حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا ،ایسا حکم جاری کر دیا کہ بھارت کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے اثاثے ضبط کرنے کی منظوری دیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کارروائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں،جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمند کرنے کی خبر بھارتی میڈیا کی شہہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے اور بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کا یہ اقدام مودی سرکار کی اہم سفارتی کامیابی ہے جس کا سہرا ہندوستان کی موجودہ حکومت کے سر جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے منقولہ، غیر منقولہ اور انسانی وسائل پر پابندی لگاتے ہوئے اثاثے منجمد کرنے کی ہدایت کی ہے اور جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے اثاثے سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے،حکومت نے تمام صوبوں کو بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔یاد رہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن حکومت کی جانب سے رواں ماہ دس فروری کو جاری کیا گیاتھا۔اس سے قبل وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ، لشکر طیبہ اور فلاح انسانیت سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر بھی پابندی عائد کی تھی،حکومت نے تمام کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کسی تنظیم اور افراد کو عطیات نہ دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے جنداللہ کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت شیڈول ون میں رکھا تھا، حکومت کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔اس سے قبل یکم جنوری کو ایس ای سی پی نے کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک افراد کو عطیات دینے پر پابندی لگائی تھی۔ایس ای سی پی کے مطابق کمپنیاں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں موجود تنظیموں اور افراد کو نقد رقم عطیہ نہیں کرسکتیں۔ یو این سلامتی کونسل نے القاعدہ، طالبان، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکر طیبہ اور ان سے منسلک افراد پر پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ کالعدم تنظیموں اور منسلک افراد پر سفری پابندیاں بھی عائد ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق اثاثہ جات منجمد کیے گئے ہیں اور ان کو اسلحہ کی فراہمی پر بھی پابندی ہے۔ کالعدم تنظیموں پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اسلام آباد میں جماعت الدعوۃ سمیت تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کسی قسم کی فنڈریزنگ، سڑکوں پر بینرز آویزاں یا کسی قسم کی کوئی تقریبات منعقد نہیں کرسکیں گی۔نوٹیفیکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق فوری طور پر نافذالعمل اور دو ماہ تک موثر رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے 71 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی اسسٹنٹ کمشنرز کو ارسال کردی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے حکم جاری کیا کہ دو روز میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹس جمع کرائیں، جبکہ تمام کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...