دل میں تفتیش کا خطرہ نہیں رہنے دیتے وہ وقوعے کو وقوعہ نہیں رہنے دیتے

دل میں تفتیش کا خطرہ نہیں رہنے دیتے وہ وقوعے کو وقوعہ نہیں رہنے دیتے

19 جنوری 2019ء تاریخ پاکستان میں ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اس روز کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے اہلکاروں نے ایک کار میں سوار اہلخانہ پر بے دریغ گولیاں برسا کر ہلاک کر ڈالا اور ستم بالا ئے ستم یہ کہ اس اندوہناک واقعے پر پردہ ڈالنے کے لئے پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچایا جانے لگا، جاں بحق ہونے والوں کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات جوڑنے کے لئے زمین آسمان کے قلابے ملائے جانے لگے، جھوٹے سچے ریکارڈ گھڑے جاتے رہے، پرانے بستے کھول کر ان میں نئی فائلیں ڈالی گئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متاثرہ خاندان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں لاہور، اسلام آباد ، ساہیوال اور دیگر شہروں کے درمیان فٹ بال بنا دیا گیا۔کبھی صدر مملکت سے ملاقات کے نام پر، کبھی اعلیٰ تفتیشی حکام کے سامنے پیش کرنے اور کبھی مالی امداد کے بہانے در بدر پھیرایا جاتا رہا، غریب، بے آسرا اور شریف شہریوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے شاید ہی کوئی اقدام ہوگا جو استعمال نہ کیا گیا ہو۔ چاہئے تو یہ تھا کہ خون کی ہولی کھیلنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا تاکہ آئندہ کسی پولیس اہلکار کو شریف قانون پسند شہری کی جان سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو، یا پھر کسی بڑے حکومتی ذمے دار کو گرفت میں لے کر ایسی سزا دی جاتی کہ ٹھوس پیغام نیچے ہر پولیس اہلکار تک پہنچتالیکن ایسا اقدام کرنے کے بجائے ہر وہ کام کیا گیا جو جلتی پر تیل کا کام کرتا رہا۔ سانحہ ساہیوال کو ایک ماہ بیتنے کو ہے لیکن ابھی تک بنیادی امور کا تعین نہیں ہو سکا اور یہ بھی طے نہیں کیا جا سکا کہ اتنی بڑی خوں ریزی کا ذمہ دار کون ہے۔؟

غم زدہ خاندان سانحے کے پہلے روز سے اس کی تفتیش کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہے اور اب تک کی جانے والی تفتیش پر بار ہا عدم اعتماد بھی ظاہر کیا جا چکا ہے لیکن ناجانے حکومت اس حوالے سے کوئی مناسب اقدام کیوں نہیں کر پا رہی، کبھی جے آئی ٹی تشکیل دی جاتی ہے تو کبھی جوڈیشل انکوائری کی خبریں سامنے آتی ہیں لیکن متاثرین کے مطالبات کی روشنی میں کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جا رہا جو ان کے زخموں پر مرہم رکھے ۔ اس ساری صورت حال کے پیش نظر روز نامہ پاکستان نے اپنے طور پر اس سانحے کی نجی تفتیش کا بندوبست کیا ، محکمہ پولیس کے ماہر تفتیشی افسروں سے تمام حالات و واقعات کی روشنی میں ان کی آرا حاصل کی گئیں، انہیں حتمی یا قانونی تو نہیں کہا جا سکتا لیکن قارئین کے لئے یہ سانحہ ساہیوال کے مختلف پوشیدہ در کھولنے کا باعث ضرور بنے گی۔ اگر چہ روز نامہ پاکستان ان ماہرین کی آرا خبر کی شکل میں چند روز قبل پیش کر چکا ہے لیکن زیر نظر تحریر میں تفصیلات کے ساتھ بار دیگر پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کی آرا سے قبل سی ٹی ڈی اے سربراہ کا وہ بیان ضرور پڑھ لینا چاہئے جو انہوں نے گزشتہ دنوں جے آئی ٹی کے رو بروز پیش کیا۔

