قومی اسمبلی کی 11قائمہ کمیٹیوں کے چیئر مین منتخب ، 6کی صدارت ، پی ٹی آئی ، 3کی ن لیگ اور 2کی پی پی پی کو مل گئی

قومی اسمبلی کی 11قائمہ کمیٹیوں کے چیئر مین منتخب ، 6کی صدارت ، پی ٹی آئی ، 3کی ن ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کے اراکین نے11قائمہ کمیٹیوں کا چیئرمین منتخب کرلیا،6کمیٹیوں کی صدارت حکمرا ں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پاس آئی جبکہ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن)کو3اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 2کمیٹیوں کی سربراہی ملی۔تحریک انصاف کے مجاہد علی کو قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور، منزہ حسن کو ماحولیاتی تبدیلی، فیض اللہ کو خزانہ اور معاشی امور، امجد علی خان کو دفاع، ملک محمد عامر ڈوگر کو حکومتی ضمانت اور رانا محمد قاسم کو ضابطہ اور مراعات کا سربراہ منتخب کیا گیا۔مسلم لیگ (ن)کے محمد اجمل خان کو قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق، رانا شمیم احمد خان کو کشمیر امور و گلگت بلتستان جبکہ شیخ فیاض الدین کو قائمہ کمیٹی تارکین وطن پاکستانی و انسانی ترقی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کو قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل اور سید مصطفی محمود کو چیئرمین قائمہ کمیٹی نجکاری منتخب کیا گیا۔خیال رہے قانون کے تحت قائد ایوان وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد 30روز میں سپیکر اسمبلی تمام قائمہ اور فعال کمیٹیاں قائم کرنے کے پابند ہوتے ہیں،لہٰذا18اگست کوعمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سپیکر اسمبلی کو 17 ستمبر تک پارلیمنٹ کی 3درجن سے زائد کمیٹیوں کا قیام عمل میں لانا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔مذکورہ معاملے پر اپوزیشن اور حکومت کے ٹھوس مو قف کے باعث تاحال قومی اسمبلی کے اجلاس قائمہ کمیٹیوں کے قیام کے بغیر ہورہے تھے۔اپوزیشن نے دھمکی دی تھی پارلیمانی روایت کو برقر ا ر رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اگر پی اے سی چیئرمین شپ نہیں دی گئی تو وہ تمام کمیٹیوں کا بائیکاٹ کردے گی، جس کے باعث اسپیکر اسد قیصر نے کمیٹیوں کے قیام کا عمل روک دیا تھا۔بعد ازاں سخت ترین ڈیڈ لاک اور سپیکر قومی اسمبلی ، وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے اپوزیشن کیساتھ معاملات طے کرنے کی کوششوں کے بعد بالآخر حکومت نے پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار اپوزیشن کے حوالے کردیا تھا۔جس کے بعد 21دسمبر کو شہباز شریف بلا مقابلہ چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی(پی اے سی) منتخب ہوگئے تھے۔

قائمہ کمیٹیاں سربراہی

مزید : صفحہ اول