خشک مغز و خشک تار و خشک پوست

خشک مغز و خشک تار و خشک پوست
خشک مغز و خشک تار و خشک پوست

  


بعض قارئین اکثر پوچھتے رہتے ہیں کہ میں جن موضوعات پر لکھتا ہوں ، ان میں بیشتر دفاع، بین الاقوامی روابط اور گلوبل سیاسیات ہی پرمبنی کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا اصرار ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ ابھی گلوبل سیاسی اور دفاعی موضوعات کی گرانباری کا متحمل نہیں ہوا اس لئے کبھی کبھی دل کو پاسبانِ عقل کی نگرانی سے آزاد کر دیا کریں اور ہلکے پھلکے موضوعات پر آسان زبان میں بھی کچھ لکھ دیا کریں۔

ایک دوست نے تو مولانا روم کے ایک شعر کا حوالہ دے کر گویا مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔ انہوں نے لکھا : ’’آپ فارسی اشعار اپنے کالموں میں اکثر کوٹ کرتے رہتے ہیں، کبھی رومی کا یہ شعر بھی نظر سے گزرا ہے؟

خشک تار و خشک مغز و خشک پوست

از کجا می آئد ایں آوازِ دوست؟

شعر کا مطلب یہ کہ بانسری اگرچہ خشک بانس سے بنائی جاتی ہے، اس کا اندرونی حصہ بھی خالی (Hallow)ہوتا ہے اور اس کو دیکھ کر کبھی گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس سے ایسے ایسے دل نشیں اور دلآویز نغمے پھوٹیں گے کہ سننے والوں کو جھوم جھوم جانے پر مجبور کر دیں گے۔۔۔ اس قاری نے کہا کہ آپ کے الفاظ و تراکیب اور اصطلاحات وغیرہ اتنے خشک ہوتے ہیں کہ ان کو رک رک کر سمجھنا اور سمجھ سمجھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ کیا آپ کے ہاں ہلکی پھلکی موسیقی کی بھی کوئی گنجائش ہے؟۔۔۔

میں ان کو کیا بتاؤں کہ دفاع اور اقتصادیات جو جدید معاشرے کے دو مستحکم اور اہم ستون ہیں وہ ’’ہلکی پھلکی موسیقی‘‘ میں نہیں سما سکتے۔ ان کے لئے ’’پکے راگ‘‘ ضروری ہیں۔۔۔ تاہم اسی خیال کے تحت سوچتا رہا اور سوچ کا پنچھی مجھے 1970ء کے عشرے کے اوائل میں لے گیا۔۔۔ سطور ذیل اسی پنچھی کا ایک گیت سمجھی جا سکتی ہیں:

سردیوں کا موسم تھا اور میری پوسٹنگ فرنٹیئر فورس رجمنٹل سنٹر، ایبٹ آباد میں تھی۔ امسال تو کئی برسوں کے بعد ایبٹ آباد اور گرد و نواح میں برف باری ہوئی ہے۔ زیر زمین پانی کی کمی کا رونا اکثر رویا جاتا رہا ہے۔ الحمدللہ ماہرینِ علومِ ارضیات نے پیشگوئی کی ہے کہ اس سال کی برفباری اور بارشوں کا اثر نہ صرف پینے کے پانی کی فراوانی میں اضافہ کرے گا بلکہ زرعی رقبوں کو بھی شادابی سے ہمکنار کرے گا۔

ان ایام میں میرے پاس1965ء ماڈل کا 150سی سی ویسپا سکوٹر ہوتا تھا جسے ہم جیسے غریب غرباء کی کار سمجھا جاتا تھا۔۔۔ اس کی ڈگی تھی، اضافی ٹائر (سٹپنی) تھا اور بازار سے سودا سلف لے کر رکھنے کی ایک باسکٹ بھی تھی۔

پہلے پہل یہ سکوٹر اٹلی میں خواتین کے لئے بنایا گیا تھا۔ ان کے شوہر کام پردفتروں وغیرہ میں جاتے تو وہ گھر کی روزمرہ اشیاء کی خریداری کے لئے سکوٹر استعمال کرتی تھیں۔ چونکہ یورپ میں خواتین کے لئے سکرٹ پہننے کا رواج ہے اس لئے اس دو پہیوں والی سواری کے سامنے کا حصہ ایک آہنی چادر لگا کر ڈھانپ دیا گیا تاکہ بے پردگی کا مداوا کیا جا سکے۔۔۔ یہ ویسپا کی ایک اور ’’اسلامی‘‘ خوبی تھی۔

