صبغت اللہ مجددی کا انتقالِ پُرملال

صبغت اللہ مجددی کا انتقالِ پُرملال

دین الٰہی اکبر شاہی کے مقابل کھڑے ہو کر الحاد کی صفوں کو برباد کر دینے والے بزرگ حضرت مجدد الف ثانی کے خاندان میں سے ایک اور بزرگ ہستی عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف سفر کر گئی ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حضرت صبغت اللہ مجددی 93سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ جہادی تنظیم جبہ نجات ملی کے بانی تھے اور سوویت یونین کے افغانستان پر قبضہ کے خلاف جہادمیں بھی حصہ لیا تھا، افغانستان کا مجددی خاندان دینی تعلیم کا سرچشمہ ہے اور سنت نبویؐ کی سخت پیروی میں یقین رکھتا ہے۔ صبغت اللہ مجددی کے ایک بھائی پیر فضل عثمان کابلی مجددی امان اللہ خان کے دور اقتدار میں ان کی طرف سے جدید مغربی طرز زندگی اپنانے پر خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے تھے اور آبائی روایات کے مطابق سخت مخالفت کی اس کی پاداش میں ان کو ملک بدر کر دیا گیا۔تب پاکستان میں فیلڈ مارشل ایوب خان برسر اقتدار تھے۔ انہوں نے بزرگ ہستی کو ریاستی مہمان کا درجہ دیا، وہ اپنی بقیہ زندگی تک لاہور میں مقیم رہے۔ وفات کے بعد ان کی تدفین جلال آباد میں ہوئی۔محترم صبغت اللہ مجددی نے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ افغانستان کو آزاد اسلامی ملک دیکھنے کے خواہش مند اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم کے حامی تھے،سوویت یونین کے انخلا کے بعد جو عبوری نظام قائم ہوا اس میں وہ 1992ء میں ملک کے عبوری صدر بھی رہے۔ اب وہ ذاتی طور پر خاموش زندگی گزار رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں رکھے اور درجات بلند کرے۔آمین!

مزید : رائے /اداریہ


loading...