اب نئی کہانی، نئے اسلوب سے لکھیں

اب نئی کہانی، نئے اسلوب سے لکھیں

فیصل بٹ میرا دوست ہے اور اٹلی میں مقیم ہے۔پاکستانی ادب، فنون لطیفہ، سیاست اور حالات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے۔دو دن پہلے اس نے فون کال پر مجھے کہا ’’یار تم نے ہالی ووڈ کی فلم میٹرکس دیکھی ہے ، مَیں نے کہا ہاں ،اس نے مجھے کہا اس فلم کو دوبارہ غور سے دیکھنا یہ پاکستانی ناول کی چربہ فلم ہے پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا یا ر میں حیران ہوں، اس ناول پر اب تک ہالی ووڈ میں بیسیوں فلمیں بن چکیں، لیکن پاکستانیوں کو اس کا علم ہی نہیں۔

سٹار وار ،پلینٹ آف دی ایپس، ٹرمینیٹر،گوڈزیلا ،جراسک پارک اور ایسی کتنی ہی سائنس فکشن فلمیں بن چکی ہیں اور اب بھی کئی نئی فلمیں اس ناول کے مرکزی خیال پر بن رہی ہیں ، لیکن مجھے حیرانی ہے کہ ہالی ووڈ میں پاکستانی ناول پر سائنس فکشن فلمیں بن رہی ہیں اور پوری دُنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں، لیکن ہمارے ہاں اس ناول پر آج تک کوئی فلم یا ڈرامہ پیش نہیں کیا گیا۔مَیں حیران تھا کہ کون سا ناول ہے، جس پر یہ سائنس فکشن فلمیں بن رہی ہیں۔مَیں نے فوراً کہا یار کس ناول کی بات کررہے ہو ۔

اس نے قہقہہ لگایا اور کہا کوئی حال نہیں تمہارا۔ اس ناول کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ہوا تھا اور پھر اسے مختلف مصنفین نے آگے بڑھایا اور اس کے ہر ایپی سوڈ میں اِس قدر تسلسل اور ربط رہا کہ قاری کو ایک لمحے کے لئے بھی نہیں لگا کہ پہلے رائٹرکے جانے کے بعد نئے رائٹر نے لکھنا شروع کیا ہے۔مَیں نے چونک کر کہا۔۔۔اوہ عمران سیریز۔۔۔ابن صفی یا مظہرکلیم کے ناولز کی کوئی کہانی ہوسکتی ہے ۔

اس نے دوبارہ قہقہہ لگایا جو پہلے سے زیادہ زور دار تھا وہ کافی دیر ہنستا رہا اور پھر اس نے جونام بتایا وہ سن کر میں فیصل کی ذہانت کا قائل ہو گیا اور مان گیا کہ واقعی ہالی ووڈ کی یہ تمام سائنس فکشن فلمیں چربہ ہیں۔اس ناول کا نام میں آپ کو کالم کے آخر میں بتاؤں گا۔

ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلموں میں یہ بڑا دلچسپ موضوع ہے کہ ایک سائنس دان یاکسی سائنس لیبارٹری میں ایک انتہائی طاقتور روبوٹ تیار کیا جاتا ہے یا پھر اسی طرح کے روبوٹس کا پورا گروہ بنایا جاتا ہے۔اس کے اندر ایک چپ کے ذریعے پروگرام فیڈ کر دیا جاتا ہے، جس کے مطابق وہ بنانے والوں کی مرضی سے چلتا ہے۔

تخلیق کار اس سے جو کام چاہیں لے سکتے ہیں اور لیتے ہیں، لیکن کہانی اس وقت انتہائی دلچسپ ہوجاتی ہے جب یہ روبوٹس بعض اوقات پروگرام آوٹ ہونے کی صورت میں بنانے والوں کے کنٹرول میں بھی نہیں رہتے اور پھر وہ ایسی تباہی ،ہلڑ بازی،طوفان بدتمیزی اور فساد برپا کرتے ہیں کہ تخلیق کار سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے لئے یہ روبوٹس مصیبت بن جاتے ہیں ۔

جب یہ تخلیق کار کی طاقت کو چیلنج کرنے لگتا ہے تو پھر وہ ان کو کسی طرح ڈی کوڈ کرکے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کے جتن کرنے لگتے ہیں۔فلموں میں اس دوران اس روبوٹی مخلوق کی تباہی دکھائی دی جاتی ہے اور بے تحاشہ معاشی و معاشرتی نقصانات دکھائے جاتے ہیں،جنہیں دیکھ کر انسان کانپ اُٹھتا ہے اور تخلیق کاروں کی ایسی تخلیق سے پناہ مانگتا ہے۔

