نشتر امین ادویات بحران گندگی صوبائی وزیر صحت کا نوٹس ایم ایس کی سرزنش وارننگ

نشتر امین ادویات بحران گندگی صوبائی وزیر صحت کا نوٹس ایم ایس کی سرزنش وارننگ

ٍ ملتان ( نیوز رپورٹر، وقائع نگار)صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدکی صدارت میں نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مختلف امور زیر بحث لاتے ہوئے ان پر فیصلے کئے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے(بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو علاج معالجہ کی جدید اور بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ایم ایس اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے انجام دیتے ہوئے ہسپتالوں کی صفائی، ڈاکٹرز اور عملہ کی حاضری اور ادویات کی مفت فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتہ سے پنجاب بھر میں خصوصی کمیٹیاں ہسپتالوں کا معائنہ کر کے حاضری، صفائی اور ادویات بارے رپورٹ دیں گی۔ اس حوالہ سے غفلت کے مرتکب پائے جانے والے ایم ایس کو فارغ کرنے کے علاوہ اس کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے نشتر ہسپتال میں صفائی کی ناقص صورت حال ، ادویات کی عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس کی سرزنش کی انہی تنبیہہ کی کہ وہ ہسپتال کے انتظامی امور کو فوری بہتر بنائیں۔ اجلاس میں نشتر ہسپتال کی ڈائیلاسز مشینوں اور سٹی سکین مشین کی سالانہ دیکھ بھال اور مرمت کے لئے غیر ملکی کمپنی کو 96ہزار ڈالر سالانہ کی بجائے 74ہزار ڈالر سالانہ میں ٹھیکہ دینے کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹی کے لئے لائبریری اور رہائشی بلاکس بنانے کے لئے پی سی ون ہائیر ایجوکیشن کمیشن کوبھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نشتر ہسپتال اور نشتر ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ کو یونیورسٹی سے منسلک کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران ہسپتال کے ہاؤس آفیسرز رومز میں رہائش پذیر ڈاکٹرز سے قانون کے مطابق کرایہ اور بجلی کے بل کی وصولی کی منظوری دی گئی۔ بجلی کے بلوں کے لئے سب میٹر بھی لگائے جائیں گے۔ سکیل 5سے16تک بھرتیوں کے لئے ٹیسٹنگ سروس کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سکیل ایک سے 4تک بھرتیاں وائس چانسلر کمیٹی کے تحت کرسکیں گے۔ بھرتیوں میں شفافیت کے لئے میرٹ پر سختی سے عمل در آمد کیا جائے گا۔جعلی اسناد پر بھرتی ہونے والے ملازمین کو کارروائی کے بعد تعلیم کے مطابق عہدہ پر لوٹانے اور تنخواہ کی وصولی کے لئے کمیٹی کو طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کا اختیار دیا گیا۔اجلاس کے دوران نشتر ہسپتال آؤٹ ڈور میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ، توانائی کے متبادل ذریعہ کے لئے سولر سسٹم کی تنصیب اور ویڈیو کانفرنس لنک سسٹم کی تنصیب کے لئے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ صوبائی وزیر نے سابقہ ادائیگیوں کے حوالہ سے ایجنڈا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے 30۔ارب روپے کے چیک جاری کئے جن کی عدم ادائیگی پی ٹی آئی حکومت کے گلے پڑ گئی،ہم ان ادائیگیوں کو بھی یقینی بنارہے ہیں۔ اجلاس میں نشتر ہسپتال کی طرف سے ایم ایس رمز کمپنی کو تقریباً 13کروڑ 49لاکھ روپے کی عدم ادائیگی بارے عدالتی فیصلہ پر کمیٹی کو تمام امور کا جائزہ لے کر ادائیگی یقینی بنانے کے لئے مروجہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ اجلاس میں سنڈیکیٹ کے دو نئے ممبران کے نام کی نامزدگی کی منظوری دی گئی۔ ایم پی اے سلیم اختر لابر کو سنڈیکیٹ ممبر اور سلیکشن بورڈ بنانے جبکہ ایم پی اے سبین گل کو سنڈیکیٹ ممبر بنانے کے منظوری دی گئی۔جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان کا ایک وفد صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ھراج کی قیادت میں صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر یاسمین راشد سے سرکٹ ھاوس ملاقات کے لیے پہنچا اور انہیں ضلع ملتان و تحصیل شجاع آباد و جلال پور میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ وفد نے اپنی تحریروں یاداشت میں وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے منظور شدہ بیڈز کے حساب سے تمام کیڈرز کے ڈاکٹروں اور خصوصا گائنی، نیوروسرجری، ریڈیالوجی میں پی جی آرز کی سیٹوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، ڈسٹرکٹ ھسپتال ملتان کی نئی تعمیر شدہ عمارت کی جلد تکمیل کے بعد اسے فعال کیا جائے اور موجودہ ڈسٹرکٹ شھباز شریف و فاطمہ جناح ھسپتال کو گائینی ڈیپارٹمنٹ میں منتقل کر کے اسکو نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ماتحت کیا جائے، سول ھسپتال کی موجودہ عمارت چلڈرن ھسپتال کمپلیکس ملتان کو دے کر اسکی تمام تر خالی آسامیوں پر فوری بھرتی کا عمل شروع کرایا جائے، نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینسٹسٹری کے مسائل اور ان کے حل کے لئے اسے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کرایا جائے اور اسکا مستقل پرنسپل تعینات کیا جائے، نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ہیپاٹائٹس کلینک کو فوری طور پر فعال کیا جائے، نشتر میں ڈاکٹرز رہائشی ٹاور کی تعمیر،نشتر ٹو کا منصوبہ اسی مالی سال سے شروع کرایا جائے، پنجاب بھر کے تمام تحصیل و ڈسٹرکٹ ھسپتال کی طرح ملتان کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی تنخواہوں سے ماھانہ چالیس فیصد کٹوتی بند کی جائے۔ صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر یاسمین راشد نے پی ایم اے ملتان کے وفد کی تمام ڈیمانڈ کو منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ڈاکٹروں کے تمام الاونس بحال کئے جائیں گے،وفد میں شامل جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رانا خاور ڈاکٹر عباس نقوی ڈاکٹر مرتظی بلوچ ڈاکٹر امجد باری ڈاکٹر ھاجرہ مسعود ڈاکٹر حمیرا بشیر ڈاکٹر شیخ عبدالخالق ڈاکٹر روالقرنین حیدر ڈاکٹر ندیم اقبال اور عمران رفیق شامل تھے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے )پنجاب کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر عباس نقوی نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات کی۔انہیں ایف بی آر کی جانب سے گجرات میں ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے بارے تشویش سے آگاہ کیا۔پروفیسر عباس نقوی نے نشتر ٹو کا منصوبہ جلد شروع کرنے،نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں فیکلٹی کی کمی پوری کرنے،پوسٹ گریجوایٹ رجسٹرار کی آسامیاں بڑھانے،ہسپتالوں میں ادویات کی کمی پورا کرنے،صحت کارڈ پروگرام میں ڈاکٹروں کو شامل کرنے سمیت دیگر مطالبات و مسائل سے آگاہ کیا۔وزیر صحت نے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔صوبائی منسٹر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی آمد پر ملتان کے تمام سرکاری ہسپتال الرٹ رہے۔ہسپتالوں کی انتظامیہ نے صفائی کا خاص خیال رکھا۔ڈاکٹرز۔نرسیں اور پیر ا میڈیکل سٹاف چھٹیاں منسوخ ہونے پر ڈیوٹی پر موجود رہے ہیں۔

یاسمین راشد

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...