تہوار کارپوریٹ سیکٹر کے ہتھّے چڑھ گئے

تہوار کارپوریٹ سیکٹر کے ہتھّے چڑھ گئے
تہوار کارپوریٹ سیکٹر کے ہتھّے چڑھ گئے

  

زمانہ قدیم ہی سے موسموں اور رُتوں کا بدلنا انسانی شب و روز، مزاج و کیفیت اور افعال و اعمال پر اثر انداز ہوتا آیا ہے۔ گرمی، سردی، خزاں اور بہار اپنے جلو میں اپنے رنگ لاتے ہیں اور لوگوں کی سماجی و معاشرتی زندگی کے کینوس پر ان رنگوں سے اپنی خصوصیات کو اُجاگر کرتے ہیں۔ ان خصوصیات ہی کے زیرِ اثر لوگ اپنے کام کاج، اپنے معمولات اور اپنی تفریحات کو ترتیب دیتے ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک کے موسمی تہواروں کی طرح برصغیر پاک و ہند کے لوگ بھی موسم کے تبدیل ہونے پر اپنے تہوارمناتے ہیں بالخصوص پنجاب میں موسمی تہوار ایک قدیم تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہیں۔ دنیا چونکہ ایک عالمگیر گاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہے اس لئے بعض تہوار حد بندیوں اور سرحدوں سے ماورا مختلف ملکوں میں اپنا عَلَم اُٹھائے موجود ہیں۔ مغرب میں ویلنٹائن ڈے بہار کا مژدہ لے کر آتا ہے تو پنجاب میں بسنت موسم کی تبدیلی کی خوش خبری دیتی ہے۔ زرد رنگ بسنت کی علامت ہے تو سرخ رنگ ویلنٹائن ڈے کی نشانی۔

اس دن کو چونکہ محبت سے جوڑ دیا گیا ہے اس لئے سرخ دل ویلنٹائن ڈے کی ایک ایسی علامت کے طور پر مشہور و مقبول ہوا ہے کہ جسے ہر ذہنی سطح کا شخص پہچان اور سمجھ لیتا ہے۔

موسمی تہوار کسی بھی قوم کی ذہنی بلوغت کا اظہار ہوتے ہیں۔ انہیں مثبت یا منفی رنگ دینا لوگوں کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ قوم زیرک اور صاحبِ علم ہو تومثبت اور فرسودہ سوچ کی حامل ہو تو منفی۔ ویلنٹائن ڈے چونکہ کارپوریٹ بزنس کے ہتھے چڑھ چکا ہے اور کارپویٹ بزنس والے قلب اور ذہن کے بجائے کمپیوٹر اور کیلکولیٹر سے کام لیتے ہیں اس لئے ان کی زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے کی حرص نے ایک سیدھے سادے تہوار کو گورکھ دھندہ بنا دیا ہے۔ یہی حال بسنت کے تہوار کا ہوا ہے۔ حالانکہ دونوں تہوار بہار کا سندیسہ ہیں۔

ان ہری کونپلوں کا اعلان ہیں جو نرم بھوری مٹی سے سر نکالتی ہیں اور ان کثیر النوع رنگوں والی کلیوں کے چٹخنے کی آواز ہیں جو انسانی قلوب میں راحت و امید کا ترنم بھر دیتی ہیں۔

ہمارے معاشرے کو جس میں سیاسی و معاشی اور معاشرتی ابتری نے بے یقینی، بے اطمینانی اور بے چینی بھر دی ہے، ایسے تہواروں کی اشد ضرورت ہے جنہیں ان کی اصل روح کے ساتھ منایا جائے۔ اصل روح ہے اپنی حدود کو پہچانتے اور دوسروں کا دھیان رکھتے ہوئے، خوشی اور راحت، انس و محبت، متانت و شائستگی اور امن و سکون کی فضا کے لئے سعی کرنا۔

ویلنٹائن ڈے ایک دوسرے کا خیال رکھنے، خلوص و راحت کے فروغ اور محبت بانٹنے ہی کا نام ہے۔ سرخ گلاب اس کا نشان ہے۔ گلاب کی پتیوں کی تہوں میں وہ کومل جذبات خوابیدہ ہوتے ہیں جو گلاب پیش کرنے والے کے قلب سے پھول میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ البتہ ضروری بات یہ ہے کہ گلاب دینے اور لینے والا دونوں بے لوث ، مخلص،سچے اور پاک جذبات کے حامل ہوں۔

ویلنٹائن ڈے کا حقیقی مقصد تبھی پورا ہو سکتا ہے۔بسنت کے تہوار نے جس طرح لباس و خوراک اور خوشیوں کے اظہار کو ایک جداگانہ حیثیت دی ہے۔اسی طرح ویلنٹائن ڈے نے فروری کی 14تاریخ کو اچھوتا ثقافتی رنگ دیا ہے۔ اب یہ کسی ایک خطے کی تہذیب و تمدن کا اظہار نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے مختلف النوع معاشروں کے رنگوں میں رنگا جا چکا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صاحبانِ علم و اختیار اپنے اپنے تمدن کے تقاضوں کے مطابق اس دن کی ترجیحات کو واضح کریں اور اس سے وابستہ تہوار میں ان باتوں کو سامنے لائیں جو ایک باشعور ، ذی عقل اور متین و بردبار قوم کے شایانِ شان ہو۔ گلاب والدہ کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے اور بہن کو بھی۔ یہ اس محبت کا اظہار ہے جو آلودگی سے پاک قلب کے نہاں خانے سے ابھرتی ہے۔

مزید : رائے /کالم