میرا گھر ایبٹ آباد میں مری روڈ پر تھا۔ اس روز بارش کے آثار تو تھے لیکن کم کم۔۔۔ کسی کام کے لئے بازار میں جا نکلا، شام ہو رہی تھی، اچانک بادل گھر کر آئے اور اولے برسنے لگے۔ میں شہر کی سبزی مارکیٹ میں ژالہ باری کے تھم جانے کا انتظار کرنے لگا۔

جب آدھ گھنٹے کے بعد سفید سفید ماربل (کانچ کی بچوں کے لئے کھیلنے والی گولیاں) کا نزول تھم گیا تو میں نے سکوٹر کو کک لگائی اور گھر کی راہ لی۔ ابھی آدھا راستہ طے ہوا تھا کہ برف باری شروع ہو گئی۔ سردی سے قلفی جمنے لگی۔ تیز اور یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے اس پر مستزاد تھے۔ خدا خدا کرکے گھر پہنچا تو بُرا حال تھا۔

رات کو بخار نے آ لیا اور صبح CMH جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے نمونیہ تشخیص کیا اور ہسپتال میں داخل کر لیا۔

ایک کمرے میں تین بیڈز لگے ہوئے تھے۔ ایک پر ایک بڑے میاں دراز تھے جو خود بھی آرمی سے ریٹائرڈ تھے اور ان کے صاحبزادے (میجر انیس) بھی مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں پوسٹ تھے۔ دونوں باپ بیٹوں کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا۔

ایبٹ آباد اگرچہ کوئی زیادہ وسیع و عریض چھاؤنی نہ تھی لیکن پھر بھی قیامِ پاکستان کے بعد شائد آب و ہوا کی موزونیت کے باعث وہاں تین رجمنٹل ٹریننگ سنٹر بنا دیئے گئے۔ یعنی فرنٹیئر فورس رجمنٹ، بلوچ رجمنٹ اور آرمی میڈیکل کور سنٹر۔

ان کے علاوہ پاکستان ملٹری اکیڈمی تھی، آرمی سکول آف میوزک تھا اور آرمی پی ٹی سکول بھی تھا۔ اتنے تنگ علاقے میں اتنی ساری عسکری تربیتی درسگاہیں کسی بھی اور ملک میں شائد ہی ہوں۔ کچھ برس بعد یہاں جونیئر کیڈٹ بٹالین (JCB) بھی قائم ہوگئی اور اس طرح متذکرہ بالا تربیتی (Training) اداروں کے درمیانی فاصلے کی تنگی کی رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔

دوسرے بیڈ (Bed) پر ایک نو عمر کپتان صاحب لیٹے ہوئے تھے۔ ان پر بھی میری طرح تیز بخار اور نمونیہ کا حملہ ہوا تھا۔ تیسرے بیڈ پر میں جا لیٹا۔ ریٹائرڈ میجر صاحب کو جب معلوم ہوا کہ تیسرا مریض لفٹین ہے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ شادی شدہ ہو؟۔۔۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا: ’’جی سر!‘‘ یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور کہا: ’’تمہارے چانسز (Chances) کم ہیں!‘‘۔۔۔ اس فقرے کی معنویت نے مجھے لرزا دیا۔۔۔ میں نے سمجھا کہ تیز بخار اور نمونیہ کا حملہ شائد زیادہ ہی جان لیوا ہوتا ہے۔

ان ایام میں PMA کے بعض کیڈٹس جو اسی مرض کے حملے کی وجہ سے داخلِ ہسپتال ہوئے تھے ان میں دو تین کی افسوسناک موت ساری چھاؤنی میں مشہور ہو گئی تھی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے میجر صاحب سے پوچھا : ’’سر کون سے چانسز کی بات کر رہے ہیں آپ؟۔۔۔ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن میں نے سن رکھا ہے کہ نمونیہ کوئی ایسا جان لیوا مرض نہیں۔ اکیڈمی کے کیڈٹوں کو نمونیہ کے ساتھ کچھ دوسرے عوارض بھی لاحق ہوتے ہوں گے‘‘۔۔۔۔ یہ سن کر میجر صاحب مسکرانے لگے اور کہا: ’’میرا تبصرہ تمہارے شادی شدہ ہونے پر تھا!‘‘۔۔۔ میں نے مکرر دریافت کیا کہ شادی شدہ ہونے کا تعلق زندگی اور موت سے کیا ہے اور میرے چانسز کس حوالے سے کم ہیں؟‘‘

