نیب افسروں کی تفتیشی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان

نیب افسروں کی تفتیشی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان

سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو لوکل گورنمنٹ کشمور کے چیف آفیسر اظہر مہسیر اور دوسرے ملزموں کے خلاف مزید کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی نیب سے وضاحت طلب کی ہے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ مسٹر جسٹس احمد علی ایم شیخ اور مسٹر جسٹس عمر سیال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مقدمے کی سماعت شروع کی تو نیب تفتیشی افسر کی جانب سے سوالوں کے جواب نہ دینے پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے بیشتر تفتیشی افسر تفتیش کے بنیادی قواعد سے لاعلم ہیں۔ فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ نیب اِس مقدمے کی2018ء سے انکوائری کر رہا ہے، بتایا جائے کس قانون کے تحت انکوائری کی جا رہی ہے، انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے چالان جمع کر وادیا تو نیب نے کیسے مداخلت کی؟چیف جسٹس نے کہا نیب نے ایسا تفتیشی افسر بھرتی کیا ،جو سٹیٹمنٹ نہیں لکھ سکتا، وہ تفتیش کیسے کرتا ہو گا۔انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کتنے عرصے سے تفتیش کر رہے ہو، چیف جسٹس نے دورانِ سماعت ریمارکس دیئے کہ کیا معلوم نیب افسران باہر جا کر فریسکو کی جلیبیاں کھاتے ہیں یا کام کرتے ہیں۔

ویسے تو اوپر سے لے کر نیچے تک نیب کی ہر جگہ دہشت ہے،کیونکہ وہ جسے چاہے پکڑلے اور جسے چاہے چھوڑ دے،لیکن فاضل عدالت نے اس مقدمے میں تفتیشی افسروں کی اہلیت،صلاحیت اور قانون سے اُن کی بے خبری پر جو سوال اٹھائے ہیں اُن کی وجہ سے اِس ادارے کی پوری شاندار عمارت ہی دھڑام سے گر پڑتی ہے،جس کی چاروں طرف چکا چوند ہے تاہم محسوس یوں ہوتا ہے کہ نیب کا بہت زیادہ انحصار قانون اور قانونی کارروائیوں پر نہیں،بلکہ رعب داب اور تڑیوں پر ہے، جو بعض اوقات ٹی وی پروگراموں کے ذریعے بھی دی جاتی ہیں اور خطابات کے ذریعے بھی۔ فاضل عدالت نے بہت برمحل یہ سوال اٹھایا ہے کہ نیب کا جو افسر ایک بیان نہیں لکھ سکتا،وہ تفتیش کیسے کرتا ہو گا؟بلکہ یہ تک ریمارکس دیئے ہیں کہ باہر جا کر تفتیشی افسر کیا معلوم جلیبیاں کھاتے ہیں یا کام کرتے ہیں اس ایک جملے اور جلیبی کے استعارے کے ذریعے ہائی کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے نیب کی تفتیش کے پورے نظام پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے،اِس سے پہلے بھی بہت سے جج حضرات متعدد بار نیب افسروں کی تفتیش کے بارے میں ایسے ریمارکس دے چکے ہیں،جن سے اِس ادارے کی تفتیش کا کوئی روشن پہلو سامنے نہیں آتا اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ تفتیش میں قانون پر انحصار کرنے اور قانونی ذرائع اختیار کرنے کی بجائے ملزموں کو ڈرا دھمکا کر اُن سے ’’پلی بار گین‘‘ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پلی بارگین پر بھی عدالتوں کے تحفظات سامنے آ چکے ہیں ویسے بھی اکثر و بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ وصول کی ہوئی رقم یا رشوت وغیرہ کا بہت معمولی حصہ وصول کر کے ملزم کو رہائی کا پروانہ جاری کر دیا جاتا ہے۔

بہت سے ہائی پروفائل کیس ایسے دیکھے گئے ہیں،جن کا شروع شروع میں تو بڑا شہرہ تھا اور بتایا جاتا تھا کہ اربوں روپے لوٹے گئے ہیں اور کروڑوں کی رقم برآمد ہوئی ہے،لیکن بعدازاں پتہ چلا کہ ملزم بیان کی گئی بھاری رقوم کا بہت ہی معمولی حصہ ادا کر کے رہا ہو چکا۔اگرچہ اس طرح جرم تو ختم نہیں ہوتا،لیکن پکڑے جانے والے اس طریقِ کار کو غالباً اِس لئے اختیار کرتے ہیں کہ پلی بارگین کے بعد وہ جیل سے رہا ہو جاتے ہیں اور جہاں چاہے رہ سکتے ہیں۔اکثر صورتوں میں ایسے لوگ بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں اور ناجائز طور پر حاصل کی گئی رقم سے وہاں آرام کی زندگی گزارتے ہیں۔

ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ احتساب کے قوانین کو عدالتی ریمارکس اور فیصلوں کی روشنی میں اَپ ڈیٹ کیا جاتا،فرسودہ قوانین ختم کر دیئے جاتے اور قانون کی حکمرانی کو پیشِ نظر رکھ کر نئے قوانین بنائے جاتے،لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ جنرل پرویز مشرف کے پورے عہد میں تو نیب کے مخصوص مقاصد تھے اور اکثر و بیشتر مخالف سیاست دان ہی اس کی زد میں آتے تھے، جو سیاست دان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کر لیتے وہ نیب کی لانڈری میں دُھل کر ایسے پاک صاف ہو جاتے کہ پھر نویں نکور ہو کر حکومتی منصب بھی سنبھال سکتے تھے ایسے بہت سے سیاست دانوں نے نہ صرف جنرل پرویز مشرف کی دریا دلی سے فائدہ اٹھایا اور اُن کے دور میں حکومت کے مزے لئے، بلکہ کسی نہ کسی طرح آج بھی شریکِ اقتدار ہیں، بس کبھی کبھار نیب اُنہیںیاد کر لیتا ہے، بعض ایسے ہیں جن کی ایک آدھ طلبی کے بعد دوبارہ بُلاوے کی نوبت نہیں آتی،لیکن اگرکوئی کسی منصب کے لئے اندر خانے جوڑ توڑ کا سلسلہ ختم کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اُسے نیب کے دفتر میں بُلا کر گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سب کا احتساب ’’بلا تفریق‘‘ کیا جا رہا ہے اور کسی کے ساتھ رو رعایت نہیں کی جاتی،لیکن اگر ایسا ہوتا تو تفتیشی افسروں کی ہر روز عدالتوں میں یوں سرزنش تو نہ ہو رہی ہوتی اِس سے تو یہی مترشح ہوتا ہے کہ نیب کی تفتیش میں یا تفتیشی افسروں کی ساخت، اہلیت اور قابلیت میں کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی خرابی موجود ہے،جس کی درستی پر تو کسی کی توجہ نہیں،لیکن اس کے دانت اتنے تیز ہیں کہ سابق وزیراعظم اور سابق وزیراعلیٰ بھی اس کی کسک محسوس کرتے ہیں۔

نیب کو اگر ایسا ادارہ بنانا ہے،جس کے انصاف پر عام شہری بھی اعتماد کر سکیں اور اس کے افسر عدالتوں کو بھی مطمئن کر سکیں اور اُن کی صلاحیتوں پر سوال نہ اُٹھیں تو فوری طور پر حکومت اور اپوزیشن سر جوڑ کر بیٹھیں اور نیب قوانین کا شق وار جائزہ لے کر ان کی نوک پلک اس طرح سنواریں کہ نیب قوانین انتقام نہیں، انصاف کی بالادستی کے لئے استعمال ہوں اور عدالتوں کو یہ نہ کہنا پڑے کہ جو تفتیشی افسر ایک بیان نہیں لکھ سکتا وہ تفتیش کیا کرے گا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں ڈی جی نیب کو بھی طلب کیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ وہ عدالت کو کس حد تک مطمئن کر پاتے ہیں،لیکن نئی قانون سازی کا سارا انحصار تو پارلیمینٹ پر ہے اور پارلیمینٹ کا کردار اسی وقت شروع ہو گا جب مسودۂ قانون ایوان میں پیش کر دیا جائے گا،لیکن اس وقت تو حکومت بھی سب کچھ بھول بھلا کر شہباز شریف کو پی اے سی کی چیئرمینی سے ہٹانے کے مشن پر ہے اور اس کے ایک وزیر، وزارتی منصب پر قائم رہتے ہوئے پی اے سی کا رکن بننا چاہتے ہیں اور اِس مقصد کے لئے سپیکر کو بھی دباؤ میں رکھنے سے گریز نہیں کرتے۔

اس وقت قانون کی حکمرانی ملک کا بڑا مسئلہ ہے اور خود سرکاری اداروں نے جنہیں قانون کا سب سے زیادہ احترام کرنا چاہئے، قانون کو موم کی ناک بنایا ہوا ہے، سیف سٹی اتھارٹی نے کسی قانون سازی کے بغیر ہی لوگوں کو ای چالان بھیجنے شروع کر دیئے ہیں۔ یہ معاملہ بھی لاہور ہائی کورٹ میں زیر بحث آیا اور عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا قانون بنائے بغیر سیف سٹی اتھارٹی کو لوگوں کے گھروں پر چالان بھیجنے کا حق بھی حاصل ہے؟اگر قانون سیف سٹی اتھارٹی کو ایسی چالان بازی کی اجازت نہیں دیتا تو پھر اس اتھارٹی کے حکام سے بھی تو جواب طلبی ہونی چاہئے کہ انہوں نے قانون سے بے خبری کا یہ مظاہرہ کیوں کیا؟ اور کس اختیار کے تحت ای چالان کئے جا رہے ہیں ایسے لگتا ہے ہمارے سرکاری اداروں کا بنیادی مسئلہ قانون سے بے خبری یا تجاہل عارفانہ ہے،لیکن اس جانب کسی کی توجہ نہیں، ساری توجہ جن امور پر مرکوز ہے۔اس کا اظہار روزانہ چند وزراء کے بیانات سے ہو ہی جاتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...