حفیظ تائب صاحب! (یوم پیدائش ۔۔۔14فروری1931ء)

حفیظ تائب صاحب! (یوم پیدائش ۔۔۔14فروری1931ء)
حفیظ تائب صاحب! (یوم پیدائش ۔۔۔14فروری1931ء)

  


حفیظ تائب نے اپنے شعری سفر کا آغاز غزل سے کیا لیکن ان کی پہچان نعت بنی۔ غزل سے ایسے تائب ہوئے کہ پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ جناب احمد ندیم قاسمی کہا کرتے تھے ’’ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ حفیظ تائب کے عہد میں زندہ ہیں‘‘۔

اورمیں خود کو اس لیے خوش قسمت جانتا ہوں کہ میں نے تائب صاحب کو اسی شہر میں چلتے پھرتے دیکھا اور ان کا نعتیہ کلام انھی کی آواز میں بارہا سنا ہے۔ میرا یہ اعزاز بھی رہا ہے کہ میں نے انھیں جب بھی کسی نعتیہ مشاعرے کی دعوت دی، وہ کوئی بھی استفسار کیے بغیر چلے آئے۔ یہ بات کہنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہمارے بعض شاعروں پر شہرت کی دیوی مہربان ہوئی تو وہ دوستوں ہی سے مشاعروں میں شرکت کی قیمت وصول کرنے لگے۔ بعضے تو مشاعرے میں شرکت سے پہلے نہایت ڈھٹائی سے پوچھ لیتے : ’’بھئی دو گے کیا؟‘‘ تائب صاحب دوستوں کی دلداری کے لیے ہر چھوٹی بڑی محفل میں ہنستے مسکراتے چلے آتے۔ وضع دار ایسے تھے کہ اگر کسی سے کسی تقریب میں شرکت کا وعدہ کر لیتے تو ناہموار موسم اور طویل فاصلے کے باوجود، مقررہ وقت پر پہنچ کر دم لیتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے اپنے ایک دوست علی نواز شاہ کے ساتھ مل کر شیزان ریسٹورنٹ (مرحوم) میں ایک نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا۔ تائب صاحب وعدے کے مطابق چلے آئے۔ مشاعرے کے بعد ہم سب ریسٹورنٹ سے باہر نکلے تو شدید بارش ہو رہی تھی۔ تائب صاحب کا گھر مصری شاہ میں تھا۔ شمالی لاہور کا یہ علاقہ ان دنوں ذرا سی بارش بھی برداشت نہیں کر پاتا تھا۔ اچھی بھلی سڑکیں تالاب بن جایا کرتی تھی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اُن دِنوں مصری شاہ کی سڑکیں، بارش کے بعد لکشمی چوک کو بھی شرمندہ کر دیا کرتی تھیں۔

علی نوازشاہ نے کہا: ’’ناصر بشیر! تائب صاحب کو ہم دونوں چھوڑنے چلیں گے‘‘۔ علی نوازشاہ کے پاس تب بھی بہت شان دار گاڑی تھی۔ تائب صاحب بولے : ’’نہیں، نہیں! میں خود چلا جاؤں گا‘‘۔ ہم دونوں نے بہت مشکل سے انہیں گاڑی میں بٹھایا اور مصری شاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ سڑکیں حسبِ توقع تالاب بنی ہوئی تھیں۔ علی نوازشاہ کسی ملّاح کی طرح اپنی گاڑی کو کشتی بنا کر بارش کے پانی میں لے گیا۔ تائب صاحب ہمیں بار بار واپس جانے کو کہتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ گاڑی پھنس جائے گی۔ لیکن ہم نے تہیہ کر رکھا تھا کہ تائب صاحب کو ان کے گھر کے دروازے تک چھوڑ کر آئیں گے۔ ہماری ضد دیکھ کر تائب صاحب نے گاڑی کا دروازہ زبردستی کھولا، شلوار کے پائنچے اوپر کیے اور گندے پانی میں اُتر کر چَھپ چَھپ کرتے اپنے گھر کی طرف چل دیے اور ہم انھیں جاتے دیکھتے رہے۔

میں آج بھی جب تائب صاحب کو یاد کرتا ہوں تو انھیں بارش کے پانی میں چَھپ چَھپ جاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ دوسروں کا کتنا خیال کرتے تھے! جو شخص نبیؐ کی سیرت پر عمل پیرا ہو، وہ خود غرض ہرگز نہیں ہو سکتا۔

گُلوں سے دل کی زمینوں کو بھر دیا تُو نے

ضمیرِتیرہ کو گلنار کر دیا تُو نے

غلام کیوں نہ تری عظمتوں کے گُن گائیں

جنھیں تصّرفِ ہر خشک و تر دیا تُو نے

تائب صاحب اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھیں عبدالمجید منہاس جیسا بھائی ملا جو ان کی متاعِ حیات (یعنی ان کی نعتیہ شاعری) کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ستمبر 2017ء میں انھوں نے ’’کلیاتِ حفیظ تائب‘‘ مرتب کراکے شائع کیا۔ اس کلیات میں تائب صاحب کی نعتیہ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی غزلیں اور پنجابی شاعری بھی شامل ہے۔ تائب صاحب کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