انہوں نے یہ سن کر زیادہ باچھیں کھلار کر منہ میرے بیڈ کی طرف پھیرا اور کہا: ’’آج کل جو نرسیں اس CMH میں پوسٹ ہیں وہ خاص خوش شکل بھی ہیں اور جارحانہ طبع (Agressive) بھی ہیں۔ینگ ’’مریض‘‘ افسروں کی کھوہ میں رہتی ہیں۔ پچھلے سات آٹھ ماہ میں تین کی شادیاں ان آرمی آفیسرز کے ساتھ ہو چکی ہیں جو ہسپتال میں داخل تھے۔اور تینوں اب نوکری چھوڑ کر پیا کے گھر سدھار چکی ہیں۔

میں اس حوالے سے کہہ رہا تھا کہ تم لیفٹن ہو اس لئے شائد شادیوں کا ’’چوتھا کیس‘‘ نہ بن جائے جو کسی بھی CMH کے آفیسرز وارڈ میں داخل ہونے والے ’’مریض افسروں‘‘ کا سالانہ ریکارڈ بن سکتا ہے!‘‘

میجر صاحب دوسری جنگ عظیم میں برما کی کئی لڑائیوں میں حصہ لے چکے تھے۔ ان سے بعد میں گپ شپ کا سلسلہ دراز ہوا تو میں نے ان کو ایک ہنس مکھ اور سدابہار شخصیت پایا۔ ان کو بلڈ پریشر کا عارضہ تھا، کبھی زیادہ ہو جاتا اور کبھی کم۔ کئی بار مرتے مرتے بچے۔ ان کے لواحقین جب ان سے ملنے آتے تو مجھے جاتے ہوئے کان میں کہہ جاتے: ’’انکل ذرا زیادہ باتونی ہیں۔

اگر کوئی غلط سلط بات بھی کہہ دیں تو ان کا بُرا نہ منانا‘‘۔۔۔ اگلے روز کپتان صاحب تو ڈسچارج ہو گئے۔ اور ہم دونوں زبانی کلامی کھل کھیلنے کو باقی رہ گئے۔ ان دنوں خون وغیرہ کے ٹیسٹوں کے نتائج آتے آتے دو تین دن لگ جاتے تھے۔

اول اول تو جو نرسیں ہمارے کمرے میں آتیں وہ ہم دونوں سے ’’خواہ مخواہ‘‘ تادیر ہم کلام رہتیں۔ مجھ پر زیادہ مہربان نظر آتیں لیکن معلوم ہوا کہ یہ ان کی ٹریننگ کا حصہ تھا کہ وہ مریضوں سے مسکرا کر بات کریں اور منہ بسورنے سے باز رہیں۔ پھر بڑے میاں بھی ان کے ساتھ گفتگو کا جو سلسلہ چھیڑتے تو ان کے دل میں چھپے چوروں کی ٹوہ لگانے سے باز نہ آتے۔۔۔ میں لیٹا لیٹا محظوظ ہوتا رہتا۔

ان ایام میں کوئی نرس شادی نہیں کر سکتی تھی۔ یہ تو جب جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا آیا انہوں نے یہ پابندی ختم کی اور ڈھیر ساری دعائیں لیں۔( یہ الگ بات کہ یہ دعائیں ان کے دردناک انجام کو تبدیل نہ کر سکیں)۔ انہی ایام میں یہ بھی معلوم ہوا کہ AFNS (آرمڈ فورسز نرسنگ سٹاف) میں جن لڑکیوں کو بھرتی کیا جاتا تھا ان میں ان کی تعلیمی اہلیت کے ساتھ انٹرویو کرنے والی ٹیم کو یہ ہدایات بھی تھیں کہ منتخب کرنے والی لڑکیوں کے رنگ و روپ، قد بت، نقوشِ جسم اور خوش مزاجی کو بھی زیر نظر رکھے۔