سابق ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہرچار روز قبل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، انھوں نے بتایاکہ ساہیوال آپریشن سے 2 روز قبل 17جنوری کو ذیشان کی گاڑی کا نمبرLEA6683۔12 سیف سٹی اتھارٹی کی واچ لسٹ میں شامل کرا دیاگیاتھا۔ 19جنوری کو صبح 9:30 بجے گاڑی نے مانگا منڈی کو عبور کیا توسیف سٹی کیمروں نے الرٹ جاری کردیا جس پر سیف سٹی انتظامیہ نے سی ٹی ڈی کو گاڑی شہرسے باہرجانے کی اطلاع دی، حکام نے بلاتاخیر لاہورسے ایک ٹیم ایس ایس پی جواد قمرکی سربراہی میں ان کے پیچھے روانہ کی جبکہ دوسری جانب ساہیوال میں بھی سی ٹی ڈی ٹیم کوسفید گاڑی سے متعلق آگاہ کیاگیا، جیسے ہی مشتبہ گاڑی نے ساہیوال ٹول پلازا کراس کیا تو سی ٹی ڈی ساہیوال کی ٹیم نے تعاقب شرو کردیا اور قادرآباد پہنچتے ہی گاڑی روکنے کیلیے ٹائروں پر گولیاں ماریں لیکن اس کے باوجود ذیشان نے گاڑی نہیں روکی۔

سابق ایڈیشنل آئی جی نے اپنے بیان میں بتایا کہ آپریشنل ٹیم کو خدشہ تھاکہ گاڑی میں موجود چاروں افراد دہشت گرد ہیں اور وہ تخریب کاری کیلیے خودکش جیکٹس اور دھماکا خیزمواد ساتھ لے جارہے ہیں، گاڑی کے بائیں جانب پچھلے دروازے کے شیشہ پرکالا رنگ ہونے کی وجہ سے اہلکاروں کو بچوں کی موجودگی کاعلم نہ ہوسکا، فائرنگ شروع ہوتے ہی اگلی سیٹ پربیٹھے مہر خلیل نے اپنی بیٹی منیبہ اور پچھلی سیٹ پر اس کی بیوی نبیلہ نے باقی دونوں بچوں عمیر اور ہادیہ کوفوری طورپر اپنے پیروں میں بٹھالیا، ان کے نیچے جھکنے کی وجہ سے آپریشنل ٹیم کو تاثر ملا کہ وہ بارودی مواد کی مددسے حملہ کرنے لگے ہیں جس کے فوری بعد اہلکاروں نے فرنٹ اسکرین پرفائرکیے، 2سے 3گولیاں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ذیشان کولگیں اور گاڑی دیوار سے جاٹکرائی۔

اس موقعے پر رائے طاہر کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی ٹیم نے شیشے ٹوٹنے کے بعد بچوں کو دیکھتے ہی فائرنگ روک لی اورانھیں گاڑی سے باہرنکالا، اس دوران اہلکاروں کو پچھلی سیٹ پر زخمی حالت میں بیٹھی اریبہ پرشک ٹھہراکہ اس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی ہے، اسی خدشے کی وجہ سے بچوں کوگاڑی سے نکالتے ہی دوبارہ فائرنگ کرنا پڑی جس سے گاڑی میں موجود چاروں افرادکی موت واقع ہوگئی، آپریشن مکمل کرنے کے بعد سی ٹی ڈی ٹیم تینوں بچوں کو ساتھ لے کر اسپتال چھوڑ آئی۔

اب جانیئے پولیس کے ماہر تفتیشی افسروں کی اس حوالے سے مستند آرا۔ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایڈیشنل آئی جی پولیس خادم حسین بھٹی نے سانحہ ساہیوال کو انتہا درجے کا ’’بلنڈر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی حساب میں اس کی منطق سمجھ نہیں آرہی کہ آخر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے کار سوار افراد پر بے دریغ گولیاں کیوں برسائیں، جبکہ انہیں باآسانی گرفتار کیا جانا ممکن تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ بعض اعلیٰ حکام اس گھناؤنے جرم کو چھپانے کیلئے مختلف تاویلیں گھڑ رہے ہیں جو کہ عذر گناہ بدتر از گنا ہ کے مترادف ہے۔ پنجاب پولیس کے سابق ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ میں نے 100سے زائد آپریشن ہینڈل کئے ہیں، اکثر واقعات کے دوران پولیس کا نقصان بھی ہوتا رہا لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ملزم پارٹی سمیت کسی نے ہم پر یہ جھوٹا الزام بھی لگایا ہو کہ پولیس نے ماورائے قانون اقدام کیا ہے، یہ معاملہ آپ کی یا فورس کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سی ٹی ڈی کا کام بڑا خطرناک ہے انہوں نے اس دوران کمال کی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور لشکر جھنگوی سمیت کئی انتہا پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن سی ٹی ڈی کا ہی کریڈٹ ہے، جسے سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئے لیکن 100 اچھے کاموں کو ایک برا کام مکمل ضائع کردیتا ہے۔ خادم حسین بھٹی نے کہاکہ ہم نے دوران سروس 70سے زائد بڑے مجرموں کے خلاف آپریشن کیا لیکن اس کی پلاننگ اور عملدرآمد کا طریقہ کار ایسا فول پروف کیا جاتا تھا کہ کوئی کمی کوتاہی یا لغزش باقی نہ رہے، سانحہ ساہیوال میں یوں لگتا ہے جیسے نوآموز اور ناتجربہ کار فورس استعمال ہوئی جنہیں پولیسنگ کا زیرو تجربہ بھی نہ تھا، وہ معرکہ آرائی سے نابلد تھے، مجرم پکا ہو یا نارمل، دہشت گردوں جیسے بڑے مجرموں کی ہینڈلنگ، تعاقب اور ان کے ساتھ مقابلہ جیسے اہم امور سیکھنے میں عمر لگتی ہے، یہ ڈرائیونگ طرز کی سائنس ہے، جس میں دیکھنا پڑتا ہے کہ گاڑی کہاں آہستہ کرنی ہے، کہاں بریک کی ضرورت ہے اور کہاں گاڑی کوکیسے روکنا ہے۔ سابق پولیس افسرنے ماہرانہ رائے دی کہ سب سے اہم بات انفارمیشن پراسیس کی ہوتی ہے، دوسرا اہم مرحلہ لوکل ایریا کمانڈر کا ہوتا ہے جس نے موقع کی نزاکت کے تحت اہم فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی پارٹی ان تمام مراحل سے ناآشنا ثابت ہوئی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اب کچھ لوگ انہیں بچانے کی خاطر بہانے تراش رہے ہیں، اس سے نا اہل پولیس والوں کے حوصلے مزید بڑھیں گے۔خادم حسین بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سانحہ ساہیوال میں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ گاڑی پر فائرنگ کے احکامات کس نے دیئے، لیکن جنہوں نے عملدرآمد کیا وہ احمق ترین ثابت ہوئے۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنے دور میں کئے جانے والے مختلف آپریشن کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے خادم حسین بھٹی نے کہا کہ بے گناہ شہریوں یا راہ گیروں کو بچانے کیلئے ہم نے اکثر بڑے بڑے ٹارگٹس چھوڑ دیئے، یہی دانشمندی ہے کیونکہ اگر 100 گناہ گاروں کے ساتھ ایک بے گناہ کو سزا ہو رہی ہو تو سب کو چھوڑ دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اگر کسی بڑے مطلوب ملزم کے حوالے سے کسی کے پاس کوئی انفارمیشن تھی، گاڑی اور ملزموں کے حلئے معلوم تھے تو انہیں ایک طویل سفر کے دوران کہیں بھی روک کر ہینڈز اپ کروایا جاسکتا تھا، کون سی قیامت آگئی تھی کہ کارمیں سوار معصوم بچوں اور خواتین کا بھی پاس نہیں کیا گیا۔ سابق ایڈیشل آئی جی پولیس نے اس امر کو نہایت افسوسناک قرار دیا کہ اتنے بڑے سانحے پر بعض ہائی اپس سی ٹی ڈی اہلکاروں کے غلط ایکشن کو درست قرار دے رہے ہیں انہیں اس اقدام کو Justifyنہیں کرنا چاہئے۔

