او پی سی ،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں کوشاں

او پی سی ،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں کوشاں
او پی سی ،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں کوشاں

  

اوورسیز پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ ہماری سوہنی دھرتی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اوورسیز پاکستانیوں سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔اسی طرح اوورسیز پاکستانی بھی پاکستانی عوام کی طرح عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے ہر طرح کی رکاوٹ ختم کریں گے تاکہ ترسیلات زرمیں اضافہ ہو۔ موجودہ حکومت کا مشن ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی دیکھ بھال بہتر انداز میں کریں۔ اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے۔ رکاوٹیں دور کرنے سے ترسیلات زر 20ارب ڈالر سے بڑھا کر 40ارب ڈالر تک جاسکتی ہیں۔

حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے اثاثوں اور جائیدادوں کا قبضہ مافیا سے مکمل تحفظ بھی یقینی بنائے گی۔ پاکستانی سفارت خانوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظات موثر انداز میں دور کرنے کی واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانی مشنز کو پاکستانیوں کے خدشات بہتر انداز میں حل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

اوورسیز پاکستانیوں کو وطن واپسی کے موقع پر امیگریشن کے حوالے سے درپیش مشکلات کے خاتمے کے لئے بھی خصوصی اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔اسی سلسلے میں نومبر 2018ء میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بیرون مُلک مقیم پاکستانیوں کے لئے نائیکوپ کی شرط ختم کر دی تھی، جس کے بعد اب بیرون مُلک مقیم پاکستانیوں کو نائیکوپ کارڈ کی ضرورت نہیں ہو گی، لہٰذا دوہری شہریت کے حامل پاکستانی پاسپورٹ دکھا کر وطن آ سکیں گے۔

اوور سیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سکیم ’’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹس‘‘ کا اجراء کیا گیا ہے۔اس کی ٹیگ لائن ’’منافع آپ کا مستقبل پاکستان کا ’’ہے۔سرٹیفکیٹس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت میں بہتری کے لئے سرمایہ کاری کر سکیں گے۔بانڈز کی مدت تین سال اور پانچ سال ہو گی۔

ایک اچھی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے پیسوں سے نہ صرف اچھی اور بہتر اور محفوظ جگہوں پرسرمایہ کاری کرتی ہے بلکہ ساتھ ساتھ وہ ان پاکستانیوں کے مسائل کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہوئے ہر ممکن حل نکالنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے، کیونکہ یہ پاکستانی بیرون ملک پاکستان کے سفیر بھی ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے نہ صرف حکومت،بلکہ وطن عزیز بھی معاشی طور پر مستحکم ہوتا ہے۔انہی پاکستانیوں کے لئے ایک محکمہ اوورسیز پاکستانیز کے نام سے کام کر رہا ہے ۔

پنجاب کی سطح پر اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے نام سے ایک محکمہ قائم ہے،جو اس سلسلے میں گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس ادارے کے چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ہیں،جو انتہائی حلیم طبع اور سادہ عوامی آدمی ہیں۔

اپنے کام میں انتہائی مخلص اور عوام میں مقبول ہیں۔ دوسرے عہدیداروں میں وائس چیئرمین چودھری وسیم اختر ہیں جو انتہائی مخلص ، نیک اور شب و روز محنت کر کے بیرون ملک نہ صرف اپنے ادارے کا،بلکہ پاکستان کا بھی نام روشن کر رہے ہیں۔ اِسی طرح ڈائریکٹر جنرل عثمان انور بھی اس شعبے میں طویل تجربہ رکھتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں بااحسن نبھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنر پنجاب چودھری سرور بھی بیرون ملک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔

اوورسیز پاکستانیز کمیشن کی اس نئی ٹیم نے گزشتہ پانچ چھ ماہ میں ہی اتنا کام کیا ہے کہ شاید ہی پہلے ہوا ہو۔ بیرون ملک پاکستانی بھی اس ادارے کے معترف ہیں۔حال ہی میں ادارے کے دوسرے ممبران کی تقرری کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کو سمری بجھوا دی گئی ہے،جو آج کل عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں ان کی واپسی پر ممبران کی تقرری عمل میں آجائے گی،جس کے بعد ضلع کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور اراکین کی تقرری بھی جلد کر دی جائے گی۔ عدلیہ بھی اس کام میں ادارے کا ہاتھ بٹارہی ہے۔

وہ اس طرح کہ او پی سی کے لئے صوبہ بھر میں عدالتیں مختص کرنے کا پروگرام ہے، جن میں مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کیا جانا لازم ہو گا۔ اس کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے زیر اہتمام خصوصی ڈیسک تشکیل دیا جائے گا جو او پی سی سے مستقل رابطہ میں ہو گا۔ آئی جی پنجاب نے چودھری وسیم اختر سے ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اوپی سی کی جانب سے آنے والی شکایات پر 30 دنوں میں کارروائی کی جائے گی۔

صوبہ بھر میں ڈی پی اوز کے دفاتر میں اوورسیز کمپلینٹ ڈیسک پر انسپکٹر افسر ہوگا اور ان شکایات کو سی پی او، ڈی پی او یا ایس پی رینک کا افسر سنے گا۔ اس سلسلے میں آئی جی پنجاب نے اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کو خود مانیٹر کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

اسی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان میں کاروبار کرنے کے لئے بہترین مواقع بھی فراہم کئے جائیں گے، جس میں ون ونڈو کی سہولیات کے لئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر انتظام کمپلینٹ ویب پورٹل کو دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ادارے کو مزید فعال بنانے کے لئے او پی سی ایکٹ 2018ء میں چند تجاویز بھی کی گئی ہیں جو صوبائی اسمبلی سے منظور کروانے کے لئے محکمہ قانون کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

او پی سی کے وائس چیئرمین چودھری وسیم اختر جس طرح اپنے ملک میں بیرون ملک پاکستانیوں کی خدمت کر رہے ہیں ان کے اثرات بھی جلد آنے شروع ہو جائیں گے۔ عثمان بزدار، چودھری وسیم اختر، عثمان انور اور چودھری سرور جیسے نیک ، مخلص اور محب وطن لوگوں کی ہی وجہ سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔

چودھری وسیم اختر کا واسطہ کیونکہ بیرون ملک پاکستانیوں سے رہتا ہے اسی وجہ سے وہ دوسرے ممالک میں بھی پاکستانیوں کے مسائل سے آگاہ رہتے ہیں اور ان کے حل کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ ان کی اسی پرخلوص خدمت کی وجہ سے نہ صرف اندرون ملک،بلکہ بیرون ملک بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

حکومت کے ان اقدامات سے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد حکومت پر بڑھے گا، بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہماری معیشت بہتر ہوگی۔ بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی بدولت روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور وطن عزیز خوشحال ہوگا۔

مزید : رائے /کالم