تائب صاحب دوسروں کے لیے اپنے دل میں احترام رکھتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے، ان کی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی، کبھی کسی شخص کو ان کی بُرائی کرتے نہیں دیکھا۔ہر شخص اس بات پر نازاں نظر آتا ہے کہ اس نے تائب صاحب کو دیکھا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری کے بارے میں، میرا کچھ کہنا، واقعتاً سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہو گا اس لیے کچھ بُرا نہیں لگے گا اگر میں عصرِ حاضر کے چند بڑوں کی آرا یہاں درج کر دوں۔

شاعر کی حیثیت سے حضرت تائب کی عظمت کے لیے یہی کیا کم ہے کہ وہ مجسّم نعت ہیں۔۔۔ ان کی ذات میں نعت کی ایک نئی دنیا تعمیر ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ نعتیہ شاعری کے فروغ کے لیے، اس دور میں ایسی جامع شخصیت ملی ہے جو محض فضل ربانی ہے۔

(ڈاکٹر سید رفیع الدین ہاشمی)

میں نعت کے اس دور کی خُوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ اس دور کو حفیظ تائب کا سا نعت گو نصیب ہوا۔ چنانچہ بیسویں صدی کی نعت کا عنوان حفیظ تائب کی نعت ہے اور دیگر سب نعت گو ان کے مقلد ہیں۔

(احمد ندیم قاسمی)

میری نظر میں اردو میں ایسا کوئی دوسرا مجموعہ ء نعت نہیں ہے جو مطالب اور ادائے مطالب دونوں کے اعتبار سے حسن کاری کی اعلیٰ مثال ہو۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے درمیان ایسا شاعر بھی موجود ہے جس نے نعت گوئی کو معجزۂ فن بنا دیا ہے۔

(مشفق خواجہ)

فقیر کے نزدیک حفیظ تائب عصر حاضر میں قلم رو نعت کا تاجدار ہے۔

(حافظ محمد افضل فقیر)

اہل علم و ادب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حفیظ تائب عصرِ حاضر کا سب سے عظیم نعت نگار ہے۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔

(حافظ لدھیانوی)

اس میں کوئی شک نہیں کہ حفیظ تائب کی رحلت کے باوجود ہم نعت گو حفیظ تائب کے عہد میں نعت گوئی کر رہے ہیں۔ یقیناًآنے والا ہر زمانہ اس پر مُہرِ تصدیق ثبت کرے گا۔

(ڈاکٹر سلیم اختر)

حفیظ تائب نے صنف نعت کو جس طرح اپنایا اور اسے ثروت مند کیا، اس کا جواب پوری اردو شاعری میں نہیں ملتا۔۔۔ حفیظ تائب اردو نعت کی پوری تاریخ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

(ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا)

ہمارے معاصرین میں جناب حفیظ تائب کو عرصہ نعت کا نمایاں ترین شہسوار تسلیم کیا گیا ہے۔۔۔ ایسے ہمہ پہلو اور نغز گو شاعر کا کلام قوم و ملک کے لیے سرمایہ ء افتخار ہے۔

(ڈاکٹر خورشید رضوی)

تائب صاحب جدید نعتیہ شاعری کی عمارت کے اولین اور مضبوط ترین ستون ہیں۔

(عطاء الحق قاسمی)

مدحِ رسولؐ سمندر کو قطرے میں اور کل کو جز میں محدود کرنے کا ناممکن عمل سہی مگر نعت کے آئینے میں اس کے جس قدر عکس حفیظ تائب نے جمع کیے ہیں، ہمارے دور کے کسی بھی اور نعت گو سے بن نہیں آئے۔

(امجد اسلام امجد)

اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تخلیقِ پاکستان کے بعد اردو کا ممتاز ترین نعت گو کون ہے تو میں بلا تامل جناب حفیظ تائب کا نام لوں گا۔

(ڈاکٹر تحسین فراقی)

ثنائے رسولِ اول و آخرؐ کے حوالے سے یہ عہد بلا شبہ حفیظ تائب کا عہد ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی عروس سخن کی حنا بندی کا فریضہ حفیظ تائب کا یہی شعور ثنا اور یہی اندازِ نعت سرانجام دے گا۔

(ڈاکٹر سید آفتاب احمد نقوی)

حفیظ تائب نعت کی دنیا میں قدیم و جدید شعرا میں سب سے نمایاں شاعر ہیں۔

(ڈاکٹر عزیز احسن)

مزید : رائے /کالم


loading...