ملک کے مایہ ناز تفتیشی افسر ریٹائرڈڈی آئی جی پولیس احمد خان چدھڑ نے سانحہ ساہیوال کو مس پلاننگ ، مس ہینڈلنگ اور طاقت کے حد سے زیادہ استعمال (Access Use of Force) کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت ہے جس پر پولیس والوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر فوری سماعت کی جائے۔ دوسری جانب جاں بحق شہریوں کے لواحقین کو10 دس کروڑ روپیہ فی کس ہرجانہ اور زخمیوں کو ایک ایک کروڑ روپیہ ادا کیا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بہت بڑا نقصان ہے جس کا مداوا تو ممکن نہیں اور نہ ہی نقصان میں کمی کی جا سکتی ہے لیکن غمزدہ خاندانوں کے زخم مندمل کیا جانا ضروری ہے ، جذبہ ہمدردی کے تحت حکومت متاثرہ خاندانوں کی عمر بھر کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھائے ۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے پولیس کے ماہر تفتیشی افسر سے سانحہ ساہیوال کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اس کی نجی طور پر ابتدائی تفتیش کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے پذیرائی بخشی ، پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی چوہدری احمد خان چدھڑ نے متعلقہ امور کا جائزہ لیتے ہوئے تفتیشی نقطہ نگاہ پیش کیا ۔ یہ بات بڑی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ پولیس افسر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو کے مقدمہ قتل سمیت اہم ملکی و غیر ملکی مقدمات کی تفتیش کر چکے ہیں اور انہیں محکمہ پولیس میں تفتیش کے باوا آدم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔چوہدری احمد خان نے سانحہ ساہیوال کی مختلف دستاویزی اورواقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے خلیل اس کے اہلخانہ اور ساتھی کو بہیمانہ انداز میں قتل کیا ہے جو کہ صریحاً ظلم ہے ، ملتان روڈ پر مانگا منڈی سے ساہیوال تک پولیس کی ریڈنگ پارٹی کو یہ ہی معلوم نہ ہوا کہ گاڑی میں عورتیں اور بچے بھی سوار ہیں ، چودھری صاحب نے قانونی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بڑا دہشتگرد بھی پولیس کو مطلوب ہوتا ہے تو اس کی گرفتاری کیلئے ضابطہ فوجداری میں کچھ حدود و قیود متعین ہیں ، پولیس کو حفاظت خود اختیاری کے تحت صرف اس صورت میں مطلوب شخص پر فائرنگ کا اختیار ہے جب سرکاری اہلکاروں کو اپنی جان کا 100 فیصد اندیشہ ہو ۔تفتیشی ماہر کا کہنا تھا کہ اگر سی ٹی ڈی اہلکاروں کا یہ موقف درست تسلیم کر لیا جائے کہ ذیشان کا تعلق دہشتگردوں کے بڑے نیٹ ورک سے تھا اور وہ ہر وقت خودکش جیکٹ زیب تن کئے رکھتا تھا تب بھی اس گاڑی کو با آسانی روکا جا سکتا تھا جس میں وہ سوار تھا۔سی ٹی ڈی اہلکار اوکاڑہ کینٹ کے مرکزی ناکے پر چیکنگ کے بہانے گاڑی کو سائیڈ پر کر سکتے تھے ، راستے میں 4دیگر مقامات پر پولیس چیک پوسٹ آئیں وہاں روکا جا سکتا تھا ، گاڑی کے کاغذات چیک کرنے کے بہانے کار سواروں کو زندہ قابو کیا جانا کوئی مشکل نہ تھا ۔اتنا بڑا جانی نقصان سی ٹی ڈی اہلکاروں کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے ۔چوہدری احمد خان چدھڑ نے ماہرانہ رائے دی کہ اس کے اس سانحہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سی ٹی ڈی اہلکار نا تجربہ کار ، غیر تربیت یافتہ اور نئے نئے رنگروٹ معلوم ہوتے ہیں ،اسی بناء پر انہوں نے اوپر سے ملنے والے کسی حکم پر بے دریغ اور اندھا دھند فائرنگ سوچے سمجھے بغیر شروع کر دی ۔ان کا کہنا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قافلے پر کراچی میں فائرنگ والے بھی دو تین سال قبل پولیس میں بھرتی ہوئے تھے اور انہوں نے بھی اسی انداز میں مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ عجلت میں کیا تھا ۔اگر سی ٹی ڈی کو واقعی کوئی بڑا دہشتگرد مطلوب تھا جو گاڑی میں سوار کہیں جا رہا ہو تو ابتدا میں گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے تھی ، دوئم یہ کہ گاڑی کے ٹائر برسٹ کئے جاتے اور تیسرے نمبر پر سب سے بڑھ کر یہ کہ گاڑی سواروں کو زندہ حالت میں گرفتار کرنے کو ترجیح دی جاتی ،پولیس والوں نے ایسی کوئی تدبیر نہ اپنا کر ایک خاندان نہیں پوری قوم پر ظلم کیا ہے ۔اس سانحہ سے پولیس اصلاحات اور تربیتی عنصر کی قلعی کھلتی ہے ۔ اس قسم کے سانحات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت پولیس افسروں اور اہلکاروں کو بھی قوانین کا پابند بنائے اور ان کی تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ انسانی جانوں سے کھیلنے کی مجرمانہ غفلت کے مرتکب نہ ہوں۔احمد خان چدھڑ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس امر کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے کہ اہلکاروں کو کار سواروں پر فائرنگ کا حکم کہاں سے ملا تھا ۔ پولیس کے سابق ڈی آئی جی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کرنا بڑی حماقت ہوتی ہے ، سانحہ ساہیوال کے بعد سی ٹی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر سمیت اعلیٰ پولیس افسروں کے خلاف جو کارروائی کی گئی وہ بھی درست نہیں ،رائے طاہر کے دور میں دہشتگردوں کے بڑے بڑے نیٹ ورک توڑے گئے مظفر گڑھ آپریشن سے نو گو ایریاز تک ان کی سربراہی میں انسداد دہشتگردی کی جو تحریک شروع ہوئی تھی وہ قابل تعریف ہے ، سانحہ ساہیوال کی سنگینی اپنی جگہ لیکن اس کے بعد غیر متعلقہ پولیس افسروں کے خلاف ایکشن بھی ٹھیک نہیں ۔ احمد خان چدھڑ کا کہنا تھا کہ اب حکومت ایک نکاتی ایجنڈا طے کرے جس طرح یہ سانحہ مثالی ہے اسی طرح متاثرہ خاندانوں کی امداد بھی مثالی ہونی چاہئے تاکہ غمزدہ لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ جے آئی ٹی کے سربراہ یا اس واقعے کے تفتیشی افسر ہوتے تو کیا کرتے ؟احمد خان کا چدھڑ کا جواب تھا کہ میں سب سے پہلے جائے وقوعہ کا دورہ کرتا اور ذمہ دار سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف دفعہ 302کا مقدمہ درج کر کے انہیں اس میں فوری طور پر چالان کر دیتا ، پھر ساری واقعاتی اور دستاویزی شہادتیں اکٹھی کر کے ملزموں کو عدالت سے سزا دلواتا ۔اس سوال پر کہ کیا یہ قتل عمد ثابت ہوتا ہے کیونکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی متاثرہ فریقین سے کوئی بظاہر دشمنی دکھائی نہیں دیتی تو تفتیشی افسر نے کہا کہ قتل کے ہر واقعے میں وجہ عناد ہونا ضروری نہیں محض اسباب بتا کر بھی قتل ثابت کیا جا سکتا ہے ، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے متاثرین کے خلاف غلط تحقیق کی ،انہیں گرفتار کرنے کی منصوبہ بندی بھی غلط کی گئی اور ایکشن بھی غلط لیا گیا جبکہ سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنے بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا اگر سی ٹی ڈی اہلکار مجرمانہ غفلت نہ کرتے ۔ان کے خلاف قتل کے الزام میں چالان مرتب کیا جانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ302کے عین مطابق ہو گا ۔

پولیس مقابلوں کے ماہر گردانے جانے والے عالمگیر شہرت کے حامل سابق انسپکٹر عابد باکسر کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال کوئی پولیس مقابلہ نہیں تھا بلکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مخالفانہ ردعمل سے گھبرا کر پیشگی فائرنگ کر دی، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ متاثرہ خاندان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہواہے جس کا کوئی مداوا نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ سی ٹی ڈی کی سالہا سال کی اعلیٰ کارکردگی پر پانی پھیر دیا جائے۔گفتگو کے دوران عابد باکسر کا استفسار تھا کہ کوئی شخص پانچ میں سے چار نمازیں باجماعت پابندی کے ساتھ پڑھے اور ایک نماز قصداً بھی چھوڑ دے تو کیا اس کی چار نمازوں کا ثواب ضائع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب سے زیادہ کردار سی ٹی ڈی نے ادا کیا، جسے کسی طور فراموش نہیں کیا جاسکتا، لیکن سانحہ ساہیوال ایک ’’بیڈپیچ‘‘ ضرور ہے۔ میرے خیال میں دہشت گردوں کے حوالے سے پولیس کو جو ٹریننگ دی جا رہی ہے اس میں سمجھایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس بارودی مواد، خودکش جیکٹس اور دستی بم وغیرہ ہوتے ہیں، اس لئے ان پر پولیس پہلے حملہ کرتی ہے۔ عابد باکسر نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ کیا سی ٹی ڈی اہلکار کار سوار مطلوبہ ملزم کے ہینڈ گرنیڈ یا بارودی مواد پھینکنے کا انتظار کرتے اور پھر فائرنگ کرتے، اگر ایسا ہوتا تو سارے سی ٹی ڈی اہلکار گاڑی سمیت ہوا میں تحلیل ہو جاتے۔ اس سوال پر کہ کار میں سوار ذیشان کے دہشت گردانہ نیٹ ورک کے ساتھ روابط کے ثبوت نہیں ملے، عابد باکسر کا جواب تھا کہ ذیشان کے رابطوں کی تصدیق بھی ہوئی ہے اور ثبوت بھی مل گئے ہیں۔ عابد باکسرنے کہا کہ اکثر پولیس مقابلوں میں یہ دیکھا کہ ہمارے ساتھ جانے والے پولیس اہلکاروں سے ملزموں کو دیکھتے ہی خوف کے باعث اچانک گولی چل گئی، ریڈنگ پارٹی نے پسٹل لوڈ کئے ہوتے ہیں، ذرا سا خوف سٹرائیکر دبا دیتا ہے، میرے خیال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ساتھ بھی اسی قسم کا کچھ واقعہ ہوا ہے۔ سانحہ ساہیوال میں خواتین اور بچوں کے مارے جانے کے حوالے سے سوال پر عابد باکسر نے جواب دیا کہ دہشت گردوں کی یہ اطلاعات عام ہوتی ہیں کہ وہ اپنی نقل وحرکت خواتین اور بچوں کی آڑ لے کر جاری رکھتے ہیں لہٰذاہوسکتا ہے کہ اس واقعہ میں اسی قسم کی کوئی اطلاع ہو۔ عابد باکسر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں پوری قوم کے ساتھ بے گناہ متاثرین کے غم میں برابر کا شریک ہوں لیکن ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کی جاسکتی جس سے فورس کا مورال ڈاؤن ہو یا ساری کارکردگی پر گرد پڑ جائے۔سانحہ کے بعد اعلیٰ پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کے سوال پر عابد باکسر نے کہا کہ جہاں تک سی ٹی ڈی کے سربراہ رائے طاہر کو تبدیل کئے جانے کا تعلق ہے تو یہ اقدام بھی مناسب نہیں کیونکہ رائے طاہر کی سربراہی میں دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے کئے گئے اقدامات اور آپریشن اپنی مثال آپ ہیں۔

سی ٹی ڈی میں تعینات ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ساہیوال نے سی ٹی ڈی کی کئی سالوں کی قربانیوں پر پانی پھیر دیا یہ ہمارے اہلکاروں مطلق نالائقی اور نا اہلی تھی کہ انہوں نے گاڑی کو دانش مندی سے روکنے کے بجائے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے پوری فیملی زد میں آ گئی۔ جہاں تک ذیشان کا تعلق ہے تو اس نے کسی حد تک گڑ بڑ معلوم ہوتی ہے، شاہد جبار نامی ایک ملزم ہمیں مطلوب ہے اور ہم طویل عرصے سے اس کے تعاقب میں ہیں ذیشان کے بارے میں اسی نیٹ ورک میں شامل ہونے کی اطلاعات تھیں اور ہمارے اہل کار اسے تلاش بھی کر رہے تھے اس گروپ کے تین چار ملزم ریڈ بک کے اشتہاری مجرم ہیں اور ان کے سروں کی قیمت بھی مقرر ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ سی ٹی ڈی میں جن مجرموں سے مقابلہ کیا ان میں عثمان اور عبدالرحمن وغیرہ بھی اسی گروہ کے رکن ہیں ۔ تفتیشی افسر کے بقول اعلیٰ حکام نے اس گروہ کے بارے میں یہ واضح پیغام دے رکھا تھاکہ اس گروہ کے اراکین کے پاس خود کش جیکٹس ہوتی ہیں اور انہیں زندہ گرفتار کرنا آسان نہیں اگر اہلکار ان میں سے کسی کو بھی پکڑنا چاہیں گے تو وہ اسی وقت اپنے آپ کو بلاسٹ کر سکتے ہیں اس سے پولیس والوں کا بھی خاصہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں شاید ہمارے اہلکاروں نے اسی وجہ سے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، اس اقدام کی کسی طور پر حمایت نہیں کی جا سکتی، یہ پولیسنگ نہیں بلکہ قاتلانہ حملہ ہے۔

سی ٹی ڈی کے تفتیشی افسر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ہمیں اس گروہ کے بارے میں یہ اطلاع بھی ہے کہ اس کے بعض اراکین اپنے ساتھ ایک خاتون کو گاڑی بیٹھا کر موومنٹ کرتے ہیں تاکہ فیملی کا تاثر ملے ، عین ممکن ہے کہ ہمارے اہلکاروں نے سانحہ ساہیوال کے دوران اسی خاتون کے مغالطے میں فائرنگ کی ہو۔ اس سوال پر کہ وہ خاتون کون ہے اور وہ بھی آپ کو مطلوب ہے تفتیشی افسر کا جواب تھا کہ وہ خاتون اس گروہ کے ایک رکن کی اہلیہ ہے اور وہ رکن سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔ ہمیں وہ خاتون انتہائی مطلوب ہے اور اس گرفتاری سے گروہ کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ تفتیشی افسر نے اپنے سربراہ رائے طاہر کے اس معاملے میں تبدیل کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ سی ٹی ڈی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ذمے دار اہلکاروں کی حد تک کارروائی ضرور کی جانی چاہئے لیکن بلا جواز اقدام سے فورس کا مورال ڈاؤن ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 2