کوہاٹ میں مقامی عدالت سے قتل کے ملزم کو سزائے موت سنا دی گئی

کوہاٹ میں مقامی عدالت سے قتل کے ملزم کو سزائے موت سنا دی گئی

کوہاٹ(بیورورپورٹ) کوہاٹ کی مقامی عدالت نے قتل کے مقدمے میں ملزم کو سزائے موت سنادی ہے۔مقدمہ قتل کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ محمد شعیب خان کی عدالت میں سنایا گیا ہے ۔ملزم جاوید اقبال نے سال 2015کے دوران خرماتوکے رہائشی چودہ سالہ لڑکے محمد ثاقب کو چھریوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ملزم کے خلاف تھانہ بلی ٹنگ میں مقدمہ درج کرکے انہیں آلہ قتل سمیت حراست میں لیا گیا تھا ۔ سزائے موت کا فیصلہ عینی شاہدین کے بیانات، دستیاب شواہد اور ملزم کے اعتراف جرم کی روشنی میں سنایا گیا ہے۔موت کی سزا پانے والے ملزم کو جیل میں قید رکھنے کا حکم دیدیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ بلی ٹنگ سے ملحقہ نواحی علاقہ خرماتو میں 23ستمبر 2015کی صبح مقامی سکول کے طالبعلم چودہ سالہ محمد ثاقب ولد جاوید خان کو سکول جاتے ہوئے راستے میں مقامی باشندے جاوید اقبال ولد محبت خان نے چھری کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔واقعے کا مقدمہ مقتول کے والد کی مدعیت میں تھانہ بلی ٹنگ میں درج کرکے ملزم کو آلہ قتل سمیت حراست میں لیا گیا اور اسکے خلاف کیس مقامی عدالت میں داخل کرکے مقدمے کی سماعت شروع کی گئی۔قتل کے مقدمے کی پیروی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ محمد شعیب خان کی عدالت میں ہوئی جس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے فاضل جج نے کیس کی تفتیش کے دوران پیش کردہ تمام دستیاب شواہد، ملزم کے اعتراف جرم اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں نتائج اخز کرنے کے بعد ملزم کو مجرم ٹھہراتے ہوئے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنادیا ۔عدالت نے موت کی سزاء کا فیصلہ سناتے ہوئے زیر حراست ملزم کوجیل میں قید رکھنے کا حکم دیدیا جس پر پولیس نے ملزم کو احاطہ عدالت سے سخت سیکیورٹی میں ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ منتقل کردیا ۔واضح رہے کہ سفاک مجرم کو عدالت سے سزا یاب کرانے اورمقتول طالبعلم کے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے میں مقامی پولیس کے انتظامی وتفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور جدید طرز تفتیش کا عنصر کار فرما ہے جسے قانون دانوں اور عوام نے بے حد سراہا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...