’’نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘

’’نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘
’’نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘

  


یہ کوئی آج کی بات نہیں، ایسا شاید صدیوں سے ہی ہوتا آیا ہے کہ ہر جگہ کوئی نہ کوئی کام خراب کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ ہم اپنے لڑکپن کی طرف دیکھیں تو جب بھی ایسی صورتِ حال تھی۔

ہم سرکلر باغات میں کرکٹ کھیلتے تھے۔ ایک ہی محلے کے لڑکے آپس میں بٹ کر دو ٹیمیں بنا لیتے، سب پورے ہوتے تو آدھے آدھے ہو جاتے اگر کوئی ایک فالتو ہوتا تو اسے باہر بیٹھنا پڑنا،عموماً فیصلہ ٹاس یا قرعہ اندازی کے ذریعے کر لیا جاتا کہ کس نے باہر بیٹھنا ہے۔

ہمارے محلہ داروں میں ایک ساتھی چاچا جماں ہوتے تھے(اللہ مغفرت فرمائے) وہ ہمیشہ دیر سے آتے اور کھیلنے پر اصرار کرتے،جب ان کو انتظار کے لئے کہا جاتا تو وہ وکٹیں اکھاڑ کر کہتے پھر تم کو بھی نہیں کھیلنے دوں گا، چنانچہ ایک ہنگامہ ہوتا اور یا تو کھیل ختم کر دیا جاتا یا پھر دوبارہ سے تقسیم کر کے دو ٹیمیں بنائی جاتیں اور چاچا کو شامل کر کے کھیل شروع ہوتا، اسی طرح کبھی ’’بنٹے ‘‘(شیشے کی گولیاں) کھیل رہے ہوتے تو وہاں بھی کچھ اس قسم کا تنازعہ ہوتا اور کوئی چاچا جماں کہتا ’’نہ کھیڈاں گا، نہ کھیڈن دیاں گا‘‘۔

آج جب ہم سیاسی میدان، یا گراؤنڈ میں نظر دوڑاتے ہیں تو یہاں بھی چاچا جماں موجود ہے۔ یہ فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید ہیں، جو وزارتِ ریلوے کو چلا،بلکہ بھگا رہے ہیں، ان کو یکایک پی اے سی میں جانے کا جوش وارد ہو گیا ہے اور اک ہنگامہ کھڑا کیا ہوا ہے، لوگ پوچھتے ہیں کہ شیخ رشید چاہتے کیا ہیں، جواب آتا ہے

’’نہ کھیڈاں گے، نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ اور یہ سچ بھی نظر آنے لگا ہے کہ ان کی ہنگامہ آرائی اور سخت زبان کا اب جواب یہ آ رہا ہے کہ قریباً ساری اپوزیشن جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں،بلکہ اب تو تحریک انصاف کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو گئی ہیں۔پارلیمانی جمہوریت میں ایوان کی مجالس قائمہ کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔اگر پارلیمینٹ کو وقعت دینا مقصود ہے تو پھر ان کمیٹیوں کو مضبوط رکھنا ہوتا اور کمیٹیوں میں شامل اراکین کا بھی یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دلجمعی سے کام کریں کہ ایوان کے تمام امور ان متعلقہ کمیٹیوں ہی کے سپرد کئے جاتے ہیں۔

شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ وہ موجودہ پارلیمان میں سب سے پرانے اور سینئر پارلیمنٹیرین ہیں، ان کی یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے،اس صورت میں وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ 1988ء سے1990ء والی شدید محاذ آرائی کے دور میں بھی مجالس قائمہ کی رکنیت اور سربراہی باہمی اتفاق رائے سے ہی طے پاتی تھی اور اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے،لیکن رکاوٹیں حکومت کی جانب ہی سے ڈالی جا رہی ہیں۔

پہلے یہ تنازعہ ہوا کہ قائدِ حزب اختلاف کسی کو بھی بنا لو سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو نہ بناؤ، اس وجہ سے تاخیر بھی ہوئی، تاہم بالآخر روایت کی روشنی میں محمد شہباز شریف قائد حزبِ اختلاف ہو گئے۔اس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کا مسئلہ آیا تو برادرم فواد چودھری اور شیخ رشید برہم ہوئے،حتیٰ کہ کابینہ کا فیصلہ سنا دیا کہ شہباز شریف نہیں ہوں گے کسی اور کو بنا لیں۔

حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں(مسلم لیگ (ن)+ پیپلز پارٹی) نے موقف اختیار کیا کہ سابقہ دو ٹرمز کی روشنی میں قائد حزبِ اختلاف ہی پی اے سی کا چیئرمین ہوتا ہے۔اس پر ایک تناؤ پیدا ہوا، سپیکر اسد قیصر نے تحمل اور بردباری سے کام لے کر مصالحت کی مسلسل کوشش کی اور باہمی مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ بھی اپوزیشن کے حق میں ہوا اور شہباز شریف سربراہ بن گئے۔

کمیٹی نے کام بھی شروع کر دیا، اس کے باوجود فواد چودھری اور شیخ رشید ان سے علیحدگی کا مطالبہ کرتے رہے کہ ان کے خلاف نیب کے ریفرنس ہیں،دوسری طرف سے کہا گیا نیب کے پاس تحقیقات ہونے کے باوجود وہ ملزم ہیں مجرم نہیں۔

اس صورتِ حال کو بھی برداشت نہ کیا گیا اور شیخ رشید نے پی اے سی کا رکن بننے کا اعلان کر دیا اور حال ہی میں کہا کہ عمران خان نے ان کو ریاض فتیانہ کی جگہ رکن نامزد کر دیا ہے،چنانچہ نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا، جو اب تک چل رہا ہے، سپیکر اسد قیصر نے یہ دباؤ ابھی تک برداشت کیا ہے، مقصد یہ کہ مجلس قائمہ میں تنازعہ نہ پیدا ہو اور کام روائت کے مطابق چلتا رہے،اس پر خود ریاض فتیانہ اور ان کی تائید راجہ ریاض نے بھی کی، فتیانہ تحریک انصاف کے کوٹہ سے کمیٹی کے رکن ہیں، شیخ صاحب اس کے باوجود اصرار کر رہے ہیں کہ ان کو عمران خان نے ریاض فتیانہ کی جگہ نامزد کر دیا ہے، اِس لئے جس کو اعتراض ہے وہ ان سے بات کرے،جبکہ ریاض فتیانہ کا موقف ہے کہ شیخ رشید گند نہ ڈالیں اور عمران خان کے لئے مسائل پیدا کرنے سے گریز کریں۔

شیخ رشید خود اپنی جماعت کے سربراہ اور رکن ہیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنے بھتیجے کو منتخب کرایا جو تحریک انصاف میں شامل ہوئے، تب انہیں ٹکٹ ملا۔ایوان میں یہ صورت اور عوام میں عوامی مسلم لیگ کا پتہ نہیں، تاہم شیخ رشید اپنی زبان دانی کی بناء پر اک ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہیں، وہ بالکل نہیں سوچ رہے کہ یہ شدید مخاصمت حزبِ اقتدار اور حزبِ اقتدار میں دوریاں پیدا کر دے گی،لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے، جبکہ جس نے ایوان چلانا ہے وہ سپیکر اسد قیصر ہیں اور شیخ رشید کو کمیٹی میں نہیں لینا چاہتے، اب یہ کشمکش تحریک انصاف کے اندر بھی ہے۔

عوام سوچ رہے ہیں کہ شیخ رشید جو دن رات عمران خان کے لئے خوشامدانہ رویہ رکھتے ہیں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ شدید محاذ آرائی 1990ء جیسے نتائج نہ لے آئے۔

وہ دعوے تو جمہوریت کو مستحکم اور نظام کو مضبوط بنانے کے کرتے ہیں،لیکن خود ہی توڑتے چلے جاتے ہیں، شاید ان کا مقصد بھی یہی ہو کہ ’’نہ کھیڈاں گے، نہ کھیڈن دیاں گے‘‘بات یہاں تک چلی گئی۔ اپوزیشن کہتی ہے، اگر برسر اقتدار جماعت مصر رہی اور شہباز شریف کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہ پارلیمینٹ چلنے نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہہ دیا ’’پرواہ نہیں‘‘۔

حزبِ اختلاف نے رویہ نہ بدلا تو پارلیمینٹ کی پرواہ بھی نہیں کریں گے۔فواد چودھری آرڈیننس اور عمران خان پارلیمینٹ کے بغیر حکومت چلانے کی بات کرتے ہیں، اللہ خیر کرے چاچا جماں تو اپنا کام کر چکا۔

مزید : رائے /کالم


loading...