’اگر موٹے لوگ یہ چیز کھانے لگ جائیں تو ذیا بیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے‘ تاریخی تحقیق میں سائنسدانوں نے سب سے بہترین نسخہ بتادیا

’اگر موٹے لوگ یہ چیز کھانے لگ جائیں تو ذیا بیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ...
’اگر موٹے لوگ یہ چیز کھانے لگ جائیں تو ذیا بیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے‘ تاریخی تحقیق میں سائنسدانوں نے سب سے بہترین نسخہ بتادیا

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)ایک تو موٹاپہ اور اوپر سے ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہو جائے تو انسان کی زندگی مزید مشکل ہی نہیں ہو جاتی بلکہ یہ صورتحال صحت کے لئے سنگین خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر موٹے لوگوں کو ذیابیطس سے بچنے کی سخت تاکید کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس خطرے سے کیسے بچا جائے۔ خوش قسمتی سے سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں اس مسئلے کا بہت ہی آسان حل دریافت کر لیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف نباتاتی غذا،یعنی پودوں سے حاصل ہونے والی غذائیں مثلاً سبزیاں، پھل، اناج اور دالیں وغیرہ، استعمال کریں تو ذیابیطس سے بآسانی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ نباتاتی غذا کے باقاعدہ استعمال سے جسم میں انسولین کی حساسیت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ذیا بیطس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ نباتاتی غذاﺅں کا استعمال بیٹا خلیات کے فنکشن کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ خلیات انسولین کو ذخیرہ اور خارج کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ سبزیوں، پھلوں، اناج اور دالوں وغیرہ کا باقاعدگی سے استعمال ذیابیطس سے تحفظ کے علاوہ عمومی صحت کی بہتری اور وزن میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے۔

یہ تحقیق ’فزیشنز کمیٹی فار رسپانسبل میڈیسن واشنگٹن ڈی سی‘ کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ اس تحقیق کے دوران 75موٹے افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے ان کی صحت پر نباتاتی غذا کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک گروپ چار ماہ کے لئے سبزیوں، پھلوں، اناج اور دالوں پر مشتمل خوراک کا استعمال کرتا رہا جبکہ دوسرے گروپ کی خوراک میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ چار ماہ بعد حاصل کئے گئے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد صرف سبزیوں، پھلوں، اناج اور دالوں پر مشتمل خوراک کا مسلسل استعمال کرتے رہے تھے ان میں کھانے کے بعد انسولین کے اخراج کی صلاحیت پہلے سے نمایاں طور پر بہتر ہوچکی تھی۔ ان افراد میں بیٹا خلیات کی گلوکوز حساسیت میں بھی بہتری آئی تھی۔ یہ تمام تبدیلیاں ذیابیطس کا خطرہ کم ہونے کی واضح علامات ہیں۔ یہ اہم تحقیق سائنسی جریدے ”نیوٹرینٹس“ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت