آشیانہ سکینڈل ، شہباز شریف کے جواب پر نیب کا جواب الجواب جمع، فواد حسن کے اکاؤنٹس اور انکم ٹیکس ریٹرز کی تفصیلات طلب

آشیانہ سکینڈل ، شہباز شریف کے جواب پر نیب کا جواب الجواب جمع، فواد حسن کے ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور مسٹر جسٹس مرزاوقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو نیب نے دوران تفتیش شہباز شریف کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب اور ان کے موقف پر نیب کے جواب الجواب کی نقل جمع کروادی جبکہ شہباز شریف کی رمضان شوگرملز کیس میں ضمانت کی درخواست کی سماعت نیب کے پراسکیوٹر کی استدعا پر آج 14فروری تک ملتوی کردی گئی۔فاضل بنچ نے رمضان شوگرملز کیس میں مختلف نکات پر فریقین کے وکلاء سے جواب طلب کرلیاہے۔فاضل بنچ نے استفسار کیا ہے کہ کیسے طے ہو گا رمضان شوگر ملز کے قریب نالہ ذاتی مفاد یا عوامی مفاد کیلئے بنایا گیا؟کیا صوبائی حکومت نے فنڈز جاری کرنے تھے یا لوکل گورنمنٹ نے فنڈز جاری کرنے تھے؟ جاری کئے گئے فنڈز کی قانونی حیثیت کیاہے ؟چنیوٹ میں اسی قسم کی کتنی اور سکیمیں باقی اضلاع میں بنائی گئیں، عدالت نے وکلاء کونالہ سکیم کیلئے فزیبیلٹی رپورٹ اور پنجاب اسمبلی کی منظوری پر دلائل دینے کی ہدایت بھی کی ۔لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادیا شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اور رمضان شوگر مل کیس میں درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے نیب نے دوران تفتیش شہباز شریف کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب اور شہباز شریف کے موقف پر نیب کے جواب الجواب کی کاپی لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی شہباز شریف کی جانب سے دوران تفتیش نیب کو جمع کروائے گئے بیان میں سابق وزیر اعلی نے موقف اختیار کیا ہے کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے پبلک سیکٹر کمپنی پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی میں ہدایات جاری کیں، شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ کمپنیز اور محکمے خود ہی وجود میں نہیں آتے، حکومت کے تابع ہوتے ہیں، شہباز شریف نے واضح کیا کہ پبلک سیکٹر کمپنیز کے قیام کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے، شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ کمپنیز کی کارکردگی پر نظر رکھنا وزیراعلی اور دیگر نمائندگان کی ذمہ داری ہے، شہباز شریف کے مطابق پنجاب حکومت پنجاب لینڈڈویلپمنٹ کمپنی میں 99.70 فیصد شیئرز کی مالک ہے پی ایل ڈی سی کے سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی پنجاب حکومت کرتی ہے پنجاب حکومت ہی پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے تمام اخراجات کی ذمہ دار ہے،شہباز شریف کے مطابق پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی پنجاب حکومت کے اہداف اور پالیسی پر عملدرآمد کی پابند ہے لہٰذا درخواست ضمانت منظور کی جائے دوسری جانب نیب نے شہباز شریف کے جواب پر جواب الجواب بھی ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا نیب نے موقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کی جانب سے ایوارڈ کردہ کنٹریکٹ پالیسی کے متصادم ہے نیب کے مطابق کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی موجودگی میں وزیراعلی پنجاب بھی کمپنی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے نیب نے واضح کیا ہے کہ ملزم کی جانب سے کمپنی سے متعلق کیے گئے تمام فیصلے غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں نیب نے شہباز شریف کے جواب پر جواب الجواب میں مزید کہا ہے کہ پی ایل ڈی سی نے کنٹریکٹ ایوارڈنگ کو پالیسی کی بجائے کاروباری نوعیت کا معاملہ تصور کیا لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہا ہے جس پر شہباز شریف کے وکیل نیب کے موقف کی مخالفت کر چکے ہیں ۔فاضل بنچ کے روبرو نیب پراسکیوٹر نے رمضان شوگر ملز کیس میں دلائل کیلئے عدالت سے مہلت کی استدعا کی جسے منظور کر لیا گیا،اس کیس کی مزید سماعت آج ہوگی۔

رمضان شوگر ملز کیس

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے نیب سے فوادحسن فواد کے بنک اکاؤنٹس اور انکم ٹیکس ریٹرنز کی تفصیلات طلب کر لیں۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس مرزاوقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو فواد حسن فواد کے وکیل نے آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں درخواست ضمانت پراپنے دلائل مکمل کر لئے۔ عدالت نے نیب کے وکیل کو آج14فروری کو دلائل دینے کی ہدایت کی ہے ،فواد حسن فواد کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ فواد حسن فواد پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدنی سے زائد اثاثوں کا الزام بے بنیاد ہیں ،آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب نے ابھی فواد حسن فواد کیخلاف ریفرنس دائر نہیں کیا ،عدالتی استفسار پر نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ فواد حسن فواد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور انکم ٹیکس ریٹرنز کا ریکارڈ حاصل کرلیا گیاہے، عدالت نے تفصیلات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے پر نیب پراسیکیوٹر کی سرزنش کی اور ریمارکس دئیے کہ انہوں نے تماشہ لگایا ہوا ہے، جائیں ابھی ریکارڈ لے کر آئیں ،عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ نیب نے کہا ہے کہ کامران کیانی کے اکاؤنٹس سے پیسے فواد حسن فواد کے بھائی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے ،بتائیں فواد حسن فواد کے اثاثوں کی تفصیلات کیا ہیں ؟تفتیشی افسر نے وضاحت کی کہ فواد حسن فواد پر بنیادی طور پر 6 الزامات ہیں ،فواد حسن فواد کا راولپنڈی میں 5ارب کا ایک پلازہ ہے، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ فواد حسن فواد کے 14 بے نامی اکاؤنٹ ہیں ،نیب پراسیکیوٹر نے نشاندہی کی کہ فواد حسن فواد کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ،فواد حسن فواد کے وکیل نے نیب کے موقف کی مخالفت کی اور دلائل دئیے کہ 5 جولائی 2018ء کو آشیانہ سکیم میں فواد حسن کو گرفتار کیا گیا،3 اگست 2018ء کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ان کی گرفتاری ڈالی گئی ،نیب آرڈیننس کی دفعہ 24 (اے )کے تحت ملزم کے وارنٹ گرفتاری کسی دوسرے کیس میں استعمال نہیں ہوسکتے ،ملزم پر 14بے نامی دار اکاؤنٹس رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے، فواد حسن فواد کے وکیل نے نشاندہی کی کہ راولپنڈی میں 5 ارب کا پلازہ رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے جس کا تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کیا ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ فواد حسن نے نوکری کب شروع کی اور کس عہدہ ہر بھرتی ہوئے؟ وکیل نے بتایا کہ فواد حسن فواد 1987ء میں اسسٹنٹ کمشنر بھرتی ہوئے ،فواد حسن فواد کی فیملی نے 2006ء میں تعمیراتی کمپنی قائم کی 50 فیصد شیئرز والد محمد یعقوب، 25 فیصد بیوی رباب حسن و دیگر کے ہیں ۔راولپنڈی کشمیر روڈ پر 15 منزلہ دی مال پلازہ کی 8 کنال زمین کاگل زرین خان کمپنی کے پاس مختار عام تھا، وکیل نے بتایا کہ پلازے کی زمین کراچی کی رہائشی خاتون راشدہ دربار کے نام پر ہے ،کے ایل آئی آر موریشیس کی کمپنی ہے ایف وائی سی کمپنی نے 2013 ء میں ایس ایس آر کے شیئرز کے ایل آئی آر سے خریدے ،جسٹس شہزاد احمد نے فواد کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ مانتے ہیں کہ اس پلازے کی قیمت 5 ارب روپے ہے ،جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی 5ارب ہے لیکن3 ارب کا بینک قرض ہے، وقار حسن نے اپنا 5کنال کا پلاٹ ایگریمنٹ میں گل زریں کمپنی کو دیا، فواد حسن فواد کے وکیل نے دلائل دئیے کہ جے ایس بینک اور سلک بینک سے 2ارب 80کروڑروپے قرض لیا گیا ،عدالت نے قاضی مصباح ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ کس زمین کے عوض قرض لیا ؟وکیل نے بتایا کہ جس زمین پر پلازہ بنا اسی زمین پر قرض لیا گیا، زمین کا 43 کروڑ کیش بینکوں کے ذریعے گل زرین کمپنی کو دیا اور 50 کروڑ روپے کا حیدر روڈ والا پلاٹ دیا گیا،فواد حسن فواد کے وکیل نے یکم جنوری 2012ء سے 2018ء تک کی بینک ٹرانسزیکشن عدالت میں پیش کیں ،عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی سرکاری ملازمت میں آتا ہے تواپنے اثاثے ظاہرکرتا ہے، اس وقت ملزم کے کتنے اثاثے تھے؟وکیل نے بتایا کہ ملزم کے اس وقت کے اثاثوں کے بارے میں معلوم نہیں ،فواد حسن فواد کے وکیل قاضی مصباح ایڈووکیٹ نے دلائل مکمل کرنے پر عدالت نے ان کی تعریف کی جبکہ نیب کے وکیل کو جوابی دلائل کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج 14فروری پر ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول


loading...