یہ روائت برطانوی فوج کا ورثہ تھی۔ ان کے ہسپتالوں میں میل (Male) وارڈوں میں فی میل (Female) نرسیں اور عورتوں کے وارڈوں میں میل نرس تعینات کئے جاتے تھے۔ متخالف جنس (Opposite Sex) کا یہ قانون یورپی اقوام کی برسہا برس پر پھیلی جنگوں کے تناظر میں وضع اور نافذ کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں مختلف براعظموں میں جن جن محاذوں پر خونریز معرکے لڑے گئے ان میں ہزاروں آفیسرز اور سپاہی مارے گئے اور ایک کثیر تعداد میں زخمی ہوئے۔

چنانچہ ان زخمیوں کی دیکھ بھال کا ایک مبسوط نظام رائج کیا گیا جس کی تفصیل اس مختصر کالم میں نہیں دی جا سکتی۔ میرے کمرے میں جو ریٹائرڈ میجر صاحب، صاحبِ فراش تھے۔ ان کی زبانی اس موضوع کی تفصیلات سن کر بہت حیرانی ہوئی بلکہ بعد میں اس موضوع پر مطالعہ کرنے کا جو شوق پیدا ہوا اس نے انسانی طبائع کے بہت سے نادیدہ پہلوؤں پر سے بھی پردہ اٹھایا۔۔۔ اسلامی افواج میں زخمی فوجیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال سے لے کر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک فوج کی میڈیکل کور کی خدمات کا موضوع تادیر میرے زیرِ مطالعہ رہا۔ بات سے بات نکل رہی ہے۔ ۔۔۔ میں اگلے روز کوچی (انڈیا) کے ایک بشپ فرانکو ملاکل کی ایک خبر بمعہ تصویر کسی اخبار میں دیکھ رہا تھا جس میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی کہ انہوں نے ایک راہبہ (Nun) کو 13 مرتبہ ریپ کیا ہے۔

اس تناظر میں یورپی اور امریکی کلیساؤں میں راہباؤں کے ساتھ پادریوں کی جنسی زیادتی کی تفصیلات پڑھ کر بھی جنرل ضیاء الحق کو داد دیتا رہا کہ انہوں نے ایک سماجی (اور انسانی) مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر دیا۔ وہ اگر نرسوں کو شادی کی اجازت نہ دیتے تو نجانے کتنا عرصہ اور گزر جاتا اور کسی آرمی / سروس چیف کا دھیان اس طرف نہ جاتا۔ اسی طرح ان ایام میں پی ٹی وی پر نیوز ریڈروں کا بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروعات کرنا، خواتین نیوز ریڈروں کا سرپر دوپٹہ اوڑھ کر بیٹھنا اور خبریں پڑھنا، فوج کی یونٹوں اور فارمیشنوں میں ائمہ مساجد کی ایک ریگولر کور (Corps)متعارف کروانا وغیرہ ’’مردحق‘‘ کے کھاتے میں لکھی جانے والی نیکیاں ہیں۔ لیکن اس مرد حق کے بعد فوج کا جو چوتھا مرد حق پاکستان کی مسندِ اقتدار پر بیٹھا اس نے اپنے پیشرو کی بیشتر اسلامی روایات کو ’’باطل‘‘ کرکے رکھ دیا۔

میڈیا آزاد ہوا تو آزادی ء نسواں کا ایک مختلف باب شروع ہوا۔ یہ میڈیا کی زور آوری تھی کہ جنرل مشرف کے بعد آنے والے دو سویلین حکمران، میڈیا کے اس بے باک لبرل ازم کو روک نہ سکے۔ میرا خیال ہے حقوقِ نسواں اور فرائض نسواں دو ایسے موضوعات ہیں جن پر حکومت کی طرف سے براہِ راست قدغن لگانا ہمیشہ معکوس نتائج پیدا کرتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ بڑا ہمہ پہلو اور کثیر الجہات معاشرہ ہے۔ آج نوجوانوں کے چہروں پر جو داڑھیاں سجی ہیں وہ ایک دو عشرے پہلے اتنی تعداد میں نہیں تھیں۔ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ ظواہر کسی قوم کی نژادِ نو کے باطن کا سراغ بھی دیتے ہیں؟۔۔۔ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ دل کی پاکیزگی، نگاہوں کی پاکیزگی کی راہ سے آتی ہے اور پاکیزگی ء نگاہ کے لئے داڑھی اور دوپٹے کا ہونا یا نہ ہونا کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی

کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو

مزید : رائے /کالم


loading...