آئیے اب اس پاکستانی ناول سے آپ کو متعارف کرائیں، جس پر ہالی ووڈ چربہ فلمیں بنا رہا ہے۔اس ناول کو ابھی تک کوئی نام نہیں دیا جا سکا، لیکن سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے میں ایجنسیوں کی پشت پناہی ان گروہوں کی تخلیق کے پیچھے مقاصد اور اس کے خدووخال اور تخلیقی راز سے کافی پردے اُٹھانے کی کوشش کی ہے ۔

اس کے ساتھ اصغر خان کیس کو بھی سٹڈی کیا جائے تو ایک ایک پرت کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔اس کا آغاز 60ء کی دہائی میں ہوا تھا اور ذہنی مفلوج لوگوں کے دماغوں میں چپ لگا کر ایک گروہ تیار کیا گیا تھا ۔اس گروہ نے اس مُلک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور آدھا ملک ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔پھر اس ناول میں اگلے مصنف نے تو ایسی کمال کی مخلوق تیار کی کہ کلاشنکوف،صوبائی عصبیت،لسانیت اور حرام پیسہ معاشرتی ناسور کی طرح پھیلنے لگے۔

لسانی و مذہبی گروہ کلون کئے جنہوں نے شہروں اور شہریوں کی آزادیاں یرغمال بنا لیں۔پاکستان کا کھلا ڈھلا کلچر دیکھتے ہی دیکھتے گھٹن کا شکار ہو گیا اور محبتوں کی جگہ نفرتوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔ پچانوے فیصد مسلمانوں کے ملک میں ہر طرف کافر کافر کے نعرے بلند ہونے لگے اور مسلمان ڈھونڈنا مشکل ہوگیا۔

قتل و غارت کا ایسا بازار گرم ہوا کہ فضا خوفزدہ ہوگئی۔اس کہانی کو پھر آگے بڑھاتے ہوئے اس میں طالبان،صوفی محمد اورٹی ایل پی کا کردار ڈالا گیا۔یہ روبوٹی کردارجب فیڈشدہ پروگرام سے باہر نکل پڑے اور فساد برپا کرنے پر تل گئے اور ببانگِ دہل اپنے تخلیق کاروں کو چیلنج کرنے لگے تو پھر انہیں ڈی کوڈ کرنے کے لئے جتن شروع کر دئیے گئے۔سب سے پہلے صوفی محمد کے اسلام آباد قبضے کے سپنوں پر اوس ڈالی گئی اور اس کی شریعت اس کے ساتھ ہی چلی گئی۔

اس کے بعدٹی ایل پی کی باری آئی وہ ہزار ہزار کی ویلیں وصول کرتے بارات کو انٹر ٹین کرنے کے اپنے اصل کردار سے ہٹ کر ہٹ دھرمی پر اُتر آئے تو پھر انہیں ڈی کوڈ کرنے کا فیصلہ ہوا اور انسانی عقل حیران رہ گئی جو لوگ اسلام آباد راولپنڈی کو اتنے دن یرغمال بنائے بیٹھے رہے اور کسی فورس کے قابو میں نہیں آتے تھے ،دُنیا میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کافی سبکی برداشت کرنا پڑی وہ محض چند گھنٹو ں میں منظر سے غائب ہوگئے اور ان کا نام و کردار قصۂ ماضی بن چکا۔

جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا تاریخی فیصلہ پڑھیں تو اب تمام اداروں اور ایجنسیوں کو اپنے کردار اور شوق تماشہ کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے کہ ساٹھ کی دہائی سے چلتے اس ناول کو اب مزید تحریر کرنے سے روک دینا چاہئے۔حقیقی عوامی لیڈروں کی بجائے کلون کی گئی ،جعلی لیڈر شپ کو مسلط کیا ،وہ لوگ جو ولن تھے انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور تو اور ہماری معاشرتی و سماجی زندگیوں پر نفرت کے گہرے گھاؤ لگائے، جنہیں بھرنے کے لئے کئی سال لگیں گے۔

ہمارے قومی تشخص کو اس سے شدید دھچکا لگا اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا وقار جاتا رہا۔ اب اسے مزید لکھنے اور اسلام آباد کی لیبارٹریوں میں نئے ربوٹس ایجاد کرنے اور انہیں نئے کردار دینے کی بجائے عوام کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اصل اور حقیقی کرداروں کے ساتھ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی کہانی لکھیں۔یقین جانئے یہ کہانی خوبصورت بھی ہوگی،دلچسپ بھی اور لاجواب بھی۔ اس کہانی میں صوبائی عصیبت،لسانیت، مذہبی منافرت اور کرپشن جیسی بیماریوں کا دائمی علاج بھی بتایا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم