قدرتی وسائل ٹیلنٹ ضائع کرنے کیلئے جنوبی پنجاب کو پسماندہ رکھا گیا ،عثمان خان کاکڑ

قدرتی وسائل ٹیلنٹ ضائع کرنے کیلئے جنوبی پنجاب کو پسماندہ رکھا گیا ،عثمان خان ...

مظفر گڑھ ‘ راجن پور (بیورورپورٹ،نامہ نگار ‘ڈسٹرکٹ رپورٹر )سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی کاضلع راجن پور کے مسائل جاننے کے لیے دورہ، کمیٹی کو نمائندگان ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ضلع راجن پور اور ڈپٹی کمشنر و ڈی پی او راجن پور کی جانب سے ضلع (بقیہ نمبر25صفحہ12پر )

بھر کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ،کمیٹی نے اپنی سفارشات سینیٹ میں پیش کرنے اور پسماندہ علاقوں خصوصاً ضلع راجن پور کی تعمیر و ترقی کے لیے بھر پور کوششیں کرنے کی یقین دہانی کرائی، تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے چیئرمین سینیٹر محمدعثمان خان کاکڑ کی زیرِ صدارت ضلع راجن پور کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل بارے آگاہی حاصل کرنے کے لیے ضلع راجن پور کا دورہ کیا۔ کمیٹی کے ممبران سینیٹرگیان چند، سینیٹرمحمدایوب اور سینیٹر سردار محمد شفیق ترین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پورمحمد الطاف بلوچ نے کمیٹی کو نمائندگان ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ضلع راجن پور اور تمام محکموں کے سربراہان کے ہمراہ ضلع کے تمام مسائل اور ان کے ممکنہ حل بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ ممبران کمیٹی نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال راجن پور اورکا بھی دورہ کیا۔انہوں نے اسپتال میں صفائی کی اچھی صورتحال پر اطمینان جبکہ ڈاکٹروں کی کم تعداد پر تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان سے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات بارے بھی استفسار کیا۔بعد ازاں ممبران کمیٹی نے حضرت خواجہ فرید کے دربار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ملکی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کی۔ممبران کمیٹی نے دربار حضرت خواجہ فرید سے ملحقہ میوزیم کا بھی دورہ کیا ، وہاں حضرت خواجہ فرید سے منسوب نادر اشیاء اور ان کے کلام کے نایاب نسخے دیکھے اور چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے وزیٹر رجسٹر میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ جس کے بعدکمیٹی کے تمام ممبران اور ڈپٹی کمشنر محمد الطاف بلوچ نے سرسبز و شاداب پاکستان پروگرام کے تحت خواجہ فرید پارک کوٹ مٹھن میں پودے لگائے۔بعدازاں انہوں نے مقامی انتظامیہ کے ہمراہ محمد پور گم والا کے قریب کاہا اور چھاچھڑ اور دیگر رودکوہیوں کے پانی کو زیر استعمال لانے کے قطب ڈرین توسیعی اور بحالی کے منصوبے کی بھی بریفنگ لی اور وہاں کی مقامی آبادی سے درپیش مسائل بارے بھی دریافت کیا۔ اس دورہ کے دوران سینیٹ آف پاکستان کی فنکشنل کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محمدعثمان خان کاکڑاور دیگر ممبران نے کہا کہ ضلع راجن پور کے پیش کیے گئے تمام مسائل بارے نہ صرف سفارشات پیش کی جائیں گی بلکہ یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ مستقبل کے بجٹ اور پالیسیوں میں ضلع راجن پور کی تعمیر و ترقی کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کو بتایا کہ کمیٹی پورے پاکستان کے کم ترقی والے اور پسماندہ اضلاع کا دورہ کررہی ہے تاکہ ان علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی سفارشات پیش کی جائیں اور ان علاقوں کو بھی ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے کم ترقی یافتہ علاقوں کو اس لیے ماضی میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا تاکہ یہاں پائے جانے والے انمول قدرتی وسائل کو ضائع کیا جائے اور صرف ایک مخصوص طبقہ کو ہی لوگوں پر حکومت کرنے دی جائے ۔ انہوں نے مقامی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اپنے لوگوں کے حق کے لیے پارلیمان میں آواز اٹھائیں ہم ان کی آواز کو مزید توانا بنائیں گے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ نہ صرف ضلع راجن پور کی تعمیر وترقی کے لیے کمیٹی اپنی جاندار سفارشات پیش کرے گی بلکہ ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی کہ ضلع راجن پور کی پسماندگی اور محرومیوں کو ختم کیا جائے ۔سینٹ وفاق کی علامت ہے جہاں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہوتی ہے اور برابری کی سطح پر اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ملک کے پسماندہ علاقوں کی محرومی کو ختم کرنے کیلئے ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا، برابری کی سطح پر وسائل فراہم کرنا ہونگے، بے روزگاری کا ختم کرنا ہوگا، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہونگی، ہر سیکٹر میں انکی محرومی اور کمی کو ختم کرنا ہو گا اور برابری کی سطح پر ترقی دینا ہوگی ان خیالات کا اظہار سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کے چیئر مین سینیٹر محمد عثمان کاکٹر نے مظفرگڑھ کے دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر آفس میں ضلعی محکموں کے افسران، سیاسی ،سماجی و عوامی نمائندگان کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سینیٹرگیان چند، سینیٹر محمد ایوب، سینیٹر سردار محمد شفیق ترین اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور بھی ان کے ہمراہ تھے، چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان کاکٹر نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدری وسائل و ذخائر سے مالا مال کیا ہے لیکن بدقسمتی سے جس علاقوں میں یہ ذخائر و وسائل نکلتے ہیں وہ ہی زیادہ پسماندہ ہیں، جبکہ ترقی یافتہ علاقوں کی نسبت ان وسائل کے زیادہ حقدار یہ پسماندہ علاقے ہیں،انہوں نے کہا کہ سینٹ کے ایوان نے یہ اقدام اٹھایا اور کمیٹی بنائی جو پاکستان کے پسماندہ علاقوں کا مسائل کو دیکھ رہی ہے اور ایک جامعہ رپورٹ سینٹ کے ایوان میں پیش کرے گی اور حکومت کو ان مسائل پر توجہ دلائے گی ، اور ان مسائل کے حل اور ترقی کیلئے موثر اقدامات کرنے کیلئے مجبور کیا جائے گا، تاکہ کسی بھی منصوبہ بندی کے وقت ان علاقوں کے مسائل کو ذہن میں رکھا جائے ، اجلاس میں سینیٹر گیان چند سینیٹر محمد ایوب، سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت برابری کی سطح پر ترقی کیلئے کوشاں ہے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات ترجیح بنیادوں پر فراہم کی جارہی ہیں۔ ہم پسماندہ علاقوں کی آواز بنیں گے ، سرائیکی صوبہ کے قیام پر کام ہورہا ہے یہ یہاں کی عوام کا حق ہے، یہاں کی اپنی زبان اپنی ثقافت ہے جو صدیوں کی تاریخ پر محیط ہے۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور نے ضلع مظفرگڑھ کے جغرافیہ، تاریخ ، وسائل اور مسائل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پسماندگی کے لحاظ سے ضلع مظفرگڑھ پنجاب کے آخری 4اضلاع میں شامل ہے جہاں صفائی، سیوریج، صاف پانی ، سڑکوں کی کمی، سٹریٹ لائیٹس ، سبزے ، پارکوں ، سٹیڈیم ، کھیلوں کے میدان اور تفریحی مقامات کی کمی ہے ، فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث صحت و صفائی اور تعلیم کے متعدد منصوبہ جات تاخیر کا شکار ہیں، اجلاس میں محکمہ آبپاشی، محکمہ ہائی وے ، محکمہ گیس، میپکو، ریلوے،ماحولیات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ چیئرمین ضلع کونسل ،چیئرمین میونسپل کمیٹیز نے اپنے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا، اجلاس میں پروفیسر افتخار ہاشمی نے ضلع مظفرگڑھ میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے بھر پور سفارش کی، راؤ ظفر اقبال نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی کو فعال کرنے کی سفارش کی ، اجلاس میں ایم پی اے نوابزادہ منصور احمد خان، سابق ایم پی اے غلام مرتضیٰ رحیم کھر، سابق ایم پی اے میاں عمران قریشی، فاروق احمد کھیڑا، چیئرمین ضلعی کونسل سردارحافظ عمر خان گوپانگ، چیئر مین میونسپل کمیٹی سردار اکرم خان چانڈیہ، اے ڈی سی ریونیو عطا الحق، مظہر پہوڑ، صفدر پہوڑسمیت میونسپل کمیٹیز کے چیئرمین،پاکستان مسلم لیگ ق، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ن کے نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...