احتساب اور ’’مرضی کے بنچ‘‘

احتساب اور ’’مرضی کے بنچ‘‘
احتساب اور ’’مرضی کے بنچ‘‘

  

ایک زمانہ ہوتا ہے ، میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بیانات کو سنجیدہ نہیں لیتا، اس لئے کہ اپنے وطن میں لفظوں کی بے حرمتی کا کاروبار عام ہے، اور اس پر کسی قسم کی کوئی قدغن بھی نہیں ، مگر اس کے باوجود میں چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کے ایک خطاب کو نظرانداز نہیں کر سکا۔

انہوں نے ایک تقریب میں کہا، " اگر کرپشن پر سزائے موت تجویز ہو تو ملک کی آبادی کم ہوجائے گی ۔ کل جن کے پاس موٹرسائیکل تھی، آج ان کے دبئی میں ٹاور ہیں ۔ پوچھ لیا تو کیا گستاخی ہو گئی "۔ نیب کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے۔ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ جو بدعنوانی کرے گا، وہ بھرے گا۔

ہر ایک کو حساب دینا ہو گا ۔ ہم کسی سے ڈکٹیشن لیں گے، نہ ہی انتقامی کارروائی ہو گی۔

مجھے ذاتی حیثیت میں یہ علم نہیں کہ چیئرمین نیب کا یہ صاف شفاف بیان کس حد تک رسمی، یا غیر رسمی ہے۔ وہ کیا کرسکتے یا کریں گے اور کیا نہیں کر سکتے ، یا نہیں کریں گے۔ اتنا مگر ضرور ہے کہ انہوں نے کئی برس برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں سے مخاطب ہو کر گویاعوام کے دل و دماغ کی ترجمانی کی ہے ۔ فرضِ کفایہ کی ادائیگی پر مبارک باد! قوم احتساب چاہتی ہے ۔ غیر جانبدارانہ احتساب ،لیکن انتقام نہیں۔

اگر احتساب یہ شکل اختیار کرلے تو نظر بھی آنے لگتا ہے اور محض ’’بیلنس‘‘ کی کارروائیوں سے اس پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔میں چیئرمین نیب کے بیان سے زیادہ اس امر پر حیران ہوں کہ مسلم لیگی حکومت اور پیپلز پارٹی ایسی حزب اختلاف سے یہ خطا کیسے سرزد ہو گئی کہ انہوں نے باہم اتفاق رائے سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا انتخاب کر ڈالا۔

ظلم تو یہ ہے کہ اب تک عموماً جتنے بھی چھوٹے بڑے قانون بنائے جاتے رہے، وہ غاصبوں اور لٹیروں کے تحفظ میں تھے۔ ڈاکو انتظامیہ اور قانون ساز۔ ہاتھ میں ہاتھ ، بلکہ ایک ساتھ! یہ بھی کیا قانون ہے کہ رہزن اپنا ذریعہ معاش اور وسائل نہیں بتائیں گے ۔ بیچاری قوم ۔ اسے لوٹ کا مال ثابت کرے گی ۔ کیا قارون کے اثاثوں کی خاطر بھی حضرت موسیٰؑ درکار ہیں ؟ تاہم اب تک نیب کے نتائج کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ اونٹ کے منہ میں زیرہ ، سمندر سے شبنم اور گلیشیئر سے برف کی چند ٹکریاں !

آپ کے حوصلہ ، استقامت اور عزم کو سلام ! لیکن نیب میں سب اچھا نہیں ہورہا۔ اعلیٰ عدالتیں تقریباً روزانہ اس کی نشاندہی کرتی ہیں ابھی کل ہی ایک عدالت میں یہ سوال اٹھا کہ کیا نیب اب مرضی کے بنچ بھی بنوائے گا۔ یہ درست ہے کہ پروپیگنڈہ کی بھٹیاں چل رہی ہیں ، مگر آپ کے اردگرد اور نیچے کئی کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں ۔

آپ کی ٹیم میں نصف سے زیادہ وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کا بجائے خود احتساب ہونا چاہیے۔ ہائی کورٹ یہ ریماکس دے چکا ہے کہ یہ کیا تفتیش ہوئی جسے چاہا پکڑ لیا جسے چاہا چھوڑ دیا۔ نیب کے ’’تفتیش کار‘‘ اس پرغور فرمائیں۔

یہ درست ہے کہ ان سب لوگوں کو آپ لے کر نہیں آئے۔ لیکن ان کو اب قابو میں رکھنا اور راہِ انصاف پر لے آنا تنہا آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ کیا ایسا ہو پائے گا۔

حال ہی میں متروکہ وقف املاک کے سابق اعزازی چیئرمین سید آصف ہاشمی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط لکھا اور الزامات سے بیگانہ ہوئے اور مکمل ثبوت مہیا کئے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں گناہِ بے گناہی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم