سے شکایت کی تو وہ حیران رہ گئے ’’کمال ہے۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘

ہم نے کہا ’’بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔ آپ ابھی ہمارے کمرے میں چل کر دیکھ لیجئے۔‘‘

وہ بے اعتباری سے سوچتے رہے۔ پھرہمارے ساتھ چل پڑے۔ ہمارے کمرے کا فرش سرخ ہورہا تھا۔ ہمارا جسم بھی کچھ کم فگار نہیں تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا مگر وہ اس بات پر بہت حیران تھے کہ ایسا واقعہ پہلے تو کبھی پیش نہیں آیا۔ ہم ان سے کھٹملوں کی شکایت کرنے والے پہلے مہمان تھے۔ (بقول ان کے)ہم نے کہا ’’اب کیا کریں۔ سامان اُٹھا کر کسی اور ہوٹل میں چلے جائیں؟‘‘

’’ارے نہیں جناب‘ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ہم آپ کو خفا ہوکر نہیں جانے دیں گے۔ آپ کو دوسرا کمرا دے دیتے ہیں۔ اس میں خوب اچھی طرح صفائی ستھرائی۔۔۔ کرادیں گے۔‘‘

دوسرا کمرا بھی ہمارے لیے رات کے وقت معرکہ گاہ ہی ثابت ہوا۔

ہم نے ابراہیم جلیس اور دوسرے دوستوں کو ماجرا سنایا تو وہ بہت ہنسے اور بولے ’’بھائی‘ یہ تو کراچی کی سوغات ہے۔ دوسری چیزوں کی طرح اسے بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمیں تو کراچی میں ایسی کوئی شکایت نہیں ہے۔‘‘

شاید کراچی والے عادی ہوچکے تھے یا پھر کھٹمل باہر سے آنے والوں پر ہی مہربانی کرتے ہیں۔

دوسرا کمرا سڑک کے سامنے ہی تیسری منزل پر تھا۔ صبح کراچی کے ایک دوست تشریف لے آئے۔ ہم غسل خانے سے نکلے تو وہ بہت جوش میں تھے۔

’’یارحد ہوگئی۔ بڑے چُھپے رستم نکلے۔‘‘

’’کیا بات ہے؟‘‘ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔

’’اب انجان نہ بنو۔ اب پتا چلا کہ تم نے یہ ہوٹل کیوں نہیں چھوڑا۔‘‘

’’بھلا کیوں نہیں چھوڑا؟‘‘ ہم نے ان سے پوچھا۔

’’آنکھ مٹکّا جو چل رہا ہے‘‘ انہوں نے بڑے وثوق سے کہا ’’یار‘ ویسے ہو بڑے خوش قسمت۔ اتنی خوب صورت لڑکی اور بالکل سامنے والی کھڑکی میں۔‘‘

’’کہاں ہے؟‘‘ ہم نے ان سے پوچھا اور اپنی بالکونی میں چلے گئے۔ کراچی کی پرانی عمارتوں میں کھڑکیوں کے سامنے بالکونیاں بھی ہوتی ہیں جو بیٹھنے‘ سامان رکھنے یا کپڑے سکھانے کے کام آتی ہیں۔ ہماری کھڑکی کے سامنے والی عمارت کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی مگروہاں کوئی نظر نہ آیا۔

’’کون سی کھڑکی ہے؟‘‘ ہم نے اپنے دوست سے پوچھا۔

’’اب اتنا بھی نہ بنو‘ یہ سامنے والی‘‘ انہوں نے کہا ’’صبر کرو‘ ابھی آجائے گی۔‘‘

ہم نے کافی دیر صبر کیا یہاں تک کہ کھڑکی میں ایک خوب صورت چہرہ نمودار ہوگیا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